کلام امام (ع) کی روشنی میں معاشرتی تنزل کی علامات، اسباب اور ہم 3

 

تحریر: اسد عباس تقوی

اتمام حجت اور معاشرتی برائیوں کے سرچشمے کی نشاندہی
مقام بیضہ پر امام عالی مقام نے حر کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایھا الناس! ان رسول اللہ قال: من رای سلطانا جائرا مستحلا لحرام اللہ ناکثا عھدہ مخالفا لسنۃ رسول اللہ یعمل فی عباد اللہ بالاثم والعدوان فلم یغیر علیہ بفعل ولا قول، کان حقا علی اللہ ان یدخلہ مدخلہ۔ الا وان ھولاء قد لزموا طاعۃ الشیطان و ترکوا طاعۃ الرحمن و اظھروا الفساد و عطلو الحدود واستاثروا با لفیء و احلوا حرام اللہ و حرموا حلالہ وانا احق ممن غیر۔1"اے لوگو! رسول ؐ نے فرمایا: جو شخص ظالم بادشاہ کو خدا کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور حرام چیزوں کو حلال قرار دیتے، خدا کے عہد کو توڑتے، سنت رسول کی مخالفت کرتے اور خدا کے بندوں پر ظلم روا رکھتے ہوئے دیکھے اور قول و فعل سے اس کی مخالفت نہ کرے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ انھوں (بنی امیہ) نے شیطان کے حکم کے تحت خدا کی اطاعت سے روگردانی کرلی ہے، فساد پھیلا رہے ہیں، خدا کی حدود کا کوئی پاس و لحاظ نہیں کرتے، بیت المال کو خود سے مخصوص کر لیا ہے، خدا کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال سمجھ لیا ہے، انہیں ان بدکاریوں سے روکنے کا میں خود کو مستحق سمجھتا ہوں۔" امام حسین علیہ السلام کا مخاطب معاشرہ تھا۔ امام نے اپنے سامعین کو معاشرے میں پیدا ہوتے بگاڑ کی اصل وجہ کی جانب متوجہ کیا اور کہا کہ آو اس بگاڑ کے خلاف قیام کریں، آو اللہ کی جانب لوٹ جائیں، آو پیغمبر اکرم کے دین کی حفاظت کے لئے نکل کھڑے ہوں۔ وہ دین جو ہم سب کی جان، مال، عزت و ناموس کی حفاظت کی ضمانت مہیا کرتا ہے۔


لوگ آپ کے خطبات سنتے رہے، اس پر سر دھنتے رہے۔ کسی نے آپ کی باتوں کی تردید نہ کی، جن معاشرتی مفاسد پر آپ روشنی ڈال رہے تھے، سب ان کو تسلیم کرتے تھے، تاہم 72 پاکیزہ نفوس کے سوا کوئی ان سے چھٹکارے پر آمادہ نظر نہ آیا۔ بالآخر مقاصد شریعت میں سے مہم ترین مقصد شریعت یعنی دین کی حفاظت کرتے ہوئے امام عالی مقام اور ان کے ہمراہ بہتر جانثاروں نے اپنی جان، مال اور ناموس راہ خدا میں قربان کر دی اور تاابد امر ہوگئے۔ امام عالی مقام کا حفاظت دین اور انسانیت کے لئے قیام اس وقت کے معاشرے کو تو سمجھ نہ آیا، تاہم بعد میں انسانی نسلیں اس قیام سے مستفید ہوتی رہیں اور تاقیام قیامت مستفید ہوتی رہیں گی اور بالآخر ان کا فرزند حجت دوران اس معاشرے کی قیادت کرے گا، جس کی بنیاد انبیاء علیہم السلام نے رکھی اور جس کے تحفظ پر مہر تصدیق محمد و آل محمدنے اپنے خون سے ثبت کی۔ بقول علامہ محمد اقبال
زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است

نیز
بہر حق در خاک و خون غلتیدہ است
پس بنائے لا الہ گردیدہ است

اکابر اسلام سے خطاب
امام عالی مقام کے خطابات میں سے اہم ترین خطاب 59 ھ میں حج کے موقع پر اکابر اسلام سے خطاب ہے۔ یہ لوگ معاشرے میں اذہان سازی کے ذمہ دار تھے اور دین اسلام کا علم رکھنے کی وجہ سے ان کا ایک مقام و منصب تھا۔ امام علیہ السلام نے اپنی تحریک کا آغاز اسی طبقہ سے کیا۔ خطبہ منٰی میں امام عالی مقام نے فرمایا: ألیس کل ذالک انما نِلتمُوْہ بما یرجیٰ عند کم من القیام بحق اللہ و ان کنتم عن اکثر حقہ تقصرون، فاستخففتم بحق الأئمۃ فاَما حق الضعفاء فضیعتم، واما حقکم بزعمکم فطلبتم فلا مالاً بذلتموہ، ولا نفساً خاطر تم بھا للذی خلقھا، ولا عشیرۃً عادیتموھا فی ذات اللہ۔ یعنی "یہ تمام درجات تمھیں اس لئے حاصل ہوئے ہیں کہ تم سے توقع کی جا رہی ہے کہ تم حق کے لئے قیام کرو گے، گو کہ تم لوگ بیشتر حقوق الٰہی کو پورا نہیں کرتے، پس تم نے آئمہ کے حقوق کو خفیف سمجھا اور جہاں تک کمزوروں کے حقوق کا تعلق ہے تو وہ تم نے ضائع کر دیئے، البتہ اپنے جس حق کے تم دعوے دار تھے، اسے خوب مانگا، کوئی مال ایسا نہیں ہے جو تم نے دیا ہو، نہ ہی تمھیں جس مقصد کے لئے خلق کیا گیا ہے، اس کے لئے تم نے اپنی جان کو خطرات میں ڈالا ہے اور نہ ہی اللہ کی خاطر اپنے رشتہ داروں کی مخالفت مول لی ہے۔"

بعدازاں آپ نے فرمایا: وقَد تَرْوْنَ عْھْودَ اللہ مَنْقُوضۃ فلا تَقْزعُون وانتم لبعض ذممکم أبائکم تفزعون و ذِمۃُ رسول اللّٰہ محقورۃ،وَالْعُمْی وَاْلبُکْمْ وَالزَّمنیٰ فی المدائن مُھْملَۃ لا تَرْحَمُون، ولا فی منزلتکم تَعْمِلون ولامَنْ عَمِل فیھا تُعْیِنُوْن، ولا بالادھان والمصاَنَعَۃِ عندالظَّلَمَۃِ تأمنونْ، کل ذالک مما أمرکم اللہ بہ، من النھی و التناھی، وأنتم عنہ غافلون۔"اور تم نے دیکھا کہ اللہ سے کئے گئے عہد و پیمان ٹوٹ چکے ہیں اور تم اس پر آواز نہیں اٹھاتے، لیکن تمھارے آباء و اجداد کی مذمت میں کچھ کہا جاتا ہے تو تم شور مچاتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے امت پر جو ذمہ داری ہے، اس کی تحقیر کر دی گئی ہے، نابینا اور بے سماعت نیز معاشی بدحالی کے شکار لوگ گلی محلوں میں بے یارومددگار پڑے ہوئے ہیں اور تم لوگ ان پر رحم نہیں کرتے اور نہ ہی تم اپنی منزلت کے مطابق عمل کر رہے ہو، جو ان امور کے بارے میں کچھ نہ کچھ کر رہا ہے، تم اس کی اعانت بھی نہیں کرتے۔ مظالم کی صورت میں چشم پوشی اور حیلہ گری سے تم اپنے کو بچا لیتے ہو۔ یہ سب صورتیں ایسی ہیں، جن سے بچنے کا اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے اور یہ کہ تم ایک دوسرے کو بھی روکو۔ حالانکہ تم اپنے اس فریضے سے غافل ہو۔"علی الاعلان فسق و فجور کرنے والے عاملین کی حکومت اور اقتدار کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: سلطھم علی ذالک فرارکم من الموت، واعجابکم بالحیاۃ التی ھی مفارقتکم۔ "ان کے (حکومت پر) قبضہ کرنے کی وجہ تمھارا موت سے فرار اور اور اس عارضی زندگی سے محبت ہے۔" امام عالی مقام اسی خطبے میں ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق نہ کہنے کے نتائج بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: فاسلمتم الضعفاء فی ایدیھم فمن بین مستعبد مقھور و بین مستضعف علی معیشۃ مغلوب"تم نے معاشرے کے کمزور لوگوں کو ان (امویوں) کے سپرد کر دیا، جن میں سے کچھ غلاموں کی مانند کچل دیئے گئے اور کچھ اپنی معیشت کے ہاتھوں بے بس ہوگئے۔"

امت رسول ؐ کی رحلت رسول ؐ کے صرف ساٹھ برس بعد حالت پر ان الفاظ سے تعجب کرتے ہیں: فیا عجبا وما لی اعجب والارض من غاش غشوم و متصدق ظلوم و عامل علی المومنین بھم غیر رحیم"تعجب ہے! اور کیوں نہ تعجب کیا جائے کہ زمین ایک دھوکہ باز ستم کار کے ہاتھ میں ہے اور اس کے عامل مومنین کے لئے بے رحم ہیں۔" خطبے کے آخر میں امام کے یہ دعائیہ کلمات امام کے اھداف و مقاصد کی ترجمانی کرتے ہیں: اللھم انک تعلم انہ لم یکن ما کان منا تنا فسا فی سلطان ولا التماسا من فصول الخصام، ولکن لنری المعالم من دینک و نظھرا الاصلاح فی بلادک، ویامن المظلومون من عبادک، ویعمل بفرائضک وسننک و احکامک۔"بارالہا تو جانتا ہے کہ ہمارا کوئی بھی اقدام نہ تو حصول اقتدار کے لئے رسہ کشی ہے اور نہ ہی مال کی زیادتی کے لئے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ تیرے دین کی نشانیوں کو آشکار کریں اور تیری زمین پر بھلائی عام کریں، تیرے مظلوم بندوں کو امان میسر ہو اور تیرے فرائض، سنتوں اور احکام پر عمل ہو۔"فانکم الا تنصرونا تنصفونا قوی الظلمۃ علیکم، وعلموا فی اطفاء نور نبیکم۔"اے لوگو! اگر آج تم نے ہماری مدد نہ کی اور ہم سے انصاف نہ کیا تو ظالم تم پر غالب آجائے گا اور تمھارے نبی کے نور (دین خدا) کو خاموش کرنے میں زیادہ متحرک ہو جائیں گے۔" و حسبنا اللہ، وعلیہ توکلنا والیہ انبنا والیہ المصیر2
۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔
حوالہ جات 

1۔ مقتل الحسین مقرم ص 184
2۔ تحف العقول، ابن شعبۃ الحرانی، ص 71,72۱، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت 1974ء