کربلائے یمن سے استغاثہ

 

تحریر: سید اسد عباس
آج امت مسلمہ کا ایک بڑا حصہ شہدائے کربلا اور نواسہ رسول امام حسین ؑ کے غم میں نوحہ کناں ہے، اس غم اور عزاداری کا مقصد بنیادی طور پر نسل انسانی کی تربیت اور پرورش تھا، تاکہ انسان حق شناس بن سکے اور اپنی زندگی میں ہمیشہ حق کا عملی حامی رہے۔ عزاداری کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ نسل انسانی واقعہ کربلا سے مہمیز لیتے ہوئے جابر سلطان کے سامنے حق کہنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ انسانوں کو معلوم ہو کہ حق و باطل کے معیارات اقلیت و اکثریت، طاقت و ناتوانی، سرمایہ و غربت نہیں ہیں۔ حق بات چھوٹا، ناتواں اور غریب گروہ بھی کرسکتا ہے۔ کربلا نے ہمیں سکھایا کہ اہل حق خواہ کتنے ہی ناتواں ہوں، خواہ انہیں ظاہری طور پر شکست کا سامنا ہوا ہو، خواہ ان کی تعداد کم ہو، ہمیں ہمیشہ ان کا ساتھ دینا ہے، تاہم دنیا میں ہونے والے ظلم و زیادتی اور جبر و تشدد اور اس کے مقابلے میں ہمارے ردعمل کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی پیغام عزا کو مزید عام ہونا ہے۔ یہ پیغام ابھی انسانی اذہان کے ایک بڑے حصے تک نہیں پہنچا ہے۔ انسانوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی طاقتور، سرمایہ دار اور صاحب اقتدار کو حق سمجھتی ہے۔

محافل عزا پر اعتراض کرنے والو، دنیا میں حق و باطل کے معیارات چیخ چیخ کر فریاد کناں ہیں کہ ابھی انسانوں کی ایک بڑی تعداد کو درس گاہ حسین کی ضرورت ہے۔ آج کا معاشرہ پکار پکار کر کہتا ہے کہ اگر انسانی اذہان حقیقی طور پر اس چشمہ حریت و آزادی سے سیراب ہو رہے ہوتے تو حق و باطل کے تعین کی یہ صورتحال کبھی نہ ہوتی جو آج ہے۔ خود عزاداروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس اہم اور بامقصد کام کو فقط رسم کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ ہم پر واجب ہو جاتا ہے کہ محرم کے دس دنوں میں سیاہ لباس زیب تن کریں، مجالس، محافل اور عزاخانوں میں حاضر ہوں، تاہم عزاداری میں چھپے پیغامات کو تقدس کی دبیز تہوں میں دبا دیا جاتا ہے اور لوگ اس عمل کو ایک عبادت کے طور پر لیتے ہیں۔ دنیا، ہمارے اپنے معاشروں میں ہونے والا ظلم و ستم ہمیں متوجہ نہیں کرتا کہ جو عزاداری سے ہم نے سیکھا ہے، اس کے اظہار کا یہ موقع و محل ہے۔ عزاداری کے بارے میں یہ رویہ تقریباً بہت سے ممالک میں ہے۔ وہ اقوام جنہوں نے پیغام عزاداری کو سنا، سمجھا اور اس درس کربلا کو اپنی زندگیوں پر لاگو کیا، آج وہ لشکر حسین کی مانند دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں بھی ظلم و بربریت کی داستان دہرائی جاتی ہے، یہ حسینی لشکر وہاں انسانیت کا علمبردار بن کر ظلم و جہالت سے ٹکرا جاتا ہے۔
 

عالم اسلام پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں بہت سے ایسے مقامات دکھائی دیتے ہیں، جہاں حالات 61 ہجری کے حالات سے مختلف نہیں ہیں، کہیں کرپشن ہے، کہیں اقرباء پروری ہے، کہیں دین کو لبرلزم کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، کہیں دین کے احکامات میں تاویلات کے ذریعے ردو بدل کا عمل جاری ہے، کہیں مسلمان غیروں کے مظالم کا شکار ہیں اور کہیں اپنوں نے ان پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے۔ فلسطین، کشمیر میں مسلمانوں پر غیر مسلم حملہ آور ہیں۔ فلسطینی اور کشمیری مسلمان سات دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق، آزادی اور حق خودارادیت کے لئے قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ اگر امت مسلمہ عزاداری کے مشرب سے سیراب ہوئی ہوتی تو ناممکن تھا کہ فلسطینی اور کشمیری مسلمان اتنا عرصہ غیروں کے ستم کا نشانہ بنتے۔
 
آج میری توجہ کربلائے جزیرۃ العرب پر ہے۔ یہ وہ جزیرہ ہے، جہاں سے اسلام کا نور پھوٹا تھا اور دنیا میں اس کے چراغ جا بجا روشن ہوئے تھے، آج یہاں حاکم قوتیں اپنے عوام پر ظلم کے جو پہاڑ توڑ رہی ہیں، وہ ہمیں واقعہ عاشورہ سے قبل کے حالات کی جانب لے جاتے ہیں۔ بحرین اور اس متصل سعودی شہر قطیف میں موالیان حیدر کرار پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ بحرین کی علماء کی جماعت الوفاق پر پابندی عائد ہے، کئی علماء کی شہریت چھین لی گئی ہے، عوام کو حکومت و اقتدار اور دیگر ریاستی حقوق سے دور کر دیا گیا ہے۔ بحرین کے عالم شیخ عیسیٰ قاسم ایک لمبے عرصے سے نظر بند ہیں۔ نواجوانوں کو گرفتار کرکے ٹارچر کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تشدد کی سختیاں جھیلتے جھیلتے جان دے دینے والوں کے لاشے لواحقین کے سپرد کئے جاتے ہیں۔

یہی حال سعودیہ کے مشرقی علاقے کے عوام کا ہے۔ ان کے علماء کو قید کرکے مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔ اس علاقے کے جری عالم دین شیخ نمر باقر النمر کو حکومت کے خلاف بات کرنے پر سزائے موت دی گئی۔ مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں پر گولیاں چلائی گئیں، انھیں گرفتار کرکے عقوبت کا نشانہ بنایا گیا۔ اس صوبے کی ایک کثیر آبادی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے، حتی ہے سعودی حکومت نے اس مرتبہ شیعہ اکثریتی علاقے میں مذہبی پروگراموں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اور عزاخانوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
 
سخت ترین حالات یمن کے ہیں، جسے کربلائے عصر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یمن کی ساٹھ فیصد آبادی خانہ جنگی سے قبل خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی تھی۔ انسانی فلاح و بہبود کے اداروں سے ملنے والی مدد کے ذریعے وہاں کے شہریوں کے امور زندگی چلاتے تھے۔ ضروریات زندگی کی کمیابی، ذرائع رسل و رسائل کا نہ ہونا، غربت افلاس اس قوم کے نصیب میں گذشتہ کئی دہائیوں سے لکھا جاچکا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یمن کی سرزمین قدیم عرب قبائل کا مسکن ہے۔ اگر ان کو حقیقی عرب کہا جائے تو کچھ غلط نہیں۔ اویس قرنی کی یہ دھرتی پہلے ایک فوجی آمر کے زیر تسلط رہی، جس نے یہاں چالیس برس حکومت کی۔ اپنی حکومت کے دوران میں وہ فوجی حاکم عبیداللہ ابن زیاد اور عمر سعد کی مانند اپنے خلیفہ سے احکامات لیتا رہا۔ عوام کی حالت روز افزوں بد سے بدتر ہوتی گئی اور حاکم طبقہ دولت مند ہوتا رہا۔

پھر یہاں کے سادات جن کا تعلق امام حسن علیہ السلام کی نسل سے ہے، جنھیں حوثی کے نام سے جانا جاتا ہے، نے عوام کے ساتھ مل کر ظالمانہ نظام کے خلاف قیام کیا۔ یمن کا حاکم تو فرار کر گیا، تاہم سعودیہ کے حکام جو اس وقت یزید کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے یمن پر اپنا نیا گورنر یعنی منصور ہادی تعینات کر دیا۔ جب منصور ہادی نے بھی پچھلے گورنر کی مانند عوام کی سرکوبی کا آغاز کیا تو ایک مرتبہ پھر نسل امام حسن علیہ السلام میدان عمل میں اتری۔ حوثیوں نے یمن کے دیگر قبائل کے ساتھ مل کر یمن کے ایک بڑے حصے کو موجودہ گورنر سے واگزار کروایا۔ سعودیہ اور اس کے اتحادیوں کو بھلا سادات کا یہ قیام کہاں برداشت ہوسکتا تھا۔ جمہوریت اور عوامی اقتدار کا نعرہ لگا کر سعودی اتحاد کا لشکر یمن پر چڑھ دوڑا۔ 2015ء سے لے کر تا دم تحریر سعودی اور اتحادی طیارے یمن پر گولہ باری کر رہے ہیں۔
 
ملک کا رابطہ دنیا کے دیگر ممالک سے کاٹ دیا گیا ہے، یمن کے عوام کو ملنے والی امداد سعودی اتحاد اور اس کے حواریوں کی اجازت کے بغیر ملک میں نہیں پہنچ سکتی۔ دس ہزار سے زائد افراد ان حملوں کے نتیجے میں لقمہ اجل بن چکے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہیں، لاکھوں بچے قحط اور بیماری کا شکار ہیں، پوری یمنی قوم کو غذائی قلت کا سامنا ہے۔ ایک خبر کے مطابق اب غیور یمنی پتے کھا کر اپنا پیٹ بھرنے پر مجبور ہیں۔ ملک میں موجود انفراسٹرکچر کو فضائی حملوں کے ذریعے تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ پانی کے پلانٹس، خوراک کے ذخائر، کھیت، کھلیان، باغات، سڑکیں، پل، ائیرپورٹس، بندرگاہیں، سکول، مساجد، ہسپتال، بنیادی صحت کے مراکز، بازار، کھیلوں کے میدان، سرکاری املاک، گھر، جنازے، شادی کی محافل کچھ بھی سعودی و اتحادی بمباری سے محفوظ نہیں ہے۔
 
یہ واقعی کربلا کا منظر ہے، جب ایک لشکر نے امام حسین ؑ کے کاروان کو چاروں جانب سے گھیر لیا تھا اور ان سے تقاضا کیا جا رہا تھا کہ بیعت کرو یا مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ کربلا کی مانند ضروریات زندگی کی تمام راہوں کو مسدود کر دیا گیا ہے۔ ایک ظالم اپنی طاقت، سرمایہ، وسائل کے ذریعے چاہتا ہے کہ ایک کمزور قوم اس کے سامنے ہتھیار ڈال دے۔ اپنی گردن میں اس کی بیعت کا طوق ڈال لے۔ مگر اسے نہیں معلوم کہ اس کا سامنا حسینیوں سے ہوچکا ہے، جن کا نعرہ وہی حسینی نعرہ ہے، یعنی ھیھات من الذلۃ۔۔۔ ذلت ہمیں قبول نہیں ہے۔ سعودیہ اور اس کے حواریوں کو ظاہری طور پر یہ جنگ جیتنے کے لئے نسل حسین کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔ جنگ کون جیتے گا، واقعہ کربلا کو جاننے والے اس حقیقت سے نابلد نہیں ہیں۔
 
سوال تو یہ ہے کہ اس معرکہ میں ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ایک جانب کربلا والے ہیں، دوسری جانب یزید والے ہماری حالت یقیناً عالم اسلام کے دیگر مناطق والوں جیسی ہے۔ کچھ یزید کے حامی ہیں اور کچھ اس کے خلاف تاہم کربلا والوں کے مددگار بھی نہیں۔ حیرت ہے تاریخ کیسے ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ عزاداران حسین کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ کیا انہیں فقط 61 ہجری میں ہونے والے ظلم و ستم پر نوحہ و گریہ کرنا ہے یا 2018ء کی کربلائے یمن میں بھی ان کا کوئی کردار ہوگا۔ یہ پیغام کسی ایک مسلک کے لئے نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص کے لئے ہے، جو قیام حسین کو برحق جانتا تھا اور دل سے حسین کا حامی ہے۔ اس کے لئے لازم ہے کہ موجودہ زمانے کی کربلا میں اپنے کردار کا تعین کرے۔ وقت گزرنے کے بعد نوحہ و گریہ کا کام اگلی نسلوں کے لئے اٹھا رکھیئے۔
 
بشکریہ اسلام ٹائمز