2019 ہماری توقعات حصہ اول

 

تحریر: ثاقب اکبر


نئے میلادی سال 2019ء کی آمد آمد ہے۔ پاکستان اور دیگر دنیا میں تبدیلیوں کی بنیادیں پڑ رہی ہیں یا تبدیلیاں دستک دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں کس نوعیت کی ہوں گی؟ کیا اس کے اندر نئے خطرات پرورش پا رہے ہیں یا انہیں امید افزا قرار دیا جاسکتا ہے! ویسے تو

پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
پاکستان کے اندر سیاسی تبدیلی حکومت کی حد تک تو آگئی ہے، البتہ مستقبل کے لئے اس کے منصوبے آہستہ آہستہ عوام کے سامنے آرہے ہیں۔ یہ منصوبے یقیناً امید افزا ہیں اور ان کے اندر وہ روح جھلکتی ہے، جس کا وعدہ تحریک انصاف ماضی میں کرتی چلی آئی ہے۔ توقع کرنا چاہیئے کہ 2019ء میں جب ان منصوبوں کے خدوخال ملک عزیز کی سرزمین پر ظاہر ہونا شروع ہوں گے، پاکستان یقینی طور پر ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گا۔ خدا کرے یہ امید پوری ہو۔


پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی نسبتاً فعال ہوگئی ہے۔ کئی محاذوں پر دفتر خارجہ کی سرگرمیاں تیز رفتاری سے آگے بڑھتی ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ گذشتہ مختصر سے عرصے میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔ اقوام متحدہ میں وزیر خارجہ نے اردو میں تقریر کرکے اپنے قومی افتخار کا اظہار کیا ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان نے جرات مندانہ اقدامات کئے ہیں اور خاص طور پر 5 فروری 2019ء کو لندن میں تمام سیاسی جماعتوں کے ہمراہ اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا جو منصوبہ بنایا گیا ہے، وہ لائق تحسین ہے۔ ہندوستان کے ساتھ تعلقات مختلف انداز سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ کرتار پور بارڈر کو سکھ برادری کے لئے کھولنے کا اقدام اس حوالے سے دور اندیشی پر مبنی اقدام قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کے ہندوستان کے اندر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

افغانستان کے حوالے سے پاکستان نے زیادہ سرگرمی سے کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ نے پاکستان سے طالبان کے ساتھ رابطہ کرکے مذاکرات میں مدد کا مطالبہ کیا ہے۔ اقتصادی حوالے سے کئی ممالک کے ساتھ معاملات آگے بڑھے ہیں اور پاکستان کی اقتصادیات کو فعال ڈپلومیسی کے ذریعے تقویت پہنچانے کا باعث بنے ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے بھی مختلف علاقائی طاقتوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ توقع کرنا چاہیئے کہ اس سے بہتر نتائج نکلیں گے۔ داخلی طور پر کرپشن کے خلاف جاری مہم کامیابی سے آگے بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ البتہ اس کے ساتھ ساتھ بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت پر ہاتھ پڑنے کی وجہ سے پارلیمان کے اندر اور باہر حکومت کو نئے سے نئے چیلینجز کا سامنا ہے۔ ان چیلینجز سے نمٹنے کے لیے صرف جرات نہیں بلکہ حکمت بھی درکار ہے کیونکہ یہ کام آسان نہیں ہے۔ یہ ایک چومکھی لڑائی ہے، جسے نہایت بیداری اور چابکدستی سے لڑنا 
افغانستان کے اندر سے امریکہ نے اپنی 14 ہزار موجود فوج کو آدھا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد یقینی طور پر طالبان کی صفوں میں ایک نیا اعتماد پیدا ہوگا۔ ایسے میں افغانستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟ یہ سوال نہایت اہم بھی ہے اور مشکل بھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ طالبان مخالف قوتیں مستقبل میں کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں۔ نیز کیا طالبان انتخابی عمل میں شرکت کے لئے آمادہ ہوسکیں گے یا نہیں۔ افغانستان کا اس کے علاوہ کوئی مناسب حل ہمیں سجھائی نہیں دیتا کہ افغانستان کی تمام قوتیں ایک نئے پروگرام کے تحت انتخابی عمل کے ذریعے نئی حکومت کی تشکیل پر آمادہ ہو جائیں۔ کیا امریکہ، روس، چین، پاکستان، ایران اور دیگر قوتیں افغانستان میں موجود تمام دھڑوں کو اس کے لئے آمادہ کر سکیں گی اور کیا یہ ممالک خود بھی اس حوالے سے کسی ایک پروگرام پر متفق ہوسکیں گے؟ یہ سوال بھی افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ داعش افغانستان میں آئندہ کیا کردار ادا کرے گی اور طالبان کے ساتھ اس کی آویزش کیا شکل اختیار کرے گی، یہ سوال بھی افغانستان کے مستقبل سے وابستہ ہے۔ دوسری طرف افغانستان کے حالات سے پاکستان کا مستقبل بھی جڑا ہوا ہے۔ افغانستان میں اگر پرامن فضا پیدا ہو جاتی ہے تو یقینی طور پر اس کے پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

عالمی سطح پر بھی حالات کی تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔ امریکہ نے شام سے اپنی فوجیں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ اعلان شام میں امن و امان کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگا یا نہیں، کیونکہ شام کا صرف ایک مسئلہ نہیں کہ اس میں امریکہ کی فوجی مداخلت موجود رہی ہے بلکہ اور بھی بہت سے مسائل ہیں، جو اپنی خاص پیچیدگی رکھتے ہیں۔ بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ نے ترکی کی پیٹھ ٹھونک کر اسے یہ حوصلہ دیا ہے کہ آپ ہماری جگہ بھی شام میں موجود رہیں۔ ترکی نے بھی اپنی پوزیشن شام کے اندر فوجی لحاظ سے مزید مستحکم کرنے کے لئے اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ علاوہ ازیں شام کے اندر ابھی کئی ایک علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کا اثرورسوخ باقی ہے۔ دوسری طرف دمشق کی حکومت پہلے سے زیادہ پراعتماد اور مضبوط ہے۔ کئی عرب ممالک نے بھی اس کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا آغاز کر دیا ہے۔ ایسے میں دمشق کی حکومت ترکی کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے، یہ سوال شام کے حالات کی نوعیت کو طے کرنے میں مدد دے گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ روس، ترکی اور ایران متعدد مواقع پر یہ عہد کرچکے ہیں کہ وہ شام کی یکجہتی کو باقی رکھیں گے۔ اگر تینوں ممالک اس عہد پر قائم رہتے ہیں تو پھر ترکی کی شام کے اندر فوجی موجودگی کا بھی سدباب کرنا پڑے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی شام میں موجودگی سے نمٹنے سے زیادہ مشکل ترکی کی موجودگی کا سامنا کرنا ہے۔ امریکہ کے لئے وہاں رہنا مشکل بھی تھا اور مہنگا بھی، جبکہ ترکی کے لئے یہ بہت آسان ہے اور امریکہ یہ اچھی طرح سے سمجھتا ہے۔

یمن کے حالات اگرچہ نہایت ہی المناک اور سنگین ہیں، لیکن بہتری کی کچھ نہ کچھ امید پیدا ہونا شروع ہوئی ہے۔ حدیدہ کی بندرگاہ میں امن قائم کرنے کے لئے جو عالمی معاہدہ ہوا ہے، اسے مسئلے میں دلچسپی رکھنے والے تمام ممالک نے قبول کیا ہے یا اس کا استقبال کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اقوام متحدہ کس قوت ارادی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتی ہے اور یمن کے عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے کس رفتار سے قدم آگے بڑھاتی ہے۔ اس مسئلے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امریکہ میں موجود تمام سیاسی قوتیں اب اس نکتے پر متفق ہوگئی ہیں کہ امریکہ کو یمن کی جنگ سے باہر نکلنا چاہیئے اور سعودی عرب سے تعاون ختم کر دینا چاہیئے۔ عالمی رائے عامہ یمن کے معاملے میں سعودی کردار کی اب کھل کر مذمت کرنے لگی ہے۔ یمن میں جس درجے کا سنگین انسانی المیہ رونما ہوچکا ہے، اس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب پر عالمی دباﺅ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے داخلی حالات بھی گذشتہ برس کی نسبت 2018ء کے اختتام پر خاصے مختلف ہوچکے ہیں۔ عالمی سطح پر برسراقتدار سعودی خاندان کی پذیرائی کو خاصے جھٹکے لگے ہیں، لیکن سعودی عرب چونکہ اب بھی ایک بڑی اقتصادی طاقت ہے اس لئے اس کا اہم کردار عالمی سطح پر ابھی باقی ہے۔
۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔