جو نام’’ حضرت شبیرؑ ‘‘ لکھ دیا جائے 
لقب ’’رسول ؐ کی تصویر ‘‘ لکھ دیا جائے 

 



کرونا کا تقاضا ہے:"چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں"




وحشت ہے اندھیرا ہے بیاباں ہے دھواں ہے
بے چین چمکنے کو مگر برق تپاں ہے

 




کہاں یہ نعتِ نبیؐ اور کہاں یہ ذات مری
مدد کو آئیے مولائے کائنات مری

 




آنکھوں میں سمٹ آئی صحراؤں کی پہنائی
دل ڈوب گیا غم میں کربل کی جو یاد آئی

 




دم دہلیز ساقی کو دیا پیغام، رہنے دو
کسی کے ہاتھ بھیجا ہے تو اپنا جام رہنے دو

 




جاں کی بازی ہے گرچہ مات رہے
آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ رہے

 




آداب و تحیّات ترے نام کروں گا
ضَو پھوٹے گی جب رات ترے نام کروں گا

 




آپ ساماں تو ذرا کیجئے جلنے کے لیے
دل ہے تیار ان آنکھوں سے پگھلنے کے لیے

 




وہی سبطینؑ کی مادر کہ حیدرؑ جس کا ہمسر ہے
خدیجہؑ کے جو پاکیزہ صدف کا پاک گوہر ہے