منگل, 25 فروری 2020 15:50




شاید اُس نے لکھا ہوا ’’ہاں‘‘ تھا
اَشک قِرطاس پَر نمایاں تھا

 

اُس سے کہنے کو لفظ سُوجھا تھا
’’جانِ جاں‘‘ تھا یا ’’جانِ جاناں‘‘ تھا

کون کہتا ہے رات اندھیری تھی
داغِ ہجراں تھا شعلۂ جاں تھا

پھر بھی دھڑکا رہا نہ چِھن جائیں
چند آنسو تھے، ایک اَرماں تھا

بزم امکاں میں زندگی گزری
زیرِ امکاں بھی ایک امکاں تھا

سب چراغوں کی لَو لرزتی تھی
کہنے کو رات بھَر چراغاں تھا

سارے قصّے ہَوا کی زَد پر تھے
سینے میں ایک حَرف پنہاں تھا

دوشِ بادِ صبا میسر تھا 
بات پہنچے گی، ایک امکاں تھا

اُس کے رخسار دیکھ کر حیراں
پھول کلیاں نہیں گلستاں تھا


* * * * * 

Read 234 times