کلام امام (ع) کی روشنی میں معاشرتی تنزل کی علامات، اسباب اور ہم 2

تحریر: سید اسد عباس

امام کا جوابی خط، معاشرے میں پیدا کردہ فساد نیز مقاصد شریعت کے تلف ہونے کی نشاندہی:
امیر شام نے یزید کی بیعت کے معاملے کو آگے بڑھانے کے لئے امام عالی مقام کو ایک خط تحریر کیا، جس میں اپنی دین داری، ایفائے عہد اور دیگر فضیلتوں کے پل باندھے۔ جس کے جواب میں امام نے فرمایا: ۔۔۔۔الست القاتل حجر بن عدی اخا کندہ و اصحابہ المصلین العابدین ، کانوا ینکرون و یستفظعون البدع ویامرون بالمعروف، و ینھون عن المنکر۔ولا یخافون فی اللہ لومۃ لائم؟ "کیا تو حجر بن عدی ان کے بھائیوں اور نماز گزار ساتھیوں کا قاتل نہیں ہے، جو تجھے ظلم کرنے سے روکتے تھے اور بدعتوں کے مخالف تھے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔؟" ۔۔۔۔او لست قاتل عمر و بن الحمق صاحب رسول اللہ ؐ العبد الصالح، الذی ابلتہ العبادہ فنحل جسمہ و ا صفر لونہ؟  "کیا تو صحابی رسول عمرو بن حمقؓ جیسے عبد نیک خصال کا قاتل نہیں ہے، جن کا جسم عبادت خدا کی وجہ سے نڈھال ہوچکا تھا اور کثرت عبادت کے سبب ان کا رنگ زرد پڑ چکا تھا؟" ۔۔۔ولقد نقضت عھدک بقتل ھو لاء النفر الذین قتلتھم بعد الصلح والایمان ، و العھود و المواثیق فقتلتھم من غیر ان یکونوا قاتلو ا و قتلوا، ولم تفعل بھم الا لذکر ھم فضلنا و تعظیمھم حقنا فقتلتھم مخافۃ امر لعلک لو لم تقتلھم مت قبل ان یفعلو او ماتوا قبل ان یدرکوا۔"یقیناً تو نے عہد شکنی کی، اس جماعت سے اور ان کو صلح کرنے، عہد کرنے اور اس کی توثیق کے بعد قتل کر ڈالا، تو نے ایسا نہیں کیا مگر فقط اس لئے کہ یہ لوگ ہمارے فضائل و مناقب بیان کرتے تھے اور ہمارے حق کو عظیم جانتے تھے، پس تو نے ان کو صرف اس لئے قتل کیا کہ مبادا تو ان کو قتل کئے بغیر مر نہ جائے۔"۔۔۔ولیس اللہ بناس لاخذک بالظنۃ ، وقتلک اولیاء ہ علی التھم ، ونفیک اولیاۂ من دورھم الی دار الغربۃ، و اخذک للناس ببیعۃ ابنک غلام حدث ، یشرب الشراب ، و یلعب بالکلاب۔1 "خدا نہیں بھولا ان گناہوں کو جو تو نے کئے، کتنوں کو محض گمان پر تو نے قتل کیا۔ کتنے اولیائے خدا پر تو نے تہمت لگا کر انہیں قتل کیا۔ کتنے اللہ والوں کو تو نے ان کے گھروں سے نکال کر شہر بدر کیا اور کس طرح تو نے یزید جیسے شرابی اور کتوں سے کھیلنے والے کے لئے لوگوں سے زبردستی بیعت لی۔" یہاں بھی امام عالی مقام نے امیر شام کے معاشرتی جرائم پر سے پردہ اٹھایا۔ امام نے نہیں کہا کہ تم کیسے حاکم بنے، تمھارا طریقہ انتخاب درست تھا یا غلط بلکہ وارث انبیاء نے امیر شام کے دور میں مقاصد شریعہ کی زبوں حالی اور حقوق مسلمین کے چھن جانے، جان و مال مسلم کے زیاں کو موضوع سخن بنایا۔


گورنر مدینہ کو جواب اور اس میں پنہاں پیغام

امام عالی مقام سے جب مدینہ کے گورنر نے بیعت کا تقاضا کیا تو امام کا کہنا تھا:’’ایھا الامیر! انا أھل بیت النبوۃ ومعدن الرسالۃ و مختلف الملائکۃ ومھبط الرحمۃ، بنافتح اللہ و بنا یختم ویزید رجل شارب الخمر و قاتل النفس محترمہ و معلن بالفسق و یحلل حرام اللہ و یحرم حلال اللہ و مثلی لا یبایع مثلہ۔" اے حاکم وقت! ہم اہل بیت نبوت ہیں اور گوہر ہائے رسالت ہمارے ہاں ہی پائے جاتے ہیں۔ ملائکہ ہمارے ہی گھر میں آتے جاتے ہیں اور رحمت ہمارے ہی گھر میں نازل ہوتی ہے۔ اللہ نے سلسلہ ہدایت کو ہم ہی سے شروع کیا اور یہ ہم ہی پر ختم ہوگا۔ جبکہ یزید شراب پینے والا، محترم جانوں کو قتل کرنے والا، اعلانیہ فسق کرنے والا شخص ہے، جو حرام خدا کو حلال اور حلال خدا کو حرام کرنے والا ہے اور میری طرح کا کوئی شخص اس کی طرح کے کسی شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔2 اس جواب پر اگر غور کیا جائے تو امام علیہ السلام مقاصد شریعت کے فوت ہونے کو اپنا سرنامہ قیام قرار دے رہے ہیں۔ امام علیہ السلام بتا رہے ہیں کہ یزیدی نظام میں حفاظت دین نہیں ہے،(وہ حلال خدا کو حرام اور حرام خدا کو حلال ٹھہراتا ہے۔)، اس نظام میں حفظ جان نہیں ہے(وہ محترم جانوں کو قتل کرتا ہے)، اس نظام میں عزتیں محفوظ نہیں ہیں(اعلانیہ فسق و فجور کرتا ہے)۔ ڈاکٹر محسن اپنے مقالے میں لکھتے ہیں کہ فسق و فجور اور حلال خدا کو حرام اور حرام خدا کو حلال کرنے میں ہی اتلافِ دین، اتلافِ جان، اتلافِ عقل، اتلافِ حفاظت نسل اور اتلافِ مال سب ہی داخل ہے، پھر بھی امام حسین علیہ السلام تمام امور کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں، جو معاشرے کے انہدام کا سبب بن جاتے ہیں۔ وارث انبیاء نے جب مدینہ سے مکہ کی جانب رخت سفر باندھا تو ختم المرسلین کی بارگاہ میں فرمایا:۔۔۔۔۔با بی انت وامی یا رسول اللہ لقد خرجت من جوارک کرھاو فرق بینی و بینک واخذت قرھا ان ابائع یزید شارب الخمر وراکب الفجور۔ وان فعلت کفرت وان ابیت قتلت۔3 "اے رسول خدا ؐ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، میں آپ کے جوار سے بادل ناخواستہ جا رہا ہوں، میرے اور آپ کے مابین جدائی پیدا کی جا رہی ہے اور مجھ کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ میں یزید کی بیعت کروں، جو کہ شرابی اور فاجر ہے۔ اگر میں ایسا کرتا ہوں تو یہ کفر ہے اور اگر میں انکار کرتا ہوں تو قتل کر دیا جاؤں گا۔"

قیام کیوں اور کس لئے؟
مدینہ سے روانگی کے وقت اپنے بھائی محمد حنفیہ کو اپنے قیام کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا:۔۔۔۔۔۔انی لم اخرج اشرا ولا بطرا ولا مفسد ا ولا ظالما وانما خرجت لطلب الاصلاح فی امۃ جدی ارید امر بالمعروف و انھی عن المنکراسیر بسیرۃ جدی و سیرۃ علی ابن ابی طالب فمن قبلنی بقبول الحق فاللہ اولی بالحق وھو احکم الحاکمین۔4 "میں تکبر، خود خواہی یا فساد اور ظلم کے لئے نہیں نکلا، میرے خروج کا مقصد امت محمدؐ کی اصلاح ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ انہیں نیکی کی تلقین کروں اور برائی سے منع کروں۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے جد (رسول اللہؐ) اور (اپنے بابا) علی ابن ابی طالبؑ کی سیرت کی پیروی کروں۔ جو میرے حق کو سمجھتے ہوئے اسے قبول کرے گا تو خدا حق کا زیادہ سزاوار ہے اور وہ ہی تمام فیصلہ کرنے والوں میں بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔" یہاں نہ صرف یہ بتایا کہ معاشرے میں فساد برپا ہے بلکہ یہ بھی بتایا کہ میں وارث نبی ہوں اپنے جد اور بابا کی سیرت ہی میری سیرت ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے سفر کے دوران میں انحراف از دین اور اس کے اثرات کو بار بار بیان کیا اور لوگوں کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروائی ہے۔ ایک خطبے میں ارشاد فرمایا: اما بعد! فقد نزل بنا من الأمر ما قدترون، وان الدنیا قد تغیرت و تنکرت و أدبر معروفھاء لم یبق منھا الا صبابہ کصبابۃ الأناء وخسیس عیش کا لمرعی الوبیل۔۔۔"اے لوگو! ہم پر جو مصیبت آپڑی ہے، وہ تو تم دیکھ ہی رہے ہو اور یہ کہ دنیا بدل چکی ہے اور منکرات میں پھنس گئی ہے، معروف تو پس پشت چلا گیا ہے اور اس میں صرف ایسی تلچھٹ باقی بچ گئی ہے، جیسی برتن میں سالن کی تلچھٹ ہوتی ہے، لوگ اپنی زندگی ننگ و ذلت کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہیں۔"

ایک مقام پر فرماتے ہیں: الاترون ان الحق لا یعمل بہ وان الباطل لا یتنا ھی عنہ لیرغب المومن فی لقاء اللہ۔ "کیا تم سب کو نظر نہیں آرہا کہ ’’حق‘‘(دین) پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے رکا نہیں جا رہا ہے، ایسے میں مومن کے لئے یہی ہے کہ وہ لقائے الٰہی کی طرف رغبت کرے۔ جب حالت بیان کرچکے تو فرمایا ایسی صورت میں: فانی لا أری الموت الاسعادۃ والحیاۃ مع الطالمین الا برما۔"معاشرتی بگاڑ کی اس انتہاء پر میں ’’موت‘‘ کو محض سعادت سمجھتا ہوں، جبکہ ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو محض باعث عار سمجھتا ہوں۔" اسی خطبے میں معاشرے کی حالت زار کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: الناس عبیدالدنیا والدین لَعْقٌ علی السنتھم یَحْوطونہ مَادَرَّتْ معایشھم فاذا مُحِّصُوْا بالبلاء قلّ الدَّیّانون۔"لوگ دنیا کے غلام ہیں، جبکہ دین محض ان کی زبانوں کے ذائقے کے لئے ہے۔ یہ دین کا نام صرف اس وقت تک لیتے ہیں، جب تک ان کی معاش کی بہتری اس سے وابستہ ہے، لیکن جب دین کے معاملے میں مورد امتحان میں آتے ہیں تو کم ہی ہیں جو دین دار ثابت ہوتے ہیں۔5
۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔
حوالہ جات
1۔ الامامۃ والسیاسۃ ج ۱ ص 190
2۔ الطبری، 216-18/7، الکامل لابن الاثیر263-64/3، الارشاد للمفید، 200، مثیرالأحزان لابن نما،10
3۔ مقتل ابی مخنف ص 15
4۔ مناقب ج 4 ص 88
5۔ الطبری،300/7، ابن عساکر۔ امام حسینؑ ،214، تحف العقول174

بشکریہ اسلام ٹائمز