الجمعة, 21 فروری 2020 08:10




کوثرِ الفت کے چھینٹے میرے گیتوں کا نکھار
شعر بکھرائیں مرے تیری مودّت کی پھوار

 

یا علیؑ! اے شیر یزداں! اے ولیِّ کردگار!
’’قُلْ ھُوَ اللہ اَحَد‘‘ پڑھ کر کہوں میں بار بار
لافتیٰ اِلّا عَلِی لا سیف اِلّا ذُوالْفِقَار


واللہ باللہ ثُمّ تَاللہ نامِ اللہ الصّمد
قول اَکْمَلْتُ لکم جس کی ولایت کی سند
جس کے مجد و منزلت کی وہم میں آئے نہ حد
میں کروں اور اس کی مدحت؟ یا الٰہی‘ المدد
جس کے حق میں آئے ہاتف کی صدا ئے افتخار
لافتیٰ اِلّا عَلِی لا سیف اِلّا ذُوالْفِقَار


حج مہینے کی اٹھارہ کو ملا پیغام حق
لایا جبریل امیں مِن رَّبِّنَا الَّذِیْ خَلَق
آیۂ  بَلِّغ کی گونجیں ہر کراں از ہر افق
اہلِ ایماں تھے بہت خوش اور کچھ سینے تھے شق
تھا ہویدا ہو رہا عالم پہ حیدر کا وقار
لافتیٰ اِلّا عَلِی لا سیف اِلّا ذُوالْفِقَار


بولے: احمد اک ہے ہم سب کا خدا؟ بولے :  بلٰی
بولے :اور میں ہوں رسول دوسرا ؟ بولے :  بلٰی
مجھ کو حق نے تم سے کیا اولیٰ کہا ؟بولے :  بلٰی
اس طرح سب کا میں کیا مولیٰ ہوا ؟ بولے :  بلٰی
بولے بس میری طرح حیدر ولایت کا مدار
لافتیٰ اِلّا عَلِی لا سیف اِلّا ذُوالْفِقَار


* * * * * 

Read 63 times