شوقِ آوارگی کی بخشش ہے
درکِ حُسن و جمال و رعنائی

 




جرعۂ جامِ وفا اِن پہ جو ارزاں کر دے
صوفی و شیخ کو بھی صاحبِ ایماں کر دے

 




شبِ ہجرانِ غم انگیز ہماری خاطر
ایک طوفانِ بلا خیز ہماری خاطر

 




حضوری میں بھی رہتی ہیں لہو رونے پر آمادہ
شب ہجراں میں کیا کر دیں یہ آنکھیں رنگ سجادہ

 




وحشت ہے اندھیرا ہے بیاباں ہے دھواں ہے
بے چین چمکنے کو مگر برق تپاں ہے

 




خیر مقدم ہیں محمد ترا کرنے والے
ڈوب کر عصر کے لمحوں میں ابھرنے والے

 



جب نہیں باد کا بھی کھڑکا
رہ رہ کر کیوں دل دھڑکا
چپ چپ فطرتِ نیم شبی
جانے یہ کیا آواز آئی




آواز مت بلند ہو اِس بارگاہ میں
کیا کچھ چھپا کے رکھ دیا اِک انتباہ  میں

 




سنتے ہیں پھر قسیمِ درد مائلِ التفات ہے
دل کی دھمک میں گونج ہے سینے پہ پھر سے ہات ہے

 




دن بے نقاب کرتا ہے شمس الضحٰی سے عشق
اور چھپ کے رات کرتی ہے بدرالدُّجٰی سے عشق