کیا پاکستان اور افغانستان کے مابین برف پگھل رہی ہے؟

تحریر: ثاقب اکبر

ان دنوں بعض ایسے مضبوط اور ٹھوس شواہد سامنے آ رہے ہیں، جن کی بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ شاید پاکستان اور افغانستان کے مابین برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم افغان صدر اشرف غنی کی وہ باتیں ہیں، جو انہوں نے پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ کے افغانستان کے حالیہ دورے کے موقع پر ان سے ملاقات کے موقع پر کی ہیں۔ جنرل ناصر جنجوعہ کو اس دورے کی دعوت اُن کے افغان ہم منصب حنیف اتمر نے دی تھی۔ اس دورے میں جنرل (ر) جنجوعہ نے افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور افغان وزیر دفاع سے بھی ملاقات کی۔ افغان صدر اشرف غنی کی اس موقع پر باتیں بڑی پرامید تھیں اور انہیں ایک عرصے کے بعد افغانستان کی طرف سے پاکستان کے لئے ہوا کا خوشگوار جھونکا قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے امن کے لئے سنجیدہ اور مخلصانہ پیش کش کی ہے۔ ہمیں ماضی سے نکل کر اس کے بہترین نتائج حاصل کرنے ہیں۔ صدر اشرف غنی نے کہا کہ ماضی کا قیدی بنے رہنے کے بجائے آئیں اس سوچ کے ساتھ اپنا مستقبل محفوظ کرتے ہیں کہ ہمیں جنگ جیتنی نہیں بلکہ اسے ختم کرنا ہے اور اس کے لئے پاکستان کو ہماری مدد کرنی چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی وزیراعظم کو بھی افغانستان آنے کی دعوت دی۔ عین انہی دنوں میں جب امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کے وزیراعظم کو ایک مرتبہ پھر ڈومور کا پیغام دیا گیا ہے، افغان صدر کی طرف سے ایسی حکیمانہ اور امید افزاء باتیں یقیناً دونوں ملکوں کے مابین نئے مواقع پیدا کرنے کے مترادف ہیں۔


پاکستانی وزیراعظم خاقان عباسی جو ان دنوں بظاہر نجی دورے پر امریکہ میں ہیں، نے امریکی نائب صدر مائیک پینس سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات خاقان عباسی کی اپنی خواہش پر امریکی نائب صدر کے گھر میں ہوئی ہے۔ وائٹ ہاﺅس کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام پہنچاتے ہوئے شاہد خاقان عباسی سے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو اس کے ملک میں سرگرم طالبان، حقانی نیٹ ورک اور دیگر شدت پسند گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے مزید کارروائیاں کرنا ہوں گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ پاکستان کو فراہم کئے جانے والے کولیشن سپورٹ فنڈ کو پہلے ہی معطل کرچکا ہے اور پاکستان کو نہ فقط مسلسل دھمکیاں دیتا چلا آرہا ہے بلکہ اسی کے ایما پر گذشتہ ماہ ایف اے ٹی ایف کے تحت پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو نئی اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے میں اگر افغان قیادت پاکستان کے ساتھ مل کر مثبت فضا میں مسائل حل کرنے پر آمادگی کا اظہار کر رہی ہے تو اسے آگے بڑھانے کے لئے فوری طور پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ امریکہ کے پاس ایسی باتیں کرنے کا جو ظاہری جواز ہے، اسے ختم کیا جاسکے۔

امریکہ نے افغانستان میں اپنی افواج کو نئے سرے سے بڑھانے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ اس وقت تیرہ ہزار سے زیادہ امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں، جو پوری دنیا کے مختلف ممالک میں موجود کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں۔ دوسری طرف افغانستان کے شمال میں داعش کا اثرورسوخ بھی روزافزوں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس صورت حال کی سنگینی کا افغان قیادت کو احساس ہے۔ کچھ عرصہ پہلے سابق افغان صدر کرزئی کہ چکے ہیں کہ شمالی افغانستان میں داعشی جنگجو امریکی سرپرستی میں سرگرم ہو رہے ہیں۔ یقینی طور پر موجودہ افغان قیادت ان حقائق کو بہتر طور پر سمجھتی ہے۔ ان حالات کو بہتر بنانے کے لئے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ پاک افغان تعلقات میں بھی بہتری ناگزیر ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین اعتماد کی فضا کو پروان چڑھا کر خطے میں امن کی طرف سنجیدہ پیش رفت کی جاسکتی ہے۔ افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے پر پاکستان بھی بہت حساس ہے۔ کچھ عرصہ قبل افغان صدر نے طالبان کے لئے جن مراعات کا اعلان کیا تھا، اسے بھی اس پس منظر میں بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ فروری کے آخر میں افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں طالبان کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ طالبان جنگ بندی کرکے ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے عام انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ان کے اس اعلان کے پیچھے بھی اعتماد سازی کی فضا کو پیدا کرنا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ معاملات کو اس سطح تک لانے میں پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) جنجوعہ کی مسلسل کوششوں کا بہت حصہ ہے۔

علاقے کے دیگر اہم ممالک جن میں روس، چین اور ایران سرفہرست ہیں، وہ بھی افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر اپنی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ چین پاکستان کے خلاف امریکی بیانات اور اقدامات پر اپنے ردعمل میں پہلے ہی کرچکا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستانی کوششوں کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ خود امریکہ بھی پاکستان کی بعض شکایات کو جائز قرار دے چکا ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں موجودگی، سرحدوں پر کنٹرول اور افغان مہاجرین سے پاکستان کی مشکلات وغیرہ شامل ہیں، لیکن امریکہ کے ایسے اعترافات دراصل چند گرم پھونکوں کے بعد ایک آدھ سرد پھونک کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر پاکستانی وزیراعظم تک ڈومور کا پیغام پہنچایا گیا ہے۔ دوسری طرف افغانستان قیادت بھی اپنی سرزمین پر مسلسل غیر ملکی افواج کی موجودگی کو تلخی کی ایک بڑی وجہ سمجھنے پر مجبور ہے۔ اس کے علم میں ہے کہ طالبان کے پاس اپنی کارروائیوں کے لئے سب سے بڑا جواز امریکی افواج ہی کی موجودگی ہے۔ ان کے نزدیک موجودہ افغان حکومت دراصل امریکی پالیسیوں کی آلہ کار ہے۔ ایسے میں افغان حکومت، افغان طالبان اور پاکستان اگر مسائل کو حل کرنے کے لئے کسی ایک فریم ورک پر اکٹھے ہو جاتے ہیں تو اسے بڑا بریک تھرو قرار دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ نے اپنے حالیہ دورہ افغانستان میں افغان طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان کی طرف سے پیش کیا جانے والا امن منصوبہ قبول کرلیں۔ اس کے لئے پاکستان کو افغان طالبان کو قائل کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ بھی بروئے کار لانا پڑے گا۔ اس پیش رفت سے پرامید ہونے کے باوجود ہمیں کسی تیز رفتار ڈرامائی تبدیلی کی توقع نہیں کرنا چاہیے۔ اس لئے کہ امن کی خواہش کے مقابلے میں امن کے دشمنوں کی سازشیں بھی جاری رہیں گی۔ حکمت اور تدبر سے قدم بہ قدم آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔