پیغام پاکستان، دیر آید درست آید

تحریر: ثاقب اکبر

16 جنوری 2018ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا، جب ایوان صدر میں 1829 علماء اور اہل دانش کے دستخطوں اور تائید سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا، جس میں دہشت گردی، انتہا پسندی، تکفیریت اور خارجیت کی تمام جدید و قدیم شکلوں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس فتویٰ کی تائید و توثیق پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام، اسلامی علوم کے ماہرین اور ماضی میں شدت پسندی میں شہرت رکھنے والے بعض راہنماﺅں نے بھی کی ہے۔ پاکستان میں دینی مدارس کی پانچ باقاعدہ تنظیمیں ہیں، جن میں وفاق المدارس العربیہ(دیوبندی)، تنظیم المدارس پاکستان(بریلوی)، رابطة المدارس العربیہ(جماعت اسلامی)، وفاق المدارس سلفیہ(اہل حدیث) اور وفاق المدارس شیعہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض اہم مدارس ہیں کہ جو بظاہر اپنے آپ کو کسی وفاق کا حصہ نہیں کہتے، اس مذکورہ فتویٰ جسے ”پیغام پاکستان“ کا نام دیا گیا ہے، کی تائید ان سب کی قیادت نے کی ہے۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا اور تاریخی اجماع ہے، جس نے پاکستان کے روشن مستقبل کی ایک نوید سنائی ہے۔


”پیغام پاکستان“ کو یقینی طور پر قرارداد مقاصد کی عظیم الشان دستاویز کے بعد ایک بڑی دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں قرارداد مقاصد کی ہی ایک مرتبہ پھر تائید و توثیق نہیں کی گئی بلکہ اس کی ضروری وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔ خاص طور پر ان حالات میں جبکہ عالم اسلام میں موجود بڑے دہشت گرد گروہ جو اپنے آپ کو اسلامی خلافت کے احیاء کا علمبردار قرار دیتے ہیں، نے پاکستانی ریاست اور اس کے آئین کو غیر اسلامی قرار دے رکھا ہے اور جو پاکستان کی ریاست اور افواج کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس پیغام میں جہاد کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے اور خودکش حملوں کو اسلامی تعلیمات کے منافی گردانا گیا ہے۔ ”پیغام پاکستان“ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: "مختلف مسلکوں کا نظریاتی اختلاف ایک حقیقت ہے، جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس اختلاف کو علمی اور نظریاتی حدود میں رکھنا واجب ہے۔ اس سلسلے میں انبیاء، صحابہ کرامؓ، ازواج مطہراتؓ اور اہل بیتؑ کے تقدس کو ملحوظ رکھنا ایک فریضہ ہے اور آپس میں ایک دوسرے کے خلاف سب و شتم، اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلانے کا کوئی جواز نہیں اور اس اختلاف کی بنا پر قتل و غارت گری، اپنے نظریات کو دوسروں پر جبر کے ذریعے مسلط کرنا، ایک دوسرے کی جان کے درپے ہونا بالکل حرام ہے۔"

متفقہ فتویٰ کے اہم نکات میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو آئینی اور دستوری لحاظ سے ایک اسلامی ریاست قرار دیا گیا ہے۔ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ: "ہم متفقہ طور پر اسلام اور برداشت کے نام پر انتہا پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرقہ وارنہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض ہے۔ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں، جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں۔" جہاد کی تشریح کرتے ہوئے اس میں کہا گیا ہے کہ: "فقہاء کے خیال میں کوئی بھی جنگ حکمران کی اجازت کے بغیر شروع نہیں کی جاسکتی، اسلام میں قتال اور جنگ کی اجازت دینے کی مجاز صرف اور صرف حکومتِ وقت ہے۔" فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے متفقہ اعلامیہ کے زیر عنوان یہ بھی کہا گیا ہے کہ: "ہر مکتب فکر اور مسلک کو مثبت اور معقول انداز میں اپنے عقائد اور فقہی نظریات کی دعوت و تبلیغ کی شریعت اور قانون کی رو سے جازت ہے، لیکن اسلامی تعلیمات اور ملکی قانون کے مطابق کسی بھی شخص، مسلک یا ادارے کے خلاف اہانت، نفرت انگیزی اور اتہام بازی پر مبنی تحریر و تقریر کی اجازت نہیں۔"

”پیغام پاکستان“ میں پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم شہریوں کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا، چنانچہ متفقہ اعلامیے کی ایک شق میں کہا گیا ہے: "پاکستان میں رہنے والے پابند آئین و قانون تمام غیر مسلم شہریوں کو جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ اور ملکی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے وہی شہری حقوق حاصل ہیں، جو پابند آئین و قانون مسلمانوں کو حاصل ہیں، نیز یہ کہ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنی عبادت گاہوں میں اور اپنے تہواروں کے موقع پر اپنے اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔" اس موقع پر بڑی تعداد میں علمائے کرام موجود تھے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ مختلف مسالک کی مذہبی تنظیموں کے اہم راہنما بھی محفل کا حصہ تھے۔ بعض ایسے علماء اور راہنما بھی مجلس میں دکھائی دیئے، جو ماضی میں تکفیریت کے علمبردار رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے، لیکن ضروری ہے کہ اسے دل سے ماضی میں اپنے بھٹک جانے کا احساس ہو اور وہ آئندہ ایسی کسی حرکت کا ارتکاب نہ کرے، جو امت میں افتراق اور پاکستان میں انتشار کا باعث بنے۔

مختلف مسالک کے راہنماﺅں کے ذمہ ہے کہ اب وہ ”پیغام پاکستان“ کی روح کے مطابق اپنے اپنے دائرہ اثر میں موجود افراد کو اس پر عمل کرنے کی دعوت دیں۔ ہمارے علم میں ہے کہ تمام مسالک کے اندر ایسے پیشہ ور خطیب اور منبر پر آنے والے افراد موجود ہیں، جو نفرتوں کا کاروبار کرتے ہیں، آگ لگاتے ہیں اور اپنی جیب گرم کرکے چلتے بنتے ہیں۔ ایسے افراد کا راستہ روکنا ہوگا۔ وہ علماء قابل قدر ہیں، جو اس سلسلے میں پہلے ہی جدوجہد کر رہے ہیں اور ہم ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی عظیم ذمہ داری کو آئندہ بھی بڑھ چڑھ کر ادا کرتے رہیں گے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر جانبدار رہتے ہوئے اس پیغام کو عام بھی کریں اور اس کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرنے والوں کو دائرہ قانون میں بھی لائیں۔ اس امر پر افسوس کا اظہار کئے بغیر چارہ نہیں کہ ماضی میں کسی ایک مسلک سے وابستہ افراد کی شدت پسندی پر اقدام کرتے ہوئے خواہ مخواہ دوسرے مسلک کے افراد کو بھی اذیتوں سے گزارا گیا ہے اور ان کی تنظیموں پر پابندیاں عائد کی گئیں ہیں، تاکہ ”توازن“ کا تاثر ابھر سکے، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح سے ”توازن“ وجود میں نہیں آتا بلکہ عدم توازن پیدا ہوتا ہے، گناہ گار اور بے گناہ کو برابر قرار دے کر معاشرہ میں توازن کیسے پیدا کیا جاسکتا ہے! ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین کے علاوہ بعض وفاقی وزراء اور نمائندہ علماء نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمن نے بڑی فکر انگیز بات کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں دو سال سے علمائے کرام نے دہشت گردوں کو تکفیری اور خارجی کہنا شروع کیا ہے۔ یہی کام عشرہ، ڈیڑھ عشرہ پہلے کیا ہوتا تو آج حالات ایسے نہ ہوتے۔ خیر دیر آید درست آید۔

بشکریہ اسلام ٹائمز