ہفته, 07 مارچ 2020 16:55




میں نے چاہا تھا مرے دل کو قرار آجائے
میں نے سمجھا کہ مرے دل کو قرار آیاہے 

 

اس کو دیکھا تو بڑے شوق کے ساتھ 
میں نے کھولے تھے دریچے دل کے 
میں نے چاہا تھا کہ وہ ماہ مرے دل کی زمیں پر اترے 
دل کی تاریک فضائوں کو منور کردے 


آسمانوں سے کوئی نور کے ہالوں میں چلا 
وادیٔ دل کی طرف بڑھنے لگا 
میرے ارمانوں کے ماتھے پہ اجالا پھیلا 
آرزوئوںکے لبوں پر بھی تبسم بکھرا
آگیا اور وہ کتنا ہی قریب آ پہنچا 
اور حرارت سے ابلنے لگے دل کے ارماں

پر ابھی دیر نہ گزری تھی کہ منظر بدلا 
اس کارک جانا مجھے کر گیا حیراں حیراں 

جانے کیوں ٹھہرنا چاہے ہے سر راہ گزر 
دوش اعصاب پہ نورانی سا پتھر بن کر 

* * * * * 

Read 136 times