بہرِ لبم شرابِ طہور اسوۂ رسولؐ
در جامِ ناب وجہِ سرور اسوۂ رسولؐ

 




مدّاحیٔ خواجہؐ نہیں محنت کے ثمر میں
ہیں ساری کرامات بس اِک حُسنِ نظر میں

 




ذوق تخلیق خالق ہستی 
اس کو رکھتا ہے بے قرار سدا 

 



یہ خالی کوزہ کس کا ہے؟
یوں لگتاہے اک عرصے سے 
یہ کوزہ خود بھی پیاسا ہے
یوں لگتا ہے اک عرصے سے 




جاں کی بازی ہے گرچہ مات رہے
آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ رہے

 




یہ مرحلہ زینبؑ پر دشوار نظر آئے 
جلتے ہوئے خیموں میں بیمار نظر آئے 

 




 نقد جاں لے کے جو نکلے ہیں تو ڈر کیسا ہے
ہاں مگر آپ کا معیار نظر کیسا ہے

 




یوں زمیں پر آئے گا دَورِ بلا
ہوگی یک دم زُلْزِلَتْ زِلْزَالَھَا

 




خیر مقدم ہیں محمد ترا کرنے والے
ڈوب کر عصر کے لمحوں میں ابھرنے والے

 




سر آسماں کسی کو کوئی وہم ہو گیا ہے
تجھے جب سے دل دیا ہے مرے پاس کیا بچا ہے؟