سوموار, 02 مارچ 2020 07:37




سر آسماں کسی کو کوئی وہم ہو گیا ہے
تجھے جب سے دل دیا ہے مرے پاس کیا بچا ہے؟

 

مجھے یاد کچھ نہیں ہے تجھے کب سے میں نے چاہا 
تجھے جب سے میں نے چاہا  مجھے یاد کیا رہا ہے؟

مرے چارہ گر سے کَہ دو مرے غم کا غم نہ کھائے
مرے درد کی دوا ہے‘ مرا درد ہی دوا ہے

مرا حُسنِ ظن کہے ہے نہ ہوں بدگماں کسی سے
کہے کوئی تجھ کو ظاہر‘ کہے کوئی تو چھپا ہے


* * * * * 

Read 240 times