ہفته, 07 مارچ 2020 16:47




صر صر جو چلی‘
پتّے جو ہلے‘

 

باہم جو ملے‘
کچھ شور ہوا
نظروں نے کسی کو تلاشا ہے
صحرا میں کوئی جوں پیاسا ہے

ہر موڑ پہ منظر بدلا ہے
امید بڑھی اور پائوں اُٹھا
کچھ ایسے لگا
جلدی سے کوئی جوں چھپ ہے گیا
نظروں نے کسی کو تلاشا ہے
صحرا میں کوئی جوں پیاسا ہے

میں کیسے کہوں تجھے ماہ لقا
میں نے خود سے چاند کو دیکھا ہے
جب رات ڈھلی اور بام فلک پر وہ اُبھرا
وہ کسی کی تلاش میں نکلا تھا
خود اُسکی بھی
نظروں نے کسی کو تلاشا ہے
صحرا میں کوئی جوں پیاسا ہے

* * * * * 

Read 116 times