اِک سلسلۂ نور و ہدایت غدیر میں
اِک غُلغُلۂ فضل و فضیلت غدیر میں

 




ذوق تخلیق خالق ہستی 
اس کو رکھتا ہے بے قرار سدا 

 




میرِ محفل کون ہوگا چاند کے گہنے کے بعد
رات شمعیں بجھ گئیں تاروں سے یہ کہنے کے بعد

 




آپ ساماں تو ذرا کیجئے جلنے کے لیے
دل ہے تیار ان آنکھوں سے پگھلنے کے لیے

 




ذکر کر ہادیانِ برحق کا
حق کے چشموں کو یوں شمارا کر

 




اگر ہو جائے تُو راضی تَو پھر مشکل نہیں بازی
مری ہمت سے بالا ہے وگرنہ عہدِ دم سازی

 




کوثرِ الفت کے چھینٹے میرے گیتوں کا نکھار
شعر بکھرائیں مرے تیری مودّت کی پھوار

 




سیدۂ اہل جنت کا یہی معنی تو ہے
کوثر و تسنیم پر ہے اختیار فاطمہ

 




مسکراتی ہے قضا شمشیر دوسر دیکھ کر
سرنگوں ہے بابِ خیبر دست حیدرؑ دیکھ کر

 

احمد ندیم قاسمی

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا
تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پہ جب لوٹتی ہیں
نور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا