اندازِ غزل

اندازِ غزل (85)




آپ ساماں تو ذرا کیجئے جلنے کے لیے
دل ہے تیار ان آنکھوں سے پگھلنے کے لیے

 




اب بہت تھوڑی سی ہے مہلتِ ہجراں جاناں!
ہو گیا خستہ شکستہ قفسِ جاں جاناں!

 




اس توجہ پہ تشکر مرا گہرا ہو گا
راہ بھر آپ کے مامور کا پہرا ہو گا

 




انسان کا غم کھانا انساں کا بھرم رکھنا
غم خانے کے مخزن میں محفوظ یہ غم رکھنا

 




اُس کو مرے سرمائے سے کچھ کام نہیں ہے
مُلا کے لیے تہمت و الزام نہیں ہے

 




اُس کو پانے کے لیے غیر پہ تکیہ کرتے
اِس سے بہتر ہے کہ اس کام سے توبہ کرتے

 




آئینے ہی آئینے دیوار و در پر چھا گئے
میں کدھر جائوں کہ وہ ہر آئینے میں آ گئے

 




آج تھوڑا سا غم سنا ڈالا
میں نے بت کا بھی سر ہلا ڈالا

 




اک طرف تُو تھا، تَو تھا پنج جہت آئینہ
یوں نہ تھا، آنکھ کا دھوکا تھا وہ حاشا کلّا

 




اگر ہو جائے تُو راضی تَو پھر مشکل نہیں بازی
مری ہمت سے بالا ہے وگرنہ عہدِ دم سازی

 




بات ادھوری رہے ہونٹوں پہ جو لائوں پھر بھی
سینہ پھٹتا ہے اگر درد چھپائوں پھر بھی

 




بار جتنا تھا سب اتار گئی 
آخرش جانِ قرضدار گئی

 




برس برس سے مری ارضِ جاں پہ چھائے ہیں
عجیب ٹھہرے ہوئے وحشتوں کے سائے ہیں

 




بیاض زیست میں کیونکر بتاؤں کیا لکھا
ورق ورق پہ بس اک نام آپ کا لکھا