سوموار, 24 فروری 2020 06:54




اک سوز کہانی ہے اک درد کا قصّہ ہے
اور اس سے سوا یہ غم کس کنبے نے جھیلا ہے

 

کیا تُو نے فلک دیکھا شہؑ کہتے تھے اکبرؑ سے
سیرت میں،سراپا میں، نانا سے یہ ملتا ہے

کربل کا الم قصّہ جو پوچھے بتا دینا
عابدؑ کی روایت ہے خود راوی پہ گزرا ہے


جو تخت پہ بیٹھا تھا قرآن کا منکر تھا
 وہ نیزے پہ پڑھتا تھا گھر جس کے یہ اترا ہے

شبیرؑ کا گھر دل ہے آنکھوں سے شکایت کیا
غم ہو تو برستی ہیں دل آنکھ کا رشتہ ہے

شبیرؑ کا نام آیا اور زخم ہرا پایا
پھر زخم تو رِستا ہے اور درد تو ہوتا ہے

مرہم نہ شکیبائی کربل کا ہے زخم ایسا 
تاریخ کے سینے پر ہر آن جو تازہ ہے 


* * * * * 

Read 316 times