پیرایئہ نظم

پیرایئہ نظم (12)




ہمیشہ تنہائیوں میں جس کو قریب پاکر پکارا میں نے 
ہمیشہ قصۂ غم سنانے کو جس کی چوکھٹ کو چوما میں نے 

 




بہت اداس بہت دل فگار ہے یہ رات
نگاہ شوق میں سہمے ہوئے ستارے ہیں
ہر ایک لمحہ بہت بے قرار لگتا ہے




شوقِ آوارگی کی بخشش ہے
درکِ حُسن و جمال و رعنائی

 




دیکھی تو گئیں‘ سمجھی نہ گئیں
کچھ خستہ خستہ تحریریں

 



جب نہیں باد کا بھی کھڑکا
رہ رہ کر کیوں دل دھڑکا
چپ چپ فطرتِ نیم شبی
جانے یہ کیا آواز آئی




ذوق تخلیق خالق ہستی 
اس کو رکھتا ہے بے قرار سدا 

 




شب کا مسافر
تیرہ شبی میں

 




تجھے پاکر _____ 
میں سمجھا ہوں کہ مجھ میں یہ ہنر بھی ہے

 




میں رہا شہر میں فرزند بیاباں ہو کر
مہرِلب اتری مرے شعر کا عنواں ہو کر

 




میں نے چاہا تھا مرے دل کو قرار آجائے
میں نے سمجھا کہ مرے دل کو قرار آیاہے 

 




وہ شجر ہے کہاں سرکوہ بتا
تو جس کی اوٹ میں چھپ چھپ کر