سوموار, 02 مارچ 2020 07:38




سنتے ہیں پھر قسیمِ درد مائلِ التفات ہے
دل کی دھمک میں گونج ہے سینے پہ پھر سے ہات ہے

 

اپنا کوئی نشاں بتا یا مجھے بے نشان کر
تیرے فسانے کو بہ کو میری تو ایک بات ہے

میں نے کہا: ہے مرگ کیا، اس نے کہا: جمود ہے
پوچھو اگر تو زندگی عالمِ حادثات ہے

آئے نہ اتفاق سے، وعدہ وفا نہ ہو سکا
لیکن اس اتفاق کے پیچھے کسی کا ہات ہے

عہدِ وفا حضور کا اور دلِ خوش گماں مرا
حسنِ ادائے بے نیاز عرضِ طلب کے ساتھ ہے

آہ ابھی بھری نہ تھی اک نیا سانحہ ہوا
دشت بلائے زندگی عرصۂ سانحات ہے

بانٹ رہا ہے گر تو غم چشم بے نم پہ کر کرم
غم کا نہ ہونا بھی الم غم سے کسے نجات ہے

ثاقب بے قرار کی آنکھ کو نیند آئے کیوں
وعدۂ وصل میں لکھا وقت نہ دن نہ رات ہے


* * * * * 

Read 50 times