ہفته, 07 مارچ 2020 16:09



جب نہیں باد کا بھی کھڑکا
رہ رہ کر کیوں دل دھڑکا
چپ چپ فطرتِ نیم شبی
جانے یہ کیا آواز آئی

تاروں نے باندھا ہے سماں
بادل کا نہیں نام و نشاں
دم دم پھر کیوں گونج اُٹھی
پھر کیوں بجلی لہرائی


کب سے ہجر کا داغ لیے
بامِ فلک پہ چراغ لیے
کس کی تلاش میں پھرتے ہیں
جانے کتنے سودائی

جب جب سُورج ڈوب گیا
بے کل ہو کر دل نے کہا
جی بھر کر اب باتیں کر
لیلۂ ہمدم لوٹ آئی

اوٹ میں پردوں کی عریاں
لاکھ حجاب میں نور افشاں
گزرے گی کیا دیوانوں پر
تو نے جو صورت دِکھلائی


رات چمن میں ذکر چھڑا
کس کے مہکتے ہونٹوں کا
پھولوں کی نظریں نیچی
کونپل کونپل شرمائی


* * * * * 

Read 110 times
More in this category: « اُداس رات