کلام امام (ع) کی روشنی میں معاشرتی تنزل کی علامات، اسباب اور ہم 4

تحریر: سید اسد عباس

ایک نظر گذشتہ تحریروں پر
قارئین کرام ہم نے گذشتہ تحریروں میں امام عالی مقام کے مقصد و ہدف کو ان کے چند خطابات اور کلمات کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی۔ اگر اس کا خلاصہ بیان کیا جائے تو یہی ہے کہ آپ کا قیام منشور فلاح انسانیت یعنی دین الٰہی کی بقاء اور تحفظ کے لئے تھا اور امام علیہ السلام کے خطبات و کلمات کی روشنی اس کی تفصیل یہ ہے کہ معاشرے میں پیدا ہونے والا فساد اور خرابی دین سے دوری اور انسان کے خدا سے ربط میں کمی کے سبب سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام عالی مقام کے فرزند سید الساجدین نے واقعہ کربلا کے بعد کی زندگی میں دعاؤں کے ذریعے فرد اور خدا کے ربط کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی۔ امام زین العابدین علیہ السلام کی دعائیں الٰہی معارف کا خزینہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنے رب سے قریب تر کرنے کا ایک وسیلہ بھی ہیں۔ رسالت ماب ؐ کا قائم کردہ الٰہی معاشرہ جس نے بدر، احد، خیبر اور حنین جیسے معرکے لڑے، کفار مکہ اور قبائل مدینہ کی سختیوں کو برداشت کیا، اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے قربانیاں پیش کیں، کیسے رحلت پیغمبر کے فقط ساٹھ برس بعد اپنے رب سے بے ربط ہوگیا اور روحانیت کی جگہ ان غیر انسانی خصلتوں نے لینا شروع کی، جس کے خلاف رسالت ماب نے قیام کیا تھا اور جن سے چھٹکارے کے لئے اسلام کو بطور دین پیش کیا گیا تھا۔


اقرباء پروری، کرپشن، وعدہ خلافی، حیلہ سازی، بے گناہ انسانوں کا قتل، معاشرتی تفاوت، عزت و ناموس کی پامالی، نسلی و قبائلی تعصب، دین کو رسم کا درجہ دینا اور اس جیسی رذیل صفات نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور خطرناک ترین بات یہ تھی اسلامی امارت جسے نبی کریم ؐکے دین کا محافظ ہونا چاہیے تھا، ان تمام خرابیوں اور برائیوں کا مرکز بن چکی تھی۔ امام عالی مقام کے خطبات اور بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ معاشرہ جاہلیت اور قبل اسلام کے معاشرے کی جانب رواں دواں تھا۔ یہ سفر دین مبین اسلام کے خاتمے کا سفر تھا۔ فقط ساٹھ برس میں ایک نبی کی محنت اور اس کا قائم کردہ معاشرہ غارت ہو رہا تھا۔ ایسے میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب و اہلبیت نے وہی کام انجام دیا، جو الٰہی نمائندوں اور ان کے پیروکاروں کی ذمہ داری بنتی ہے۔ دین الٰہی یعنی منشور فلاح انسانیت کے تحفظ کے لئے اپنی جان، مال، اولاد حتٰی کہ ناموس کی قربانی پیش کی گئی اور حق و باطل کے مابین ایک واضح لکیر کھینچ دی گئی۔ ان افراد کا قیام بتاتا ہے کہ یہ وہ افراد تھے جن کا ربط اپنے رب سے قائم تھا۔ کیوں نہ ہوتا، یہ خانوادہ پیمبر تھا، علی و بتول کے پروردہ تھے یا وہ جو ان کے اصحاب و زیر تربیت رہے۔ اصحاب بدر، احد اور حنین کی طرح یہ افراد دین خدا اور انسانی اقدار کے تحفظ کے لئے کسی بھی مشکل کو خاطر میں نہ لائے ۔امام کا یہ جملہ کتنا اہم ہے۔"بارالہا تو جانتا ہے کہ ہمارا کوئی بھی اقدام نہ تو حصول اقتدار کے لئے رسہ کشی ہے اور نہ ہی مال کی زیادتی کے لئے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ تیرے دین کی نشانیوں کو آشکار کریں اور تیری زمین پر بھلائی عام کریں، تیرے مظلوم بندوں کو امان میسر ہو اور تیرے فرائض، سنتوں اور احکام پر عمل ہو۔"

ہم اور ہمارا معاشرہ
آج ہم دیکھتے ہیں کہ عالم اسلام اور پاکستانی معاشرہ جو کہ اس جہان اسلام کا حصہ ہے، اس معاشرے سے مختلف نہیں جس کی نشاندہی امام عالی مقام نے اپنے خطبات میں کی۔ کرپشن، اقرباء پروری، عدم مساوات، معاشرتی تفاوت، حقوق کی پامالی، حلال و حرام کی تمیز کا خاتمہ، جان و مال، عزت و ناموس کا غیر محفوظ ہونا، دین کا ایک رسم کی صورت اختیار کر جانا اور اس رسم کو ادا کروانے والوں کا ایک گروہ سب اسی طرح سے ہے۔ امارت اسلامی کا شعبہ بھی تنزلی سے دوچار ہے، عدل و انصاف ناپید ہیں۔ وہ طبقہ جس سے امام عالی مقام نے منٰی میں خطاب کیا، بھی اس ساری بے اعتدالی اور معاشرتی خرابی پر منٰی والوں کی مانند خاموش ہے۔ امام عالی مقام کے جملے ’’جہاں تک کمزوروں کے حقوق کا تعلق ہے تو وہ تم نے ضائع کر دیئے، البتہ اپنے جس حق کے تم دعوے دار تھے، اسے خوب مانگا، کوئی مال ایسا نہیں ہے، جو تم نے دیا ہو، نہ ہی تمھیں جس مقصد کے لئے خلق کیا گیا ہے، اس کے لئے تم نے اپنی جان کو خطرات میں ڈالا ہے اور نہ ہی اللہ کی خاطر اپنے رشتہ داروں کی مخالفت مول لی ہے اور تم نے دیکھا کہ اللہ سے کئے گئے عہد و پیمان ٹوٹ چکے ہیں اور تم اس پر آواز نہیں اٹھاتے، لیکن تمھارے آباء و اجداد کی مذمت میں کچھ کہا جاتا ہے تو تم شور مچاتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے امت پر جو ذمہ داری ہے، اس کی تحقیر کر دی گئی ہے، نابینا اور بے سماعت نیز معاشی بدحالی کے شکار لوگ گلی محلوں میں بے یارومددگار پڑے ہوئے ہیں اور تم لوگ ان پر رحم نہیں کرتے اور نہ ہی تم اپنی منزلت کے مطابق عمل کر رہے ہو، جو ان امور کے بارے میں کچھ نہ کچھ کر رہا ہے تم اس کی اعانت بھی نہیں کرتے۔ مظالم کی صورت میں چشم پوشی اور حیلہ گری سے تم اپنے کو بچا لیتے ہو۔ یہ سب صورتیں ایسی ہیں، جن سے بچنے کا اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے اور یہ کہ تم ایک دوسرے کو بھی روکو۔ حالانکہ تم اپنے اس فریضے سے غافل ہو۔ ان کے (حکومت پر) قبضہ کرنے کی وجہ تمھارا موت سے فرار اور اور اس عارضی زندگی سے محبت ہے۔‘‘

امام عالی مقام نے اس روش کا نتیجہ بھی بتایا جو آج ہم اپنی آنکھوں سے اسلامی معاشروں میں دیکھ رہے ہیں کہ ظالم ہم پر غالب آچکے ہیں اور نبی رحمت کے نور (دین خدا) کو خاموش کرنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ بالکل اس معاشرے کی طرح دین داری فقط رسومات تک محدود ہوچکی ہے، نور نبی یعنی ایک الٰہی و عادلانہ معاشرے کے قیام کی تمام صورتیں معدوم ہوچکی ہیں۔ غریب ظلم کی چکی تلے پس رہے ہیں، بھوک، افلاس، عزت و ناموس کی بے توقیری، قبائلی و نسلی عصبیت عروج پر ہے، جس کا جی چاہتا ہے دوسرے مسلمان کے حقوق کو پامال کرتا ہے۔ خون بہاتا ہے، مال کو لوٹتا ہے۔ ملکوں کو زیر تسلط لانے کے لئے ان پر حملے کئے جاتے ہیں، عوام کے حقوق کو غصب کیا جاتا ہے، دشمن حملہ کرتا ہے، کوئی تحفظ کرنے والا نہیں۔ معاشی بدحالی کے شکار لوگ گلی محلوں میں بے یارومددگار پڑے ہوئے ہیں، کوئی ان پر رحم کرنے والا نہیں۔ وہ جن کو دین کی وجہ سے عزت ملی، اپنے حق کے لئے تو چلاتے ہیں، تاہم مظلوموں کے حقوق پر آواز بلند نہیں کرتے۔ اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ وہ حسین کے نام لیوا بھی ہیں، ان کی تحریک کے پرچم بردار بھی۔ خداوند کریم ہمیں حقیقی معنوں میں امام عالی مقام کے عزادار بننے اور ان کے مقصد کو سمجھتے ہوئے انسانیت کے اس کاروان میں اپنی ذمہ داری انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ کل روز قیام ہم حسین ؑ اور ان کے نانا نبی رحمت ؐ کے حضور سرخرو ہوسکیں۔آمین
اعظم اللہ اجورنا و اجورکم بمصابنا بالحسین

بشکریہ اسلام ٹائمز