سوموار, 24 فروری 2020 07:09




سب اجالے ، سب دیے اُس کی ضیا پاشی پہ ماند
ہاں وہی جو ایک کہلایا بنی ہاشم کا چاند

 

اُس گھرانے کے مفاخر کے لیے ہے افتخار
وہ گھرانا جس کی عظمت کو نہ پہنچے کوئی باند

شیر اسد اللہ کا نیزہ سر نہر فرات
کہہ رہا تھا: اے شُغالو! کیا ہوئی وہ کود پھاند


تاابد اُس سے صراطِ عاشقاں روشن ہوئی
مشک لے کر علقمہ کی اور سے نکلا جو چاند

جن کے ہاتھوں سے لیا عباس نے دریا کا گھاٹ
امرِ حق است: اے نبی! ایشان را از کوثر براند

دیکھنا یہ ہے کوئی کیسے جیا کیسے مرا
ھیچ کس ورنہ در این دنیا نمی ماند نماند


* * * * * 

Read 280 times