ہفته, 07 مارچ 2020 16:45




وہ شجر ہے کہاں سرکوہ بتا
تو جس کی اوٹ میں چھپ چھپ کر

 

اک شب کے مسافر سے باتیں
کچھ چپکے چپکے کرتا رہا
وہ شجر ہے کہاں سرکوہ بتا؟

چلمن کی اوٹ سے‘
ہو تو سہی‘
آواز تری وہ پیار بھری
ان ترسے ہوئے کانوں میں پڑے
وہ صدا رس گھولنے والی سنوں
بے تاب رہوں‘ بے تاب رہوں
میں وادی وادی ڈھونڈ پھرا

وہ شجر ہے کہاں سرکوہ بتا؟

ہر دم دل سے ہے کہا: تھم تھم
ہرگام ہوئی پیشانی خم
ہر راہ کہے گزراہے تو ہی
ہر نقش ہے تیرانقشِ قدم
ہر آہٹ پر میں چونک اُٹھا
وہ شجر ہے کہاں سرِکوہ بتا؟


* * * * * 

Read 119 times