واقعہ کربلا کا کلامی پہلو

ڈاکٹر محسن نقوی

واقعہ کربلا جو 10 محرم الحرام سنہ ۱۶ھ کو امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقائے واجب الاحترام کی اندوہ ناک شہادتوں پر منتج ہوا اپنے اندر حیات در ہدایت کے بے شمار پہلوسموئے ہوئے ہے۔ انھیں میں سے ایک اس کا عمومی پہلو بھی بھی ہے عدیم الفرصتی نیز بے بضاعتی کے سبب اس موضوع پر تفصیلی تحریر تو ہم پیش نہیں کر سکتے البتہ کچھ ایسے اشارات ضرور عرض کیے دیتے ہیں جو مستقبل میں تحقیق کا میدان بن سکیں گے۔

واقعہ کربلا ایک محیرالعقول واقعہ ہے جس تک ہمارا راہوار فکر پہنچنے سے قاصر ہے اور بے شمار دوسرے حضرات کی طرح ہم بھی اس کے بارے میں اپنے فہم کو تشکیل دینے میں قریباً نصف صدی سے مصروف ہیں اب کچھ باتیں عرض کرتے ہیں۔

واقعہ کربلا ایک پہلو سے کسی ردعمل کا نام نہیں بلکہ جو کچھ پیش آیا وہ امام حسین علیہ السلام کے ”عمل“ کا ردعمل تھا۔ اس واقعہ میں ایک فکر رواں ہوئی ہے جو ”دبستاں“ بنتی گئی جس کی ابتداءامیرالمومنین علیہ السلام کو خلافت ظاہری سے محروم کرنے سے ہوتی ہے اور جس کی ا نتہاءکربلا میں ہوئی۔ یہ کتاب کربلا نصف صدی کے کردار اہل بیت پر مشتمل ہے۔ اس میں حسین علیہ السلام”فاعل“ ہیں اور اس فعل پر ردعمل جو ہر دور میں ہوتا رہا سب کی سب ”واقعہ کربلا“ ہی کی کڑیاں۔ مرحوم امید فاضلی نے اس کے ایک پہلو کو یوں نظم کیا ہے:

اک محمد دشمنی کیا کیا قیامت ڈھا گئی

بدر کی حد بڑھتے بڑھتے کربلا تک آگئی

 مقاصد شریعة کی فہرست میں حفاظتِ دین، حفاظتِ نفس، حفاظتِ مال، حفاظتِ عقل اور حفاظتِ عرض یاناموس شامل ہے جسے حفاظتِ نسل کہا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا دین کامل جو نبی اکمل اور نبی خاتم کے ذریعے سے اس کرہ ارض پر جلوہ نما ہوا اس کی مکی سورتیں ہوں یا مدنی صورتیں دونوں انھیں پانچ مقاصد کے گرد گھومتی ہیں کیوں کہ یہی وہ پانچ مقاصد ہیں کہ جب ان کا حصول ممکن نہ ہو اور یہ اقدار معاشرے میں ناپید ہو جائیں تو ایک نئے نبی اور نئی شریعت کی ضرورت جنم لیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور ان کے مشن کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے انھیں ستونوں پر معاشرے کو قائم کیا۔ ان مقاصد میں سب سے بڑھ کر حفاظت دین ہے جس کے لیے نفس اور مال کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے ، عقل کی قربانی یہ ہے کہ وہ تابع شریعت ہو جب کہ عرض یا ناموس کا صرف وہی مطلب معتبر ہے جو شریعت خداوندی میں مقرر کردیا گیا ہے۔ ”عزت اور غیرت“ کے نام پر قائم غلط نظام ناموس کی حفاظت نہیں کرسکتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کے تاریخی کرداروں پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے پانچوں مقاصد شریعت کو نہ صرف متعین کیا بلکہ ان کی حفاظت کی کوشش کی گو کہ یہ سلطنت و حکومت کے حامل نہیں تھے لیکن اس رمز کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ ”دین باقی“ تو ”جہاں باقی“ کسی معاشرے کا تاریخ میں باقی رہنا اہم نہیں ہے بلکہ اس کا صحیح اقدار کے ساتھ باقی رہنا اہم ہے۔ یہ سفر کربلا کی طرف سفرہے۔

انسانی زندگی کے چار ابعاد (Dimensions) ہیں (i) اپنے آپ سے تعلق (ii) اپنے عزیز و اقارب یعنی والدین، بچے، رشتہ داروں سے تعلق (iii) معاشرے سے تعلق (iv) اپنے رب سے تعلق۔ جب ہم غور کرتے ہیں تو پہلے تین تعلقات کی صحت کا دارومدار اپنے ”رب سے تعلق“ پر ہے۔ جب یہ بگڑتا ہے تو انسان ظلوم وجہول بن جاتا ہے اور باقی تینوں تعلقات ظلم وجہل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاریخ اسلامی میں یہ بگاڑ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد شروع ہوا۔ معاشرے کے تعلقات” رب“ سے کمزور ہوتے جارہے تھے اور حکمرانوں سے مضبوط سے مضبوط تر۔ اس بگاڑنے جو تینوں ”ابعاد“کو بگاڑنا شروع کیا تو اس کی درستی کی صرف ایک ہی راہ تھی”رب“ سے تعلق کا مضبوط کرنا اور”دین“ کی حفاظت جو مقصود رب ہے۔

علامہ اقبال نے اس موقع پر کہا ہے:

رمزِ قرآں از حسین آموختیم

نیز

 آں کہ بخشد بے یقیناں را یقین

آن کہ لرزد از سجود او زمین

چنانچہ کربلا اس عمل کا استعارہ ہے جو اپنے عرصہ حیات ظاہری میں ان چاروں تعلقات کے استحکام کے لیے حضرات اہل بیت کرتے رہے تاکہ معاشرہ ”رب سے تعلق“ پر قائم رہے اور تعلقات کی دیگر جہتیں نہ بگڑیں کیوں کہ ان کا زوال در اصل معاشرے کے زوال کا سبب بنتا ہے۔

حاکم مدینہ ولید نے طلب بیعت کے لیے جب امام علیہ السلام کو بلایا تو اس موقع پر آپؑ نے اسے انتہائی قابل توجہ جواب دیا:

”ایھا الامیر! انا اھل بیت النبوة ومعدن الرسالة و مختلف الملائکة ومھبط الرحمة، بنافتح اللہ و بنا یختم ویزید رجل شارب الخمر و قاتل النفس محترمہ و معلن بالفسق و یحلل حرام اللہ و یحرم حلال اللہ و مثلی لا یبایع مثلہ۔“

          اے حاکم وقت! ہم اہل بیت نبوت ہیں اور گوہر ہائے رسالت ہمارے ہاں ہی پائے جاتے ہیں۔ ملائکہ ہمارے ہی گھر میں آتے جاتے ہیں اور رحمت ہمارے ہی گھر میں نازل ہوتی ہے۔اللہ نے سلسلہ ہدایت کو ہم ہی سے شروع کیا اور یہ ہم ہی پر ختم ہوگا۔ جب کہ یزید شراب پینے والا، محترم جانوں کو قتل کرنے والا، اعلانیہ فسق کرنے والا شخص ہے، جو حرام خدا کو حلال اور حلال خدا کو حرام کرنے والا ہے اور میری طرح کا کوئی شخص اس کی طرح کے کسی شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔1

اس خطبے کے مندرجات پر اور ہماری گزشتہ معروضات پر غورکریں تو واقعہ کربلا کی حقیقت سامنے آتی ہے۔

۱۔ امام حسین علیہ السلام نے یہ بتایا کہ یزیدی نظام میں حفاظت دین نہیں ہے،( وہ حلال خدا کو حرام اور حرام خدا کو حلال ٹھہراتا ہے۔)

۲۔ یہ کہ اس نظام میں حفظ جان نہیں ہے( وہ محترم جانوں کو قتل کرتا ہے)۔

۳۔ یہ کہ اس نظام میں عزتیں محفوظ نہیںہیں(اعلانیہ فسق و فجور کرتا ہے)۔

۴۔ اعلانیہ فسق و فجور اور حلال خدا کو حرام اور حرام خداکو حلال کرنے میں ہی اتلافِ دین، اتلافِ جان، اتلافِ عقل، اتلافِ حفاظت نسل اور اتلافِ مال سب ہی داخل ہے پھر بھی امام حسین علیہ السلام تمام امور کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں جو معاشرے کے انہدام کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ایک ”مسلمان معاشرے“ اور ایک ”اسلامی معاشرے“ میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وارث ہونے کے ناتے”اسلامی معاشرہ“ قائم کرنے کی تھی جس سے انحراف آنحضرت(ص) کی رحلت کے فوری بعد شروع ہو گیا تھا۔ چنانچہ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ وہ عہد جسے خلافتِ راشدہ سمجھا جاتا ہے اس میںتین خلفاءکو طبعی موت مرنا نصیب نہیں ہوا۔ اس سے بڑھ کر”دین“ سے معاشرے کے انحراف کی دلیل اور کیا ہوگی؟

امام حسین علیہ السلام نے اس انحراف از دین کو بار بار بیان کیا ہے اور لوگوں کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروائی ہے۔ ایک خطبے میں جو یا تو منزل ذی حسم پر دیا ہے یا کربلا پہنچنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے، یہ الفاظ ملتے ہیں:

اما بعد! فقد نزل بنا من الامر ما قدترون، وان الدنیا قد تغیرت و تنکرت و ادبر معروفھاءلم یبق منھا الا صبابہ کصبابة الاناءوخسیس عیش کا لمرعی الوبیل۔۔۔

اے لوگو! ہم پر جو مصیبت آپڑی ہے وہ تو تم دیکھ ہی رہے ہو اور یہ کہ دنیا بدل چکی ہے اور منکرات میں پھنس گئی ہے، معروف تو پس پشت چلا گیا ہے اور اس میں صرف ایسی تلچھٹ باقی بچ گئی ہے جیسی برتن میں سالن کی تلچھٹ ہوتی ہے، لوگ اپنی زندگی ننگ و ذلت کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہیں۔

 یہ تو معاشرتی اوضاع کی وہ عملی صورت ہے جو امام حسین علیہ السلام کا دور آتے آتے معاشرے پر محیط ہو چکی تھی۔ اس سے آگے امام عالی مقام اس کی بنیادی وجوہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں :

 الاترون ان الحق لا یعمل بہ وان الباطل لا یتنا ھی عنہ لیرغب المومن فی لقاءاللہ۔

کیا تم سب کو نظر نہیں آرہا کہ ”حق“(دین) پر عمل نہیں ہورہا اور باطل سے رکا نہیں جا رہا ہے، ایسے میں مومن کے لیے یہی ہے کہ وہ لقائے الٰہی کی طرف رغبت کرے۔

دین حق پر عمل نہیں ہو رہا اور جن باتوں سے معاشرے کو رکنا چاہیے ان سے لوگ رک نہیں رہے بلکہ اسی پر عمل کررہے ہیں۔ یہ صورت حال ایسی ہے کہ مومن اس میں ”لقائے الٰہی“ کی طرف راغب ہوتا ہے نہ کہ حیات مادی کی طرف۔

اوضاع معاشرہ یہاں تک خراب ہو جائیں تو مومن ضیق نفس کا شکار ہو جاتاہے۔ اس کا دل تنگ پڑنے لگتا ہے۔ اگلے جملے میں امام حسین علیہ السلام نے امت کے لیے ایک ضابطہ بیان فرمایا ہے:

فانی لا اری الموت الاسعادة والحیاة مع الطالمین الا برما۔

معاشرتی بگاڑ کی اس انتہاءپر میں”موت“ کو محض سعادت سمجھتا ہوں جب کہ ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو محض باعث عار سمجھتا ہوں۔ امام عالی مقام اپنا روئے سخن دوبارہ معاشرے اور اس میں دین کی اہمیت کی طرف موڑتے ہیں:

الناس عبیدالدنیا والدین لَعق علی السنتھم یَحوطونہ مَادَرَّتم عایشھم فاذا مُحِّصُوا بالبلاءقلّ الدَّیّانون

لوگ دنیا کے غلام ہیں جب کہ دین محض ان کی زبانوں کے ذائقے کے لیے ہے۔ یہ دین کا نام صرف اس وقت تک لیتے ہیں جب تک ان کی معاش کی بہتری اس سے وابستہ ہے لیکن جب دین کے معاملے میں مورد امتحان میں آتے ہیں تو کم ہی ہیں جو دین دار ثابت ہوتے ہیں۔2

 اس خطبے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ”ماقدترون“ جو کچھ کہ ”تم سب“ دیکھتے ہو، جو تم سب کو نظر آرہاہے، نیز ”الا ترون؟“ کیا تم سب یہ نہیں دیکھ رہے ہو“ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ جمع کے صیغے ہیں، یہاں مخاطب سب لوگ ہیں، معاشرے سے خطاب کیا جارہا ہے کہ ” کیا تم یہ سب نہیں دیکھ رہے ہو؟“ اب لوگوں کا اس سوال پر سکوت اختیار کرنا امام علیہ السلام کے موقف کی تائید ہے ورنہ انھیں امام عالی مقامؑ کے پورے موقف یا پھروہ کسی جزءکی تردید کرتے، ان لوگوں کا تردید نہ کرنا موقف امامؑ کی تائید ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے پاس امامؑ کے جواب میں کہنے کو کچھ نہ تھا۔

امام علیہ السلام نے 59ءمیں جب آخری مرتبہ حج کیا تو موسم حج میں منیٰ کے مقام پر اکابر قوم کو جمع کیا اور ان سے خطاب کیا۔ اس خطبے کے بعض اجزاءہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ ان اکابر کے منصب اور اثرورسوخ کو بیان کرنے کے بعد آپؑ فرماتے ہیں:

الیس کل ذالک انما نِلتمُوہ بما یرجیٰ عند کم من القیام بحق اللہ و ان کنتم عن اکثر حقہ تقصرون، فاستخففتم بحق الائمة فاَما حق الضعفاءفضیعتم، واما حقکم بزعمکم فطلبتم فلا مالاً بذلتموہ، ولا نفساً خاطر تم بھا للذی خلقھا، ولا عشیرةً عادیتموھا فی ذات اللہ۔

یعنی یہ تمام درجات تمھیں اس لیے حاصل ہوئے ہیں کہ تم سے توقع کی جارہی ہے کہ تم حق کے لیے قیام کرو گے، گو کہ تم لوگ بیشتر حقوق الٰہی کو پورا نہیں کرتے، پس تم نے آئمہ کے حقوق کو خفیف سمجھا اور جہاں تک کمزوروں کے حقوق کا تعلق ہے تو وہ تم نے ضائع کردیے، البتہ اپنے جس حق کے تم دعوے دار تھے اسے خوب مانگا، کوئی مال ایسا نہیں ہے جو تم نے دیا ہو، نہ ہی تمھیں جس مقصد کے لیے خلق کیا گیا ہے اس کے لیے تم نے اپنی جان کو خطرات میں ڈالا ہے اور نہ ہی اللہ کی خاطر اپنے رشتہ داروں کی مخالفت مول لی ہے۔

بعدازاں آپ نے فرمایا:

وقَد تَرْوْنَ عْھْودَ اللہ مَنْقُوضۃ فلا تَقْزعُون وانتم لبعض ذممکم أبائکم تفزعون و ذِمۃُ رسول اللّٰہ محقورۃ،وَالْعُمْی وَاْلبُکْمْ وَالزَّمنیٰ فی المدائن مُھْملَۃ لا تَرْحَمُون، ولا فی منزلتکم تَعْمِلون ولامَنْ عَمِل فیھا تُعْیِنُوْن، ولا بالادھان والمصاَنَعَۃِ عندالظَّلَمَۃِ تأمنونْ، کل ذالک مما أمرکم اللہ بہ، من النھی و التناھی، وأنتم عنہ غافلون۔

 اور تم نے دیکھا کہ اللہ سے کیے گئے عہد و پیمان ٹوٹ چکے ہیں اور تم اس پر آوازنہیں اٹھاتے لیکن تمھارے آباءو اجداد کی مذمت میں کچھ کہا جاتاہے تو تم شور مچاتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے امت پر جو ذمہ داری ہے اس کی تحقیر کردی گئی ہے، نابینا اور بے سماعت نیز معاشی بدحالی کے شکار لوگ گلی محلوں میں بے یارومددگار پڑے ہوئے ہیں اور تم لوگ ان پر رحم نہیں کرتے اور نہ ہی تم اپنی منزلت کے مطابق عمل کررہے ہو، جو ان امور کے بارے میں کچھ نہ کچھ کررہا ہے تم اس کی اعانت بھی نہیں کرتے۔ مظالم کی صورت میں چشم پوشی اور حیلہ گری سے تم اپنے کو بچا لیتے ہو۔ یہ سب صورتیں ایسی ہیں جن سے بچنے کا اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے اور یہ کہ تم ایک دوسرے کو بھی روکو۔ حالانکہ تم اپنے اس فریضے سے غافل ہو۔ 3

خطبہ منیٰ کے درج بالااجزاءمیں امام عالی مقام نے نہ صرف یہ کہ ”عوام الناس“ کی تصویر کشی کی ہے بلکہ ان طبقات کے رویوں کی بھی نشاندہی کی ہے جن کی غفلت سے دین اسلام، اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی معاشرے میں کوئی اہمیت و حیثیت نہیں رہی اور اسی سبب سے عوام الناس بے عزت و توقیر ہو گئے۔

اس خطبے میں امام عالی مقامؑ نے اور کئی معاشرتی جرائم پر سے پردہ اٹھایا ہے اور لوگوں کی غفلت و بے حمیتی کی طرف اشارے کیے ہیں۔ آخر میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں:

”اے اللہ تو جانتا ہے کہ یہ ساری تحریک حکومت و اقتدار کے حصول کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی مال و دولت اکٹھی کرنے کے لیے ہے لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ دینی تعلیمات لوگوں کو پتہ چلیں اور تیرے شہروں میں اصلاح غالب ہو، نیز تیرے مظلوم بندے امن میں رہیں اور تیرے عائد کردہ فرائض، سنن اور احکام پر عمل کیا جائے۔“

بعدازاں آپؑ لوگوں سے پھر مخاطب ہوئے اور فرمایا:

فان لم تنصرونا و تنصفونا، قوی الظلمة علیکم و عملوا فی اطفاءنور نبیکم، وحسبنا اللہ و علیہ توکلنا، والیہ انبنا، والیہ المصیر۔

ان حالات میں اگر تم لوگ ہماری مدد نہیں کرو گے اور ہم سے انصاف نہ کرو گے تو ظالمین تم پر قوت حاصل کرلیں گے اور وہ تو تمھارے نبی کے نور کو بجھانے کے لیے کام کررہے ہیں، ہمارے لیے تو اللہ ہی کافی ہے اور اسی پر ہم توکل کرتے ہیں۔ اسی سے ہم فریاد کرتے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔ (تحف العقول)

وہی پانچ مقاصد شریعت جن کا ذکر اس مضمون کی ابتداءمیں کیا گیا، اس خطبے میں بھی ذکر کیے گئے ہیں یعنی حفاظت دین، حفاظت جان، حفاظت مال، حفاظت عقل اور حفاظت نسل۔ امام عالی مقام علیہ السلام کاموقف یہ تھاکہ جب معاشرتی بگاڑ اس حد تک ہو چکا اور جن کے کاندھوں پر دین و معاشرے کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی گئی وہ اسے پورا کرنے کے بجائے خود اپنی مفاد پرستی پر جمے ہوئے ہیں تو اب ”دین اور معاشرے“ کو انحطاط سے بچانے کے لیے اقدام کرنا ضروری ہے، قیام کرنا ضروری ہے۔

واقعہ کربلا کے بعد جو یہ بحثیں چھیڑ دی گئیں کہ کلامی نقطہ نظر سے اور فقہی طور پر امام حسین علیہ السلام کا قیام صحیح تھا یا نہیں؟ اہل مکہ و مدینہ نے زبردستی یزید کی بیعت کرلی تھی تو کیا امام حسینؑ کو قیام کرنا چاہیے تھا؟ اور اسی قسم کی دوسری بحثیں ہمارے نقطہ نظر سے فضول و بے اصل ہیں۔ ان میں بنیادی حقیقتوں کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔

۱۔       کبھی کسی نبی یا رسول نے اپنے زمانے کے حکمران سے یہ سوال نہیں کیا کہ وہ دنیاوی لحاظ سے صحیح طریقے سے تخت پر بیٹھا ہے یا نہیں؟ اس کے باپ نے جانشین بنایا ہے یا اپنے کسی بھائی کو قتل کرکے حاکم بنا ہے؟ انبیاءو رسل نے ان حکمرانوں کے عقیدے اور کردار نیز عوام کی حالت پر بات کی ہے۔

۲۔       مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شرک کے خلاف جدوجہد کی، نمرود نے دعوائے خدائی کیا تو ابراہیم علیہ السلام نے اسے چیلنج کیا: میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو مغرب کی سمت سے نکال کے دکھا۔

۳۔       حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا : تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنایا ہوا ہے۔ نیز اس کے ساحروں کا مقابلہ کیا۔ اس سے یہ نہیں پوچھا کہ تمھاری حکومت قانونی طور پر درست ہے یا غلط، بادشاہ تو مثلاً تمھارے بھائی کو بننا چاہیے تھا، بادشاہ بن کے تم بیٹھ گئے، لہٰذا میری تم سے لڑائی ہے۔

۴۔       حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اصل لڑائی یہودی ربیوں سے تھی کہ وہ احکام الٰہی کو چھپاتے ہیں اور انھوں نے رومی ٹیکس کے افسران سے سازباز کر رکھی ہے۔ وہ لوگوں کو بتاتے تھے کہ رومی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ افسروں اور ٹیکس وصول کرنے والوں نے کیا ظلم برپا کیا ہواہے۔ انھیں جرائم میں ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔

۵۔       رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پورے دور حیات میں قبائلی سرداروں کی تقرری پر کبھی تنقید نہیں کی، کبھی نہیں فرمایا کہ فلاں قبیلے کا سردار غلط طور پر متعین ہوا ہے یا سردار بن بیٹھا ہے۔ حضرت اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مظلوم طبقات کی بات کی ہے، غلط رسوم و رواج کی بات کی ہے، بے ہودہ عقائدو نظریات پر ضرب کاری لگائی ہے۔

۶۔       اس کا مطلب یہ ہے کہ ہادیان دین نے حاکمان وقت کی مخالفت طریقہ تقرری پر کبھی نہیں کی جب بھی گفتگو کی معاشرتی اوضاع پر غلط عقائد و نظریات پر کی تو پھر امام حسین علیہ السلام جو وارث انبیاءاور سلسلہ ہدایت کی ایک مضبوط کڑی تھے ان کے اقدام کو اسی کسوٹی پر کیوں نہ پرکھا جائے کہ اس وقت معاشرے کی حالت کیا تھی اور خود دین کن مصائب میں مبتلا تھا۔

امام حسین علیہ السلام نے مدینہ میں طلب بیعت سے قبل سے لے کر مقام شہادت پر فائز ہونے تک یزید کے سر یر آرائے سلطنت ہونے پر گفتگو کرنے کے بجائے ان پانچوں مقاصد شریعہ کی زبوں حالی کو بار بار بیان کیا ہے جن کی بناءپر معاشرے قائم رہتے یا پھر برباد ہو جاتے ہیں۔

ہم نے قیام امام حسین علیہ السلام کے بارے میں غیر امامی مکاتب فکر کی جو کتابیں مطالعہ کی ہیں ان میں بحث کامرکزی نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ ”یزید کا تقرر صحیح اسلامی اصولوں کے مطابق ہوا تھا لہٰذا امام حسینؑ کو اس کے خلاف قیام نہیں کرنا چاہیے تھا“ ایسے حضرات یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے یزید اور آل امیہ کی مخالفت اس بناءپر کی ہی نہیں تھی، ان کے قیام کی اساس تو عقائد و نظریات کا بگاڑ نیز عوام کی حالت زار اور مقاصد شریعت سے احتراز تھا۔ یہ قضیہ بھی نامرضیہ ہے کہ یزید کا انتخاب اور تقرر اسلامی اصولوں کے مطابق ہوا تھا۔

یہاں ہم ایک اور اہم اور پرلطف امر کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ یہ کہ قصہ جنگ جمل ہو کہ جنگ صفین، واقعہ کربلا ہو یا واقعہ حرہ ان پر استدلال میں ان کتابوں اور علماءکے حوالے دیے جاتے ہیں جوبہت بعد میں ہو گزرے ہیں۔ یعنی ان واقعات کے حکومتی بیانیے کی تائید تیسری، چوتھی اور مابعد کی صدیوں میں آنے والے علماءکے بیانات سے کی جاتی ہے۔ ایں چہ بو العجبیست؟

دور یزید میں پیش آنے والے دیگر کئی واقعات مثلاً واقعہ حرّہ، مدینہ کا لشکریوں پر مباح ہونا، عبداللہ بن زبیر کے ساتھ حاکم کا سلوک وغیرہ امام حسین علیہ السلام کے موقف کی تائید اور ان نام نہاد علماءکی تردید کے لیے بہت کافی ہیں۔

حوالہ جات

الطبری، 216-18/7، الکامل لابن الاثیر263-64/3، الارشاد للمفید، 200، مثیرالأحزان لابن نما،10

الطبری،300/7، ابن عساکر۔ امام حسینؑ ،214، تحف العقول174

تحف العقول، ابن شعبۃ الحرانی، ص 71,72۱، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت 1974ء