شبِ ہجرانِ غم انگیز ہماری خاطر
ایک طوفانِ بلا خیز ہماری خاطر

 




مصلحت کوشی مری سوچ کی دیوار نہیں
مُجھ کو اس جُرم کا اقرار ہے انکار نہیں

 



کرونا کا تقاضا ہے:"چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں"




جُرم سے کم بھی اگر میں نے سزا پائی ہے
تیری رحمت کی مِری آنکھ تمنائی ہے

 




کوئی جو سمجھے تو سمجھے خیال و خواب کا ذکر
فلک پہ ہونے لگا میرے اضطراب کا ذکر

 




بابا! جو مری جاں کو میسر نہ کبھی تھی 
خوشبو وہ تری خاک سے اب کے میں نے سونگھی

 




اس توجہ پہ تشکر مرا گہرا ہو گا
راہ بھر آپ کے مامور کا پہرا ہو گا

 




میں کیوں کہوں کہ ترے بن بسر نہیں ہوتی
ضرور ہوتی ہے، ہوتی ہے پر نہیں ہوتی

 




دائرۂ جذب میں پہنچا تو شیدا ہوگیا
دیکھ لیجے حُر کو‘ کیسے غیر اپنا ہوگیا

 




تار چھڑ جاتے ہیں صحرائوں کی ویرانی پر
گیت گاتے ہیں کبھی درد کی جولانی پر