مذهبی

واقعہ کربلا کا کلامی پہلو

ڈاکٹر محسن نقوی

واقعہ کربلا جو 10 محرم الحرام سنہ ۱۶ھ کو امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقائے واجب الاحترام کی اندوہ ناک شہادتوں پر منتج ہوا اپنے اندر حیات در ہدایت کے بے شمار پہلوسموئے ہوئے ہے۔ انھیں میں سے ایک اس کا عمومی پہلو بھی بھی ہے عدیم الفرصتی نیز بے بضاعتی کے سبب اس موضوع پر تفصیلی تحریر تو ہم پیش نہیں کر سکتے البتہ کچھ ایسے اشارات ضرور عرض کیے دیتے ہیں جو مستقبل میں تحقیق کا میدان بن سکیں گے۔

  • مشاہدات: 94

کلام امام (ع) کی روشنی میں معاشرتی تنزل کی علامات، اسباب اور ہم 4

تحریر: سید اسد عباس

ایک نظر گذشتہ تحریروں پر
قارئین کرام ہم نے گذشتہ تحریروں میں امام عالی مقام کے مقصد و ہدف کو ان کے چند خطابات اور کلمات کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی۔ اگر اس کا خلاصہ بیان کیا جائے تو یہی ہے کہ آپ کا قیام منشور فلاح انسانیت یعنی دین الٰہی کی بقاء اور تحفظ کے لئے تھا اور امام علیہ السلام کے خطبات و کلمات کی روشنی اس کی تفصیل یہ ہے کہ معاشرے میں پیدا ہونے والا فساد اور خرابی دین سے دوری اور انسان کے خدا سے ربط میں کمی کے سبب سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام عالی مقام کے فرزند سید الساجدین نے واقعہ کربلا کے بعد کی زندگی میں دعاؤں کے ذریعے فرد اور خدا کے ربط کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی۔ امام زین العابدین علیہ السلام کی دعائیں الٰہی معارف کا خزینہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنے رب سے قریب تر کرنے کا ایک وسیلہ بھی ہیں۔ رسالت ماب ؐ کا قائم کردہ الٰہی معاشرہ جس نے بدر، احد، خیبر اور حنین جیسے معرکے لڑے، کفار مکہ اور قبائل مدینہ کی سختیوں کو برداشت کیا، اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے قربانیاں پیش کیں، کیسے رحلت پیغمبر کے فقط ساٹھ برس بعد اپنے رب سے بے ربط ہوگیا اور روحانیت کی جگہ ان غیر انسانی خصلتوں نے لینا شروع کی، جس کے خلاف رسالت ماب نے قیام کیا تھا اور جن سے چھٹکارے کے لئے اسلام کو بطور دین پیش کیا گیا تھا۔

  • مشاہدات: 41

کلام امام (ع) کی روشنی میں معاشرتی تنزل کی علامات، اسباب اور ہم 3

 

تحریر: اسد عباس تقوی

اتمام حجت اور معاشرتی برائیوں کے سرچشمے کی نشاندہی
مقام بیضہ پر امام عالی مقام نے حر کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایھا الناس! ان رسول اللہ قال: من رای سلطانا جائرا مستحلا لحرام اللہ ناکثا عھدہ مخالفا لسنۃ رسول اللہ یعمل فی عباد اللہ بالاثم والعدوان فلم یغیر علیہ بفعل ولا قول، کان حقا علی اللہ ان یدخلہ مدخلہ۔ الا وان ھولاء قد لزموا طاعۃ الشیطان و ترکوا طاعۃ الرحمن و اظھروا الفساد و عطلو الحدود واستاثروا با لفیء و احلوا حرام اللہ و حرموا حلالہ وانا احق ممن غیر۔1"اے لوگو! رسول ؐ نے فرمایا: جو شخص ظالم بادشاہ کو خدا کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور حرام چیزوں کو حلال قرار دیتے، خدا کے عہد کو توڑتے، سنت رسول کی مخالفت کرتے اور خدا کے بندوں پر ظلم روا رکھتے ہوئے دیکھے اور قول و فعل سے اس کی مخالفت نہ کرے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ انھوں (بنی امیہ) نے شیطان کے حکم کے تحت خدا کی اطاعت سے روگردانی کرلی ہے، فساد پھیلا رہے ہیں، خدا کی حدود کا کوئی پاس و لحاظ نہیں کرتے، بیت المال کو خود سے مخصوص کر لیا ہے، خدا کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال سمجھ لیا ہے، انہیں ان بدکاریوں سے روکنے کا میں خود کو مستحق سمجھتا ہوں۔" امام حسین علیہ السلام کا مخاطب معاشرہ تھا۔ امام نے اپنے سامعین کو معاشرے میں پیدا ہوتے بگاڑ کی اصل وجہ کی جانب متوجہ کیا اور کہا کہ آو اس بگاڑ کے خلاف قیام کریں، آو اللہ کی جانب لوٹ جائیں، آو پیغمبر اکرم کے دین کی حفاظت کے لئے نکل کھڑے ہوں۔ وہ دین جو ہم سب کی جان، مال، عزت و ناموس کی حفاظت کی ضمانت مہیا کرتا ہے۔

  • مشاہدات: 41

کلام امام (ع) کی روشنی میں معاشرتی تنزل کی علامات، اسباب اور ہم 2

تحریر: سید اسد عباس

امام کا جوابی خط، معاشرے میں پیدا کردہ فساد نیز مقاصد شریعت کے تلف ہونے کی نشاندہی:
امیر شام نے یزید کی بیعت کے معاملے کو آگے بڑھانے کے لئے امام عالی مقام کو ایک خط تحریر کیا، جس میں اپنی دین داری، ایفائے عہد اور دیگر فضیلتوں کے پل باندھے۔ جس کے جواب میں امام نے فرمایا: ۔۔۔۔الست القاتل حجر بن عدی اخا کندہ و اصحابہ المصلین العابدین ، کانوا ینکرون و یستفظعون البدع ویامرون بالمعروف، و ینھون عن المنکر۔ولا یخافون فی اللہ لومۃ لائم؟ "کیا تو حجر بن عدی ان کے بھائیوں اور نماز گزار ساتھیوں کا قاتل نہیں ہے، جو تجھے ظلم کرنے سے روکتے تھے اور بدعتوں کے مخالف تھے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔؟" ۔۔۔۔او لست قاتل عمر و بن الحمق صاحب رسول اللہ ؐ العبد الصالح، الذی ابلتہ العبادہ فنحل جسمہ و ا صفر لونہ؟  "کیا تو صحابی رسول عمرو بن حمقؓ جیسے عبد نیک خصال کا قاتل نہیں ہے، جن کا جسم عبادت خدا کی وجہ سے نڈھال ہوچکا تھا اور کثرت عبادت کے سبب ان کا رنگ زرد پڑ چکا تھا؟" ۔۔۔ولقد نقضت عھدک بقتل ھو لاء النفر الذین قتلتھم بعد الصلح والایمان ، و العھود و المواثیق فقتلتھم من غیر ان یکونوا قاتلو ا و قتلوا، ولم تفعل بھم الا لذکر ھم فضلنا و تعظیمھم حقنا فقتلتھم مخافۃ امر لعلک لو لم تقتلھم مت قبل ان یفعلو او ماتوا قبل ان یدرکوا۔"یقیناً تو نے عہد شکنی کی، اس جماعت سے اور ان کو صلح کرنے، عہد کرنے اور اس کی توثیق کے بعد قتل کر ڈالا، تو نے ایسا نہیں کیا مگر فقط اس لئے کہ یہ لوگ ہمارے فضائل و مناقب بیان کرتے تھے اور ہمارے حق کو عظیم جانتے تھے، پس تو نے ان کو صرف اس لئے قتل کیا کہ مبادا تو ان کو قتل کئے بغیر مر نہ جائے۔"۔۔۔ولیس اللہ بناس لاخذک بالظنۃ ، وقتلک اولیاء ہ علی التھم ، ونفیک اولیاۂ من دورھم الی دار الغربۃ، و اخذک للناس ببیعۃ ابنک غلام حدث ، یشرب الشراب ، و یلعب بالکلاب۔1 "خدا نہیں بھولا ان گناہوں کو جو تو نے کئے، کتنوں کو محض گمان پر تو نے قتل کیا۔ کتنے اولیائے خدا پر تو نے تہمت لگا کر انہیں قتل کیا۔ کتنے اللہ والوں کو تو نے ان کے گھروں سے نکال کر شہر بدر کیا اور کس طرح تو نے یزید جیسے شرابی اور کتوں سے کھیلنے والے کے لئے لوگوں سے زبردستی بیعت لی۔" یہاں بھی امام عالی مقام نے امیر شام کے معاشرتی جرائم پر سے پردہ اٹھایا۔ امام نے نہیں کہا کہ تم کیسے حاکم بنے، تمھارا طریقہ انتخاب درست تھا یا غلط بلکہ وارث انبیاء نے امیر شام کے دور میں مقاصد شریعہ کی زبوں حالی اور حقوق مسلمین کے چھن جانے، جان و مال مسلم کے زیاں کو موضوع سخن بنایا۔

  • مشاہدات: 38

کلام امام (ع) کی روشنی میں معاشرتی تنزل کی علامات، اسباب اور ہم 1

 

تحریر: سید اسد عباس

امام حسین علیہ السلام کے خطبات اور کلام میں جہاں امام عالی مقام نے اپنے مشن و ہدف کے خدوخال کو روشن و واضح کیا، وہیں اس کلام میں اس دور کی معاشرتی زبوں حالی اور لوگوں کے طرز عمل کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے۔ 59 ھ کے خطبہ منٰی کو ہی لے لیجئے، جس میں امام عالی مقام نے حجاج میں سے علماء، اہل خبرہ اور صاحب رسوخ افراد کو جمع فرمایا اور ان کے سامنے ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبے میں بیان کردہ صورتحال کو دیکھا جائے اور اس کا موازانہ اپنے معاشرے سے کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں پیدا ہونے والی بہت سی خرابیاں اس وقت ہمارے معاشروں میں بدرجہ اتم موجود ہیں اور ان خرابیوں کے مقابلے میں ہمارا طرز عمل بھی اس وقت کے معاشرے سے چنداں مختلف نہیں ہے۔ ذیل میں ہم امام عالی مقام کے انہی ارشادات کی روشنی میں اس معاشرے کی صورتحال نیز ہمارے معاشرے میں موجود ویسی ہی خرابیوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں گے، تاکہ دونوں معاشروں کا موازنہ ممکن ہو اور اپنے طرز عمل پر غور کرکے اصلاح کی کاوش کی جاسکے۔

  • مشاہدات: 40