حمد و نعت

حمد و نعت (8)




اتنا ہی نہیں دست عنایات ہے روشن
جو اُس نے عطا کی ہے وہ سوغات ہے روشن

 




جب آزمانے والے پلٹ آئے بے یقیں
جو صدق لے کے آئے تھے وہ لے چلے یقیں

 




خوشا! کہ نعت کہے اور یہ زباں میری
مدد کو آئیے سرکارِ دو جہاںؐ میری

 



تری شان ذکر کروں تو کیا
تجھے حق نے ایسا بنا دیا!
کہ ترے لیے سرِ دوسرا
نہ مثیل ہے نہ مثال ہی 
صَلُّوْا   عَلَیْہِ   وَ  اٰلِہٖ




رحمان کی تصدیق ہے طاغوت کا بطلان
میراثِ نبوت ہے حقیقت کا ہے عرفان

 




میں کہاں جنت ماویٰ کے لیے مرتا ہوں
باغِ رضواں کی طلب اُن کے لیے کرتا ہوں

 




کہاں یہ نعتِ نبیؐ اور کہاں یہ ذات مری
مدد کو آئیے مولائے کائنات مری

 




ہوں بند مری آنکھیں یا کھلی آنکھوں میں مدینہ رہتا ہے
ہُوں آپؐ کے در سے وابستہ قائم یہ قرینہ رہتا ہے