گوادر، چابہار کی سیاسی بساط

 

تحریر: سید اسد عباس

گوادر اور چابہار اگرچہ دو بندرگاہیں اور تجارتی راستے ہیں، تاہم ان دونوں راستوں کے پیچھے بہت سی سیاست، معاشی مفادات، ملکی و غیر ملکی پالیسیاں، گلے شکوے چھپے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں گوادر پورٹ چین کے تعاون سے تعمیر کی جا رہی ہے، جس سے چین اور پاکستان کو اقتصادی فوائد میسر آنے کا امکان ہے، تاہم بھارت اس اقتصادی راہداری نیز اس سے حاصل ہونے والے فوائد میں اپنا کوئی حصہ نہیں دیکھتا۔ بھارت کو روس اور وسطی ایشائی ریاستوں تک پہنچنے نیز افغانستان سے اپنے نئے تجارتی روابط کو بڑھانے کے لئے ایک راہداری کی ضرورت ہے۔ اگرچہ پاکستان بھارت کے وسطی ایشیا کے ملکوں سے تجارت کے لئے سستا ترین راستہ ہے، تاہم دونوں ملکوں کے باہمی روابط اور مسائل کے تناظر میں یہ راہداری تقریباً خارج از امکان ہے۔ اسی طرح ایران کو اس وقت بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ چابہار بندرگاہ جہاں بھارت کے راہداری کے مسائل کو حل کرتی ہے، وہیں ایران میں سرمایہ کاری اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بھی دہشت گردی کے مسائل نیز دیگر کئی ایک وجوہات کی بنا پر مسائل سے دوچار ہیں اور اس کے پاکستان کے ساحلی شہر کراچی اور یہاں تک کہ گوادر سے ٹرانزٹ روٹ کے مقابلے میں چابہار کا راستہ زیادہ محفوظ اور سستا راستہ نظر آتا ہے۔ انہی مفادات اور امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے بھارت، افغانستان اور ایران نے 23 مئی 2016ء کو تہران میں ایران کی بندرگاہ چابہار کے راستے افغانستان کو "ٹرانزٹ ٹریڈ" کی سہولت مہیا کرنے کے لئے سہ فریقی معاہدے پر دستخط کئے۔

قبل ازیں 2016ء میں ہی بھارت نے ایران میں چابہار بندرگاہ کی تعمیر کے منصوبے سمیت کئی مشترکہ منصوبوں پر سینکڑوں ملین ڈالر خرچ کرنے کے 12 منصوبوں کے معاہدات پر دستخط کئے تھے۔ ان میں ثقافتی تعاون، سائنس اور ٹیکنالوجی، ثقافتی تبادلے، چابہار بندرگاہ کی ترقی اور چاہ بہار سے زہدان کے درمیان ریلوے لائن بچھانے سے متعلق معاہدے اہم ہیں۔ ٹرانزٹ ٹریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ چابہار سے آغاز ہو رہا ہے، لیکن اس کا اختتام وسیع پیمانے پر ترقی اور اقتصادی اور ثقافتی تعاون پر ہوگا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی ٹرانزٹ ٹریڈ کا معاہدہ ہے، جس کے تحت افغانستان اپنی مصنوعات واہگہ کے راستے انڈیا اور کراچی کی بندرگاہ کے راستے بیرون ملک بھجواتا ہے۔ شمال مشرقی افغانستان سے واہگہ اور کراچی کی بندرگاہ تک کا سفر انتہائی قریب، سہل اور ایک ایسا راستہ ہے، جو سال کے بارہ مہینے کھلا رہتا ہے۔ اسی طرح جنوبی مشرقی افغانستان سے بذریعہ کوئٹہ کراچی پہنچنا بہت آسان ہے، جبکہ دوسری طرف شمال مشرقی افغانستان سے ایرانی بندر گاہ تک کا راستہ کافی طویل ہے اور یہ سردیوں میں برفباری کی وجہ سے کئی کئی ہفتوں بند بھی رہتا ہے۔ اس لئے افغانستان سے ایران کے راستے پھل درآمد کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے باوجود افغانستان کو ایک اور معاہدے کی ضرورت کیوں پڑی۔؟

اقتصادی و معاشی تعاون کی اہمیت اپنی جگہ، اس تمام معاملے کا سیاسی پس منظر بھی ہے۔ خطے میں وقوع پذیر ہونے والی اقتصادی و معاشی سرگرمیوں کو عالمی سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھا جانا نہایت ضروری ہے۔ چین کی اقتصادی ترقی اور ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ امریکہ اعصاب کو شل کئے ہوئے ہے اور اسے روکنے نیز ناکام بنانے کے لئے امریکہ ہر اندرونی و بیرونی حربے کو استعمال میں لا رہا ہے۔ امریکہ بحر ہند میں بھارت کے زیادہ سے زیادہ کردار کا خواہاں ہے، افغانستان میں اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھانے سمیت جنوبی اور مغربی ایشیا میں اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لئے اسے بھارت ایک قابل اعتماد اتحادی کے طور پر نظر آتا ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ بھارت نیز بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو بھی امریکی پالیسیوں کے خطے میں تسلسل کے تناظر میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی کوشش ہے کہ وہ پاکستان اور چین کے مابین ہونے والے اقتصادی معاہدے اور ان کی معاشی پیش رفت کو کسی طرح پیچھے دھکیل دیں، نیز یہ کہ کسی حد تک دونوں کے تعلقات بالخصوص معاشی شعبے میں پیش رفت کو کمزور یا بے اثر کر دیں۔ اسی تناظر میں بھارتی وزیراعظم مودی کا دورہ ایران اور اس موقعے پر بھاری سرمایہ کاری اور تعاون کا اعلان اور افغانستان کے تناظر میں ایرانی بندر گاہ چابہار کی تعمیر کا اعلان اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ چابہار کی بندرگاہ پاکستان کی گوادر کی بندرگاہ سے تقریباً سو میل مغرب میں واقع ہے اور یہ بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے سمندروں کے ذریعے تجارت کرنے کا متبادل راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کے بھی ہمدرد نہیں ہیں، تاہم اس وقت ان کے لئے بڑا خطرہ چین ہے۔ سرمایہ دار قوتیں اس وقت ایشیاء کے ان اہم ممالک کے مابین مفادات کے ٹکراﺅ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے درپے ہیں۔ چابہار بندرگاہ کی تعمیر سے پاکستانی بندرگاہ گوادر پر اثرات مرتب ہونے کے یقینی امکانات ہیں، اس سے جہاں معاشی مفادات کا ٹکراﺅ سامنے آئے گا، وہیں سیاسی چپقلش بھی پیدا ہوگی۔

جہاں بھارت کو امید ہے کہ چابہار کی صورت میں اسے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیاء تک رسائی حاصل ہو جائے گی، وہیں امریکہ کو یہ امید ہے کہ اس راستے سے چین کی اقتصادی پیش رفت کو نقصان پہنچایا جا سکے گا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ خطے کے ممالک کے مابین معاشی مفادات کی بنیاد پر سیاسی و سفارتی دوریاں اور عدم اعتماد پیدا کرنا ممکن ہوگا، جس کے ذریعے وہ باآسانی خطے کی سیاست، اتحادوں کی تشکیل میں دخیل رہ کر اپنا رسوخ استعمال کر سکے گا۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کے مسائل تو پرانے ہیں، تاہم افغانستان کا پاکستانی ٹریڈ ٹرانزٹ کو چھوڑ کر ایک نئے معاہدے میں جانا تشویشناک ہے۔ چابہار معاہدے سے ایسا لگتا ہے کہ افغانستان پاکستان پر اپنا دارومدآر کم کرنا چاہتا ہے۔ ماضی میں ایران نے پاکستان سے اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کا متعدد بار اظہار کیا ہے، تاہم ہماری جانب سے خاطر خواہ جواب نہ دیا گیا۔ سال 2017ء میں ایرانی صدر حسن روحانی کے دورہ پاکستان کے موقعے پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم سالانہ پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم اب تک پاکستان نے گیس پائپ لائن کے معاہدے پر ہی کوئی پیش رفت نہیں دکھائی، ایسے میں مزید تعلقات کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔ ایسے میں ایران کے پاس اپنی معیشت کے پہیے کو چلانے اور اسے ترقی دینے کے لئے دیگر آپشنزپر غور کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔ ظاہراً دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے اقتصادی و معاشی معاملات اور سیاسی مسائل کے مابین خط امتیاز کھینچیں اور باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لئے خطے کے ممالک کے مابین زیادہ ہم آہنگی پیدا کریں، تاکہ بیرونی قوتوں کو ہمارے معاملات میں مداخلت اور ہمارے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کا کم سے کم موقع ملے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے، تاہم ناممکن نہیں۔ بعید نہیں کہ ہماری معاشی ہم آہنگی اور تعاون خطے کو سیاسی مسائل سے بھی نکالنے کا سبب بن جائے۔(واللہ اعلم )

بشکریہ اسلام ٹائمز