سوموار, 02 مارچ 2020 07:27




پیاس اٹھی ہے ایسی سینے سے
جو بھڑک جائے اور، پینے سے

 

در دل پر ہے غم نے دستک دی 
آ مرے پیار ے لگ جا سینے سے 

کتنی عمر دراز لایا ہے 
کیوں الجھتے ہو آبگینے سے

ہم سے مت پوچھ ڈوبنا دل کا 
پوچھ موجوں سے اور سفینے سے

میری بے باکیوں نے خوار کیا
بات کہنا تھی اک قرینے سے

بت کدہ کیوں بنائیں کعبے کو 
پاک رکھیں گے دل کو کینے سے 

ربط سورج سے ہے جو کرنوں کا 
اپنی نسبت ہے وہ مدینے سے 


* * * * * 

Read 226 times