ہفته, 29 فروری 2020 09:21




دنیا والوں نے خواب دیکھا ہو
چاند آنگن میں میرے اُترا ہو

 

ہو بہو اَشک میں بھی عکس اُن کا
ڈوب کر دل سے، جیسے نکلا ہو

اے رقیبو! سنائو حال اپنا
کیا عجب ایک سا ہی قصّہ ہو

پردہ سِرکے تو دیکھیے، شاید
پہلے آنکھوں نے اُن کو دیکھا ہو

وہ جو کَہ دیں تو سینہ شق کر دوں
خود کو دیکھیں تو کیا تماشا ہو

اب کے تھم جائے میری لیلۂ قدر
مہ لقا اب کے گھر میں آیا ہو

جاں وصال حبیب کے بدلے 
مان جائیں تو خوب سودا ہو

جان عالم کی آرزو ثاقب!
یہ مجالِ طلب؟ تو رسوا ہو


* * * * * 

Read 65 times