بدھ, 26 فروری 2020 16:32




شبِ ہجرانِ غم انگیز ہماری خاطر
ایک طوفانِ بلا خیز ہماری خاطر

 

آندھیاں اور بگولے سر صحرائے حیات
باد و بارانِ ستم ریز ہماری خاطر

شاید اس بار ترے در پہ اڑالے جائے
صرصرِ وحشی ہوئی تیز ہماری خاطر

یہ تو دیوانے بیاباں میں خبر رکھتے ہیں
کوئی شیراز نہ تبریز ہماری خاطر

چاہا ملاّ نے کہ جنت میں پہنچ جائے یزید
پھر سجے مقتل خوں ریز ہماری خاطر

تیرے نظارے کو پھر ماہِ درخشاں ابھرا
اس کی خاطر، نہ بہ پاخیز ہماری خاطر

پئے آرائش گیسوئے بہار آ اِک دن
چھوڑ جا نقشِ دلآویز ہماری خاطر

ہٹ کے پیمانوں سے ساقی نے سنبھالا ثاقبؔ
ساغرِ درد و غم آمیز ہماری خاطر


* * * * * 

Read 63 times