ہفته, 29 فروری 2020 09:16




برس برس سے مری ارضِ جاں پہ چھائے ہیں
عجیب ٹھہرے ہوئے وحشتوں کے سائے ہیں

 

مہکتے زخم ، کھِلے درد ، مسکراتے الم 
بہار کوچۂ جاناں سے لُوٹ لائے ہیں

عروض سیکھیں جنھیں شاعری سے مطلب ہے
مجھے تو حرف ترے عشق نے سُجھائے ہیں

غزل کے شعر تری یاد سے معطّر ہیں
رقیب سمجھیں گے ہم پھول توڑ لائے ہیں

کھلی کتابیں کلام و اصول و منطق کی
رخِ نگار جو دیکھا تو چھوڑ آئے ہیں

روش روش پہ شگوفوں نے لی ہے انگڑائی 
کچھ اس ادا سے وہ گلشن میں مسکرائے ہیں

پرکھ رہے ہیں مجھے عقل کی کسوٹی پر
سمجھنے والوں نے کتنے فریب کھائے ہیں

تجھے دوپہر کی حدت کی فکر کیا ثاقبؔ
کہ تہ بہ تہ ترے پہلو میں غم کے سائے ہیں


* * * * * 

Read 56 times