ہفته, 07 مارچ 2020 15:59




ہمیشہ تنہائیوں میں جس کو قریب پاکر پکارا میں نے 
ہمیشہ قصۂ غم سنانے کو جس کی چوکھٹ کو چوما میں نے 

 

نہیں ہے شک وہ
مراد طالب
سمیع بھی ہے بصیر بھی ہے 
قریب اس کا وجود بھی ہے 


پہ آرزو ہے کہ میرے وجدان کو وہ بخشے زبان ایسی 
کہ دل ہو گویا تو یوں پکارے
کہ آج ایماں نے روپ احساس کا  ہے دھارا 
خیال آیا شہود ہو کر
تمام جہتیں ابھر رہی ہیں
ترا سراپا وجود ہوکر
ترے مغارب ترے طلوعوں پہ کہہ رہے ہیں 
ترے مقابل، ترے کسی غیر کو جو اپنا خیال آئے
      تو تیرے مشرق میں ڈوب جائے


* * * * * 

Read 108 times
More in this category: ذوق تخلیق »