سماجی

پیغام پاکستان، دیر آید درست آید

تحریر: ثاقب اکبر

16 جنوری 2018ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا، جب ایوان صدر میں 1829 علماء اور اہل دانش کے دستخطوں اور تائید سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا، جس میں دہشت گردی، انتہا پسندی، تکفیریت اور خارجیت کی تمام جدید و قدیم شکلوں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس فتویٰ کی تائید و توثیق پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام، اسلامی علوم کے ماہرین اور ماضی میں شدت پسندی میں شہرت رکھنے والے بعض راہنماﺅں نے بھی کی ہے۔ پاکستان میں دینی مدارس کی پانچ باقاعدہ تنظیمیں ہیں، جن میں وفاق المدارس العربیہ(دیوبندی)، تنظیم المدارس پاکستان(بریلوی)، رابطة المدارس العربیہ(جماعت اسلامی)، وفاق المدارس سلفیہ(اہل حدیث) اور وفاق المدارس شیعہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض اہم مدارس ہیں کہ جو بظاہر اپنے آپ کو کسی وفاق کا حصہ نہیں کہتے، اس مذکورہ فتویٰ جسے ”پیغام پاکستان“ کا نام دیا گیا ہے، کی تائید ان سب کی قیادت نے کی ہے۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا اور تاریخی اجماع ہے، جس نے پاکستان کے روشن مستقبل کی ایک نوید سنائی ہے۔

  • مشاہدات: 10

مغرب اور علوم انسانی

تحریر: ثاقب اکبر

پس منظر
مغرب میں علم کی روایت کو عام طور پر قبل از مسیح کی یونانی علمی روایت سے مربوط کیا جاتا ہے۔ جہاں تک یونان میں مختلف مکاتب فکر کا تعلق ہے تو اسے ایک اعتبار سے دو بنیادی نظام ہائے فکر میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ایک سوفسطائیوں کا نظام فکر اور دوسرا ارسطو اور افلاطون کا نظام فکر۔
تاہم اگلے مرحلے میں یونانی فلسفہ مسیحی الٰہیات میں تبدیل ہو گیا۔ مسیحی الٰہیات کے کردار کو مغرب کے علوم انسانی کی تشکیل اور ظہور میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ وگرنہ تاریخی لحاظ سے علوم انسانی کے بہت سے مسائل قابل فہم نہ ہوں گے۔ مسیحی الٰہیات(Christian Theology) اپنے آپ کو ایسے علم کے طور پر پیش کرتی ہے جس کا موضوع ایمان ہے۔ یہی ایمان رفتہ رفتہ مذہبی پیشوائیت کے افکار کی حتمیت کی شکل اختیار کر گیا۔ اس مرحلے میں عقل و خرد، بحث و مباحثہ اور مذاکرہ کی گنجائش ختم ہو گئی۔ اس کا نتیجہ پہلے تو فکری جمود کی صورت میں نکلا اور پھر آزاد اندیشوں کے لیے استبداد اور تشدد کی صورت میں، آخر کار ایک بغاوت پیدا ہوئی اور گیہوں کے ساتھ گھُن بھی پس گیا۔ یہاں سے ایک نیا تصور کائنات ابھرا جو علوم کی بنیاد کو تجربی قرار دیتا ہے لیکن انسان اوراس کا معاشرہ اتنا سادہ نہیں کہ اسے ریاضی کے فارمولوں کی طرح سمجھ لیا جائے۔ روشن فکری اور آزاد اندیشی نے ایک نئے جہان کی تخلیق شروع کی۔ کائنات اور انسان کی شناخت کو نئی فلسفی بنیادیں عطا ہونا شروع ہوئیں اورپھر نئے علوم ابھرنے لگے۔ معاشروں کی تشکیل نو نے بھی علم کے نئے نئے موضوعات کا تقاضا کیا۔ نئی یونیورسٹیاں اور نئی دانش گاہیں معرض وجود میں آئیں جن میں علوم کے نئے نئے شعبے قائم ہونے لگے۔

  • مشاہدات: 109

بابا گرو نانک: دل میں اتر جانے والی شخصیت

تحریر : ثاقب اکبر

وہ اپنا الٰہی پیغام گیتوں کی شکل میں پہنچاتے تھے جس شہر میں بھی جاتے مقامی زبان میں لوگوں سے بات کرتے تھے۔ اگرچہ انھیں سنسکرت،عربی اورفارسی پر عبور حاصل تھا۔ انھوں نے ہندوستان کے طول و عرض کے دورے کیے۔ اس کے علاوہ مکہ، مدینہ، مصر، تاشقند ، فلسطین، اردن، شام ،نجف ،کربلا اور بغداد سمیت کئی شہروں اور ملکوں کا سفر کیا ان کا نظریہ خدا بہت آفاقی اور لامحدود تھا۔

  • مشاہدات: 118

انسان اور انسانیت سے غافل روزہ داری


تحریر: ثاقب اکبر



یہ کیا ہوا؟ اتنا غصہ! لوگ روزہ رکھ کر غصیلے کیوں ہو جاتے ہیں، ایک دوسرے کو دھکا دے کر کیوں گزر جانا چاہتے ہیں؟ جوں جوں افطاری کا وقت قریب آتا ہے یوں لگتا ہے کہ بہت سے روزہ داروں کا غصہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ یہ روزے کی کیا تاثیر ہے؟

  • مشاہدات: 782

ایک نظام تعلیم، ایک قوم

تحریر: ثاقب اکبر

ہفتے کی رات پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد دھرنے کے مقام پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نظام تعلیم کے لئے اپنے نقطہ نظر کو ایک مرتبہ پھر واضح انداز سے بیان کیا۔ وہ کہ رہے تھے: ’’ہم اپنے ملک کے نظام تعلیم پر کام کریں گے اور یہاں ایک طرح کا تعلیمی نظام لے کر آئیں گے۔ انگریزی میڈیم جہاں سے ممی ڈیڈی پیدا ہوتے ہیں، اردو میڈیم اور دینی طریقہ تعلیم سب کو ختم کرکے ہم ایک ایسا تعلیمی نصاب دیں گے جس میں انگریزی بھی پڑھائی جائے گی، اپنی زبان کی تعلیم بھی ہوگی اور دین بھی پڑھایا جائے گا۔ موجودہ تعلیمی نظام تین طرح کے ذہن اور اقوام پیدا کر رہا ہے۔ ہم ایک نظام تعلیم کے ذریعے پاکستانیوں کو ایک قوم بنائیں گے۔‘‘

  • مشاہدات: 834