ہفته, 07 مارچ 2020 17:03




بہت اداس بہت دل فگار ہے یہ رات
نگاہ شوق میں سہمے ہوئے ستارے ہیں
ہر ایک لمحہ بہت بے قرار لگتا ہے

نفس نفس میں کوئی انتظار لگتا ہے 
طلوعِ صبحِ تمنّا کا پیار لگتا ہے

کچھ ا یک عرصے سے الجھا ہوا ہے دامنِ شب
کچھ ایک عرصے سے یہ رات مضطرب کیوں ہے؟
ہر ایک لمحہ یہ پیغام دے کے جاتا ہے
کوئی سبب مری بے چینیوں کا ہے کہ نہیں؟
تجھے پتہ مری ویرانیوں کا ہے کہ نہیں؟

اور ایک میں ہوںکہ درد و الم نہ سوزِ جگر
جنون و ہوش و خرد‘لفظ لفظ بے معنی
مجھے تو مدّتیں گزری ہیں یوں تہی دامن
کٹے گی آج کی شب بھی خدا خدا کر کے
مگر میں جب بھی خدا کی تلاش کرتا ہوں 
تو مجھ کو لاکھوں صنم خانے یاد آتے ہیں

فقط اداس پریشان رات کے سائے
کبھی کبھی یہ کہانی مجھے سناتے ہیں
کہ ایک وقت تھا میں بھی شکستہ حال نہ تھی 
گھڑی گھڑی مری آلودۂ ملال نہ تھی
یہ ناشناسی تری مجھ سے دائمی تو نہیں 

 بس اتنا ہے کہ ملے تھے تجھے ’’خدا والے‘‘
جنھوں نے تیرے خدا کو صنم بنا ڈالا

فقط ترے لئے دل بے قرار رہتا ہے
نفس نفس کو یہی انتظار رہتا ہے

کہ بام ِشب پہ تجھے مہ ابھارنا آئے
اداسیوں کی ہیں پرچھائیاں بڑی گہری
تجھے امید کی کرنیں اتارنا آئے
مرے اڑے اڑے گیسو سنوارنا آئے 


* * * * * 

Read 316 times