حضرت محمد مصطفیﷺ

حضرت محمد مصطفیﷺ (12)




بہرِ لبم شرابِ طہور اسوۂ رسولؐ
در جامِ ناب وجہِ سرور اسوۂ رسولؐ

 




آواز مت بلند ہو اِس بارگاہ میں
کیا کچھ چھپا کے رکھ دیا اِک انتباہ  میں

 




اگر حبیبِ خدا غیر مصطفیؐ کہیے
تو پھر خدا بھی کوئی دوسرا خدا کہیے

 




جاں میں سمائے جاتی ہے کس کی ہے گفتگو 
ایسی بھی دل نشیں بھلا ہوتی ہے گفتگو

 




دن بے نقاب کرتا ہے شمس الضحٰی سے عشق
اور چھپ کے رات کرتی ہے بدرالدُّجٰی سے عشق

 



لرزاں لرزاں کفر کی سد
فرحاں فرحاں عرش احد
شاداں   شاداں  ’’لَمْ     یُوْلَد‘‘
شاہِ رُسلؐ کی ہے آمد




مدّاحیٔ خواجہؐ نہیں محنت کے ثمر میں
ہیں ساری کرامات بس اِک حُسنِ نظر میں

 




نصیب مرسل حق کوثری و خوش نَسَبی
نصیب دشمن شہ ابتری و لا عَقَبی

 




وہ ناعِت جس کی نظروں میں یہ قرآں ہو وہ کیا لکھے
نبیؐ جس کے لیے مَنعوتِ یزداں ہو وہ کیا لکھے

 




کمال عشق کی جب سطح آخری آئی 
تو اُنؐ کے ہاتھ خدا کی پیمبری آئی

 




کیا نام دوں جنابؐ کی اس نعت ناب کو
یاسین کا خطاب رسالت ماٰبؐ کو

 




ہر شان سے اونچی ہے بہت شانِ محمدؐ
پھر کون کرے دعویٔ عرفانِ محمدؐ