سب اجالے ، سب دیے اُس کی ضیا پاشی پہ ماند
ہاں وہی جو ایک کہلایا بنی ہاشم کا چاند

 




سر آسماں کسی کو کوئی وہم ہو گیا ہے
تجھے جب سے دل دیا ہے مرے پاس کیا بچا ہے؟

 




اک سوز کہانی ہے اک درد کا قصّہ ہے
اور اس سے سوا یہ غم کس کنبے نے جھیلا ہے

 




پیاس اٹھی ہے ایسی سینے سے
جو بھڑک جائے اور، پینے سے

 




جام و مینا و سبو و شیشہ و ساغر کی بات 
پیا سے ہیں کیونکر نہ کیجے ساقیِ کوثر کی بات

 




زیر عرش احمدؐ کا جیسے کوئی بھی ہمتا نہیں
جوں عدیل سیدۂ فاطمہ زہراؑ نہیں




بہت اداس بہت دل فگار ہے یہ رات
نگاہ شوق میں سہمے ہوئے ستارے ہیں
ہر ایک لمحہ بہت بے قرار لگتا ہے




کہنے لگے حسین ؑ کہ اے ربِّ دو سرا
دوراہے پر ہے ظالموں نے لا کھڑا کیا

 




شاید اُس نے لکھا ہوا ’’ہاں‘‘ تھا
اَشک قِرطاس پَر نمایاں تھا

 




دیکھ کے افسردہ پیغمبرؐ
حق نے کہا یا سیّد و سرور