حمایت فلسطین کانفرنس کا آنکھوں دیکھا حال

 

تحریر: سید اسد عباس

 
گذشتہ دنوں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیر اہتمام عالمی حمایت فلسطین کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ اس کانفرنس میں ملک کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین کے علاوہ غیر ملکی سفراء اور ذمہ داران نے بھی شرکت کی۔ ان غیر ملکی شخصیات میں برادر اسلامی ملک ترکی کے کونسلر، ایران کے نائب سفیر، ثقافتی کونسلر، شام کے سیاسی کونسلر اور فلسطین کے قائمقام سفیر شامل تھے۔ اس تقریب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر راجہ ظفر الحق چیئرمین پاکستان مسلم لیگ، ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان، لیاقت بلوچ سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سربراہ مجلس وحدت مسلمین، علامہ امین شہیدی سربراہ امت واحدہ پاکستان، علامہ عارف حسین واحدی سیکرٹری جنرل اسلامی تحریک پاکستان، عبد اللہ گل سربراہ تحریک جوانان پاکستان، مفتی گلزار احمد نعیمی سربراہ جماعت اہل حرم پاکستان، تنظیم اسلامی کے مرکزی راہنماء عظمت ممتاز ثاقب، راجہ فاضل حسین تبسم سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کشمیر، رضیت باللہ صدر ہدیۃ الہادی پاکستان، شمس الرحمن سواتی مرکزی راہنما جماعت اسلامی، سیکریڑی جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان صابر کربلائی، شیعہ وفاق المدارس کے مرکزی راہنما ڈاکٹر علامہ محمد، سید ثاقب اکبر ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل پاکستان نے خطاب کیا۔

ان قائدین کے علاوہ وہ علماء اور قائدین جنہوں نے کانفرنس میں فقط شرکت کی، بھی کم نہ تھے، تاہم افراد کی زیادتی اور وقت کی کمی کے باعث سب کو اظہار خیال کا موقع نہ مل سکا۔ ان اہم شخصیات میں امامیہ آرگنائزیشن کے مرکزی راہنما کمیل عباس، حمید الحسن رضوی، خالد سیف اللہ، علامہ سید محمد سبطین شیرازی، پیر سعید احمد نقشبندی، علامہ حسنین عباس گردیزی، مولانا نعیم الحسن نقوی، پروفیسر خالد سیف اللہ، سید اسد عباس نقوی، ڈاکٹر علی عباس نقوی، علامہ فرحت عباس، میر واعظ ترین، رانا تنویر عالمگیر، کاشف چوہدری، ڈاکٹر قلب عباس، سید اعجاز کاظمی، شاہد شمسی اور دیگر شریک تھے۔ کانفرنس میں قائدین نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے کھل کر اظہار خیال کیا اور اس بات پر اتفاق رائے سامنے آیا کہ پاکستان کے عوام آج بھی فلسطینیوں کے ساتھ ہیں اور فلسطینی ریاست کے خلاف ہونے والی کسی بھی کاوش کا حصہ نہیں بنیں گے۔ یہ کانفرنس بنیادی طور پر پاکستان کے ایوان میں حکومتی بینچ کی ایک خاتون ممبر پارلیمان کی اسرائیل کے حوالے سے تقریر، اس کے بعد ایک سابق جرنیل کی جانب سے اسی موضوع پر کھل کر اظہار خیال نیز اسرائیل کے غزہ پر تازہ حملوں کے تناظر میں منعقد کی گئی۔

اس کانفرنس سے قبل ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا ایک اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے سیر حاصل بات کی گئی اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ ملک کی تمام مذہبی جماعتیں جو ملی یکجہتی کونسل کا حصہ ہیں، حماس کے موقف کی حامی ہیں۔ اس اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بانیان پاکستان قائد اعظم، علامہ محمد اقبال، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ظفر علی خان کا فلسطینی ریاست اور اس پر اسرائیلی غاصبانہ قبضے کے حوالے سے موقف نہایت واضح تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کے متعدد اجلاسوں، جلسوں، انٹرویوز اور خطوط میں اس حوالے سے اظہار خیال کیا۔ ملی یکجہتی کے مشاورتی اجلاس میں یہ طے پایا کہ پاکستانی عوام اور ان کی سیاسی و مذہبی قیادت آج بھی مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے قائدین کے موقف پر قائم ہے اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پاکستانی ریاست کے موقف میں تبدیلی لانے کے لئے جو سازشیں کی جا رہی ہیں، اس کا سدباب کرنے کی ضرورت ہے۔
 
حمایت فلسطین کانفرنس کے انعقاد کا مقصد یہی تھا۔ کانفرنس تو ملکی جماعتوں کی ہونی تھی، تاہم اس میں غیر ملکی ذمہ داران کی شرکت نے اسے عالمی بنا دیا۔ اس کانفرنس کے اختتام پر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، جس میں واضح ہوتا ہے کہ مسلم ممالک کے عوام مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک مشترکہ موقف رکھتے ہیں اور مسئلہ کو طول دینے میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ شرکائے اجلاس نے مسلم حکمرانوں کی جانب سے بھی مسئلہ فلسطین کے حوالے سے سستی اور کاہلی کی جانب بھی متوجہ کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وسائل کی عدم موجودگی اور کسی بھی فوری قابل عمل حل نہ ہونے کے باوجود ہم کسی صورت حق سے انحراف نہیں کرسکتے ہیں۔ بعض قائدین کا کہنا تھا کہ اگر ہم فلسطین پر کوئی سمجھوتہ کر لیتے ہیں تو اس سے مراد امت کے ہر مسئلہ پر سمجھوتہ کرنا ہے۔ اگر ہمیں اسرائیل کا فلسطین پر غاصبانہ قبضہ قبول ہے تو پھر مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے پر بھی خاموشی اختیار کی جانی چاہیے۔ اسی طرح روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر بھی کوئی آواز بلند نہیں کی جانی چاہیئے۔ بہرحال اس نشست میں مسئلہ فلسطین کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل بات ہوئی۔

ایک اور بات جس پر سبھی قائدن کا اتفاق تھا، امت کی وحدت ہے۔ امت کی وحدت اور اس کے مسائل کو باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کو اعلامیہ کا حصہ بنایا گیا۔ کانفرنس کے اعلامیہ کے اہم نکات حسب ذیل ہیں:
* بانیان پاکستان بالخصوص قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان نیز دیگر کے ارشادات کی روشنی میں ہم مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت ہمیشہ جاری رکھیں گے۔
* یہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھی بانیان پاکستان کے اس موقف پر ہی اپنی خارجہ پالیسی ترتیب دے اور صہیونی ریاست کو جائز تسلیم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف نہ فقط خود اقدام کرے، بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنے موقف کو دوٹوک بیان کرے۔
* یہ اجلاس بعض اہم افراد کی جانب سے غاصب صہیونی ریاست کے لئے ہمدردی کے جذبات کو بھی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اگر ہندوستان کے حق میں دیا جانے والا بیان ملک سے غداری ہے تو صہیونی ریاست کے لئے پاکستان کی پارلیمان اور میڈیا پر لابنگ کو بھی غداری کے برابر جرم تصور کیا جانا چاہیئے۔ ایسے افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہونا چاہیئے، تاکہ علم ہوسکے کہ انہوں نے کس کے ایما پر بانیان پاکستان اور پاکستانی عوام کے جذبات و موقف کے خلاف آواز بلند کی۔
 
* یہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس معاملے میں سستی اور بے اعتنائی کامظاہرہ نہ کرے، پاکستانی عوام کسی بھی صورت میں صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور اس حوالے سے کی جانے والی ہر کاوش کو نظریہ پاکستان کے خلاف سمجھتے ہیں۔
* یہ اجلاس مسلم امہ کے تمام ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ فلسطینی عوام کے حقوق کے لئے مشترکہ آواز بلند کریں اور وہ مسلمان ممالک جو اسرائیل کے 
ناجائز وجود کو تسلیم کرچکے ہیں، ان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرکے فلسطینی ریاست کی بحالی کا مطالبہ کریں۔
* ایک امت کی حیثیت سے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کے مددگار اور معاون ہوں نہ کہ ان کے دشمنوں اور خون کے پیاسوں کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھائیں۔ یہ اجلاس مسلم امہ کے قائدین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے تمام باہمی مسائل کو گفت و شنید سے حل کریں نیز پاکستان کیجانب سے یمن کے معاملے میں ثالثی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتا ہے، نیز مطالبہ کرتا ہے کہ اس سلسلے میں فی الفور عملی اقدامات کئے جائیں۔
 
* یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ بیت المقدس فلسطین کا تاریخی دارالحکومت ہے، اس کی اس حیثیت کے خلاف ہم ہر اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ اجلاس امریکہ کے اس اقدام کی پرزور مذمت کرتا ہے، جس کے تحت اس نے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس میں منتقل کیا ہے۔ امریکہ کا یہ فیصلہ عالمی قوانین اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی نفی پر مبنی ہے۔
* یہ اجلاس فلسطینیوں کے اپنے گھروں کی واپسی کی تحریک کی حمایت کرتا ہے اور اس تحریک کے شرکاء کے خلاف صہیونی تشدد و بربریت کی مذمت کرتا ہے۔
* یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے سنجیدہ اقدام کریں نیز کشمیر اور روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کے لئے 
بھی عملی اقدامات کئے جائیں۔
* یہ اجلاس امریکہ کی جانب سے متعدد اسلامی ممالک کو مذہبی اور اقلیتوں کی آزادی کے حوالے سے بلیک لسٹ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
* یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کا اعلان کرتا ہے۔
* عالم اسلام کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، امت کے درمیان اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے دشمن جری ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، آئے روز عالم اسلام کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں، ہم عالم اسلام کو اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
 
حمایت فلسطین کانفرنس کے دوران کانفرنس میں شریک کسی بزرگ کی جانب سے یمن کے مظلومین کی حمایت کے حوالے سے ایک نوٹ بھیجا گیا، جسے ناظم کانفرنس جناب لیاقت بلوچ نے پڑھ کر سنایا۔ جناب لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ آج کا موضوع چونکہ فلسطین ہے، اس لئے ہم اس موضوع پر ہی بات کر رہے ہیں، تاہم اس سلسلے میں بھی اگر کوئی بات کرنا چاہے تو ہمیں اعتراض نہیں ہے۔ مجلس وحدت کے سربراہ نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا فلسطین کی حمایت کرنا اسلامی اور انسانی جذبے کے تحت ہے، تاہم ہمیں مظلوموں میں تفریق نہیں کرنی چاہیئے۔ آج یمن کے مظلوموں کے لئے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے۔ وہاں گذشتہ تین برسوں میں ہزاروں انسان سعودی و اتحادی بمباری سے اور لاکھوں انسان بھوک اور ادویات کی عدم فراہمی کے سبب جاں بحق ہوچکے ہیں اور امت مسلمہ اس قتل عام پر خاموش تماشائی کا روپ دھارے ہوئے ہے۔
 
واقعاً ضرورت اس امر کی ہے پاکستانی مسلمان جو ایک نظریاتی پس منظر کے وارث ہیں، کسی بھی مسئلہ میں خواہ وہ امت کے مابین ہو یا بین الاقوامی، کبھی بھی جانبداری کا شکار نہیں ہونے چاہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ ہمیں ایک جگہ پر تو مظلومیت نظر آئے، تاہم ایسے ہی مظالم دوسری جگہ نہ دکھائی دیں۔ ہمیں مظلوم کی حمایت کو اپنا شعار بنانا چاہیئے، خواہ یہ مظلوم اپنا ہو یا غیر۔ ظلم چاہے شام میں ہو یا یمن میں، بحرین میں ہو یا قطیف میں، کشمیر میں ہو یا فلسطین میں، ظلم کو ظلم ہی کہا جانا چاہیئے، اس سے نہ فقط ہمار اقوام میں سر بلند ہوگا بلکہ ہم ان مسائل کے حل کے لئے کوئی مثبت اور نتیجہ خیز کردار ادا کرنے کے بھی قابل ہوسکیں گے۔ وزیراعظم پاکستان کا یمن کے معاملے میں ثالثی کا اعلان نہایت خوش آئند ہے، تاہم اس کے لئے ہمیں اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت کو ضرور برقرار رکھنا ہوگا۔