منگل, 18 فروری 2020 07:55




میں کہاں جنت ماویٰ کے لیے مرتا ہوں
باغِ رضواں کی طلب اُن کے لیے کرتا ہوں

 

وہ جہاں ہوں گے وہی اُن کا مدینہ ہو گا 
جس طرف رُخ وہ کریں آنکھ اُدھر دھرتا ہوں

مجھ کو دیوار و در و سنگ سے کیا رغبت ہے
اُن کے دیدار کو رُخ سُوئے حرم کرتا ہوں


آنکھ بے تاب ہے اک نقشِ کفِ پا کے لیے
میں ہوں جو بوسۂ صحرا کے لیے مرتا ہوں 

اپنی راہوں میں مرے پائوں کو آنکھیں دے دیں
آپ کہتے ہیں تو میں پائوں ادھر دھرتا ہوں

چاند چہرہ جو دکھے قبر میں پہلی کروٹ 
میں شبِ تیرہ کی تنہائی سے کب ڈرتا ہوں 


* * * * *

Read 88 times