قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں۔۔

تحریر: سید اسد عباس

خواہ دوستی کا دور ہو یا سرد مہری کا زمانہ، پاکستان کے بارے میں امریکہ کا لہجہ ہمیشہ آمرانہ اور حقارت پر مبنی رہا ہے۔ 1965ء میں جب ہم پر مشکل وقت آیا اور ہمیں بھارت کی جانب سے جنگ کا سامنا ہوا تو 1955ء سے عسکری مد میں ملنے والی امریکی امداد پر بڑی کٹوتیاں شروع کر د ی گئیں۔ 1086 ملین ڈالر کی امداد کم ہوتے ہوئے 1969ء تک صرف پچاس لاکھ ڈالر رہ گئی۔ 1979ء میں پاکستان میں جوہری پلانٹ کی موجودگی کے انکشاف کو جواز بنا کر امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ نے خوراک کے سوا پاکستان کی تمام امداد روک دی اور 1955ء کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کو اگلے دو برسوں میں امداد کی مد میں ایک ڈالر بھی نہیں ملا بلکہ اقتصادی شعبے میں بھی ایک دھیلا نہیں دیا گیا۔ افغانستان میں سوویت یونین کی فوجی مداخلت کے بعد امریکہ کے خطے میں دوبارہ دلچسپی پیدا ہوئی اور اس کے ساتھ پاکستان کے ساتھ سرد تعلقات میں گرمجوشی بھی پیدا ہونا شروع ہوگئی۔ اگرچہ اس وقت ملک میں فوجی آمر جنرل ضیاء الحق منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کرنے اور پھانسی دینے کے بعد حکمرانی کر رہے تھے۔ یعنی آمریت کے باوجود پاکستان کو امداد کا دوبارہ آغاز کیا گیا اور 1982ء میں شروع ہونے والے دوسرے دور میں پاکستان کو امریکی امداد کی بحالی 12 لاکھ ڈالر سے ہوئی اور اگلے ہی برس میں یہ رقم غیر معمولی اضافے سے تقریباً 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔

1990ء تک امریکی امداد مجموعی طور پر تین ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی، جس میں پاکستان نے کوبرا جنگی ہیلی کاپٹروں اور ایف 16 جنگی طیاروں جیسے امریکی ساختہ اسلحے کی خریداری سے اپنے سامانِ حرب کو جدید بنایا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے اور افغانستان سے روسی فوج کے انخلا کے بعد امریکی مفادات خطے میں ایک بار پھر محدود ہوگئے اور اسی عرصے میں جہاں افغان جنگ میں امریکی کے اہم اتحادی جنرل ضیاء طیارے کے حادثے میں مارے گئے، وہیں امریکہ کو پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک بار پھر سے تشویش ہوئی۔ امریکہ نے ریپبلکن پارٹی کے ایک سینیٹر کے نام سے منسوب پریسلر ترمیم کے ذریعے امریکی صدر کو پابند کیا تھا کہ وہ ہر سال امداد دینے سے پہلے اس بات کی تصدیق کریں گے کہ پاکستان جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا۔ 1990ء میں امریکی صدر نے تصدیق کی تو پاکستان کو فوجی امداد کی مد میں 283.44 ملین ڈالر ملے، لیکن 1991ء میں تصدیق نہ ہونے کے بعد یہ امداد دوبارہ صفر پر آگئی۔ اس کے بعد 2001ء تک صرف دو برس ہی ایسے رہے جن میں امداد ملی۔ 1992ء میں 72 لاکھ ڈالر اور 1999ء میں 22 لاکھ ڈالر ملنے کے علاوہ باقی ماندہ برسوں میں عسکری امداد کے خانے میں صفر کا ہندسہ ہی رہا، جبکہ پانچ برس تو اقتصادی امداد بھی نہیں ملی۔ عسکری امداد بند ہوئی تو جدید امریکی ساز و سامان کی ترسیل بھی متاثر ہوئی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایف 16 جہازوں کی فراہمی پر بھی تنازع پیدا ہوا۔ پاکستان پر پابندیوں سے پہلے وہ امریکہ کو جہازوں کی خریداری کے لئے رقم ادا کر چکا تھا، تاہم امریکہ نے جہاز فراہم تو نہیں کئے، لیکن اس کے بدلے گندم دینے کی پیشکش کرتا رہا۔

11 ستمبر 2001ء کو امریکہ میں دہشت گردی کے واقعات نے وہاں سے ہزاروں میل دور جنوبی ایشیا میں ایک مرتبہ پھر امداد کے تناظر میں صورتحال پاکستان کے حق میں موڑ دی۔ امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف فوجی یلغار کی اور پاکستان اس کا فرنٹ لائن اتحادی بن گیا۔ جس کے نتیجے میں عسکری امداد کے مردہ گھوڑے میں نئی جان پڑی اور پاکستان کو 2002ء میں یک مشت تقریباً ایک ارب 70 کروڑ ڈالر مل گئے۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان 2002ء میں شروع ہونے والا دوستانہ تعلقات کا تیسرا باب 2010ء میں ہچکیاں لینے لگا، جب پاکستان پر افغانستان میں امریکی مفادات کے خلاف کام کرنے والے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے الزامات لگنا شروع ہوئے۔ بات اگلے سات برسوں میں بڑھتے بڑھتے 2017ء میں اس نہج تک پہنچ گئی کہ ایک بار پھر امریکہ نے پاکستان پر عسکری امداد کے دورازے بند کر دیئے۔ یہاں مرزا غالب کا وہ مشہور شعر ذہن میں گردش کرتا ہے کہ
قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

سوال یہ ہے کہ ہم کب تک قرضوں، امدادوں کے سہارے زندگی گزاریں گے؟ ملکی معیشت کا رونا ایک جانب، جب ہم اپنے ایوان ہائے اقتدار کی جانب نظر دوڑاتے ہیں تو یہاں ہمیں ایک گھوڑا دور کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ کرپشن، اقرباء پروری، لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا عمل جاری ہے۔ ادارے اور سیاست دان آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ عوام کے مسائل کی کسی کو خبر نہیں۔ تم لیٹ جاﺅ، تمہیں کھڑا نہیں ہونے دیں گے، تم چور ہو، مجھے کیوں نکالا، اس جمہوریت پر لعنت بھیجتا ہوں۔ عجیب چیخ و پکار ہے۔ حالت یہ ہے کہ ملک میں بنیادی ترین ضرورت بجلی دستیاب نہیں، جو موجود ہے وہ بھی مہنگے ترین ذرائع سے پیدا کرکے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔ پانی، زراعت، معدنی وسائل ، صنعت و تجارت کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔ گورننس، امن و امان ناپید ہیں، تعمیر و ترقی کا کوئی ایسا منصوبہ نہیں، جو زیر غور ہو۔

ایک سی پیک کا منصوبہ ہے، جس سے تمام امیدیں اور آسیں لگی ہوئی ہیں، یعنی اب منصوبہ یہ ہے کہ اپنی سڑکیں اور زمینیں ٹھیکے پر دے کر وہاں سے پیسہ کمایا جائے گا۔ خود ہم نے ترقی کا نہ تو کوئی خواب دیکھنا ہے، نہ ہی کوئی ایسا منصوبہ شروع کرنا ہے، جس سے ملک معاشی خود مختاری کی جانب سفر کرے اور ہم بھی دنیا میں ایک باوقار قوم کی حیثیت سے کوئی مقام پیدا کرسکیں۔ یہ کام ملک کی سیاسی لیڈر شپ کو کرنا تھا، جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آتی ہے اور جو پانچ سال بعد دوبارہ انہی کو جوابدہ ہوتی ہے، تاہم اس کی حالت یہ ہے کہ اپنے جرائم چھپانے کے لئے ایک دوسرے کے منہ پر سیاہی مل رہے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہم اپنے وجود کے ازلی دشمن بھارت کی جانب دیکھیں تو وہ اپنے گوناں گوں مسائل کے باوجود سائنس، ٹیکنالوجی، زراعت، ٹیکسٹائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر ٹیکنالوجی غرضیکہ ہر شعبہ میں ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ اس کی معیشت روز افزوں ترقی کر رہی ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان سال 2015ء اور 2017ء میں دنیا کی سب سے زیادہ پھلنے پھولنے والی معیشت کی حیثیت سے منظر عام پر آیا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، شعبہ طب، بائیو ٹیکنالوجی، آپٹکس، لیزر ٹیکنالوجی، سائبر ٹیکنالوجی، ڈیفنس، معدنیات، پانی کو قابل استعمال بنایا غرضیکہ کونسا ایسا شعبہ ہے، جس میں ہندوستان جدت کی جانب نہیں بڑھ رہا۔ امریکہ، اسرائیل اور دنیا کے مختلف ممالک سے مختلف شعبہ جات میں معاہدے ہو رہے ہیں۔ اس حقیقت سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے کہ کسی بھی ملک کی معاشی حیثیت، علمی و سائنسی میدان میں ترقی اس کے وقار میں اضافہ کا باعث بنتی ہے اور وہی ملک اپنے سیاسی اور ملکی مفادات کو بہتر طریقے سے حاصل کرسکتا ہے، جو دنیا میں ایک باوقار حیثیت کا حامل ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ خطے اور دنیا میں ہمارے بحیثیت قوم سیاسی، معاشی اور ملکی مفادات محفوط رہیں تو ہمیں کاسہ لیسی کی اس روش کو ترک کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے دست و بازو پر انحصار کرتے ہوئے تعمیر و ترقی کے عمل کو ایک جہاد کے طور پر اپنانا ہوگا۔ انفرادی ترقی پر اجتماعی ترقی کو فوقیت دینی ہوگی۔ کسی ایک عضو کی ترقی قومی ترقی تصور نہیں کی جاسکتی، یہ ایک متناسب پیش رفت نہیں بلکہ بے ہنگم پھیلاﺅ ہے، جو بالاخر پورے وجود پر بوجھ کی صورت میں ظاہر ہوگا۔

بشکریہ اسلام ٹائمز