ہفته, 07 مارچ 2020 17:01




دیکھی تو گئیں‘ سمجھی نہ گئیں
کچھ خستہ خستہ تحریریں

 

یہ لکیریں ٹوٹی پھوٹی سی
اِک سلوٹ سلوٹ پیشانی

دو سُوجی سُوجی سی آنکھیں
یہ بوجھل اور بے چین قدم
اور وقتِ سحر نغموں کی فضا پر پھیلی ہوئی یہ خاموشی
ہونٹوں پہ اداس تبسّم ہے
گیتوں میں بُجھا سا ترنّم ہے
جلتے ہوئے لفظوں کی تاثیر بھی سرد تشکّر کی صورت
دیکھی تو گئی سمجھی نہ گئی


ہرعالَم میں دھڑکن کے بِنا
بے کار ہے دل کا سرمایا
اظہارِ جذب و نظر کے لیے
لفظوں کو بڑا بے بس پایا

* * * * * 

Read 138 times