ہفته, 07 مارچ 2020 17:00




میں رہا شہر میں فرزند بیاباں ہو کر
مہرِلب اتری مرے شعر کا عنواں ہو کر

 

آنکھ کے سوتے بھی اک عرصہ ہوا سوکھ چکے
گنگناتے ہوئے اشعار بھی خاموش ہوئے

خواب بُننے کی جو عادت تھی وہ اب کھو بھی چکی
آنکھ جو نقش تلاشے تھی وہ اب سو بھی چکی

بیم و امید کا احساس ہوا بیگانہ
سایۂ خار سے محروم ہوا ویرانہ

دلِ صحرائی کو اک دکھ ہی دلا دے کوئی
مجھ کو اس عالمِ سکتہ میں رلا دے کوئی

* * * * * 

Read 138 times
More in this category: « بے بسی اُداس رات »