بی بی سی اور مغربی ذرائع ابلاغ کا طریقہ واردات

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

مشرق و سطٰی کے حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے، عرب بہار نے پورے خطے میں ہل چل مچا رکھی تھی، ایسے میں حالات حاضرہ سے آگاہی کے لئے نیوز سائیٹس دیکھتا رہتا تھا۔ ایک دن بی بی سی پر یہ خبر دیکھی کہ صنعا پر کنٹرول کے لئے لڑائی ہو رہی ہے، یہ لڑائی حوثی شیعہ باغیوں اور منتخب حکومت کے حامیوں کے درمیان ہے۔ پوری خبر میں غیر محسوس انداز میں حوثیوں کے شیعہ ہونے کو اچھالا گیا تھا، میں نے اسی وقت نوٹ کر لیا کہ اب یمن کے سیاسی مسئلہ کو فرقہ ورانہ رنگ دیا جائے گا اور یہی ہوا۔ یمن کو اندرونی طور پر فرقہ وارانہ انداز میں تقسیم کیا گیا اور اس کے بعد پوری دنیا سے فرقہ پرستوں کو اس جنگ میں جھونک دیا گیا۔ پہلے جن گروہوں کی منزل عراق و شام تھے، وہاں عبرت ناک شکست کے بعد یہ گروہ مغربی اور علاقائی طاقتوں کی حفاظت میں یمن منتقل ہوچکے ہیں۔ پچھلے چند دنوں میں یمن جنگ میں تیزی آئی ہے، جس سے کافی جگہوں پر حوثی فوج پر شدید حملے ہوئے ہیں۔ استعمار نے پرانی چال چلی ہے، فضائی حملے یمنی بچوں اور بزرگوں کے لئے موت کا پیغام لے کر آئے، مگر عملی طور پر سعودی اتحاد کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکا، اس لئے اب زمینی جنگ میں ان جنگجوؤں کو لڑایا جا رہا ہے۔

ایران میں چند روز قبل مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہوئے اور یہ احتجاج اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے مطابق ہر شہری کا حق ہے، جسے تسلیم کیا گیا ہے۔ اس احتجاج میں چند شرپسند عناصر شامل ہوئے، جنہوں نے اس عوامی احتجاج کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔ ایران میں چند جگہوں پر یہ مظاہرے ہوکر ختم بھی ہوگئے، مگر پورا مغربی میڈیا کچھ اس طرح کی تصویر پیش کر رہا تھا، جیسا پوری عوام اسلامی نظام کے خلاف سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے۔ بی بی سی اور دوسرے میڈیا کی ایک منافقت اس وقت بھی ظاہر ہوئی، جب چند حکومت مخالف مظاہروں کو تو گھنٹوں کوریج دی گئی، ڈھونڈ ڈھونڈ کر انقلاب دشمن عناصر کو ماہرین امورِ ایران کے طور پر انٹرویو لئے گئے، مگر جب لاکھوں کی تعداد میں ایران کی عوام انقلاب کی حمایت میں سڑکوں پر نکلے تو پورے مغربی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا۔ بعض انسانی حقوق کے نام نہاد کارکنوں نے انقلاب کی حمایت میں نکالی گئی ریلیوں کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر حکومت مخالف ریلیوں کے طور پر پیش کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بڑی قوتیں اپنے سیاسی مخالفین کے لئے کس طرح حکمت عملی سے میڈیا کا استعمال کرتی ہیں۔ آپ اس کے بعد کے وطن عزیز کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیجئے، یہ وہی تصویر دکھا رہے تھے، جو بی بی سی اور دیگر یورپی میڈیا پیش کر رہا تھا۔

مغربی ذرائع ابلاغ ہوں یا مغربی نظام تعلیم، ہر دو معاشرے میں مغربی اقدار کو فروغ دینے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ثقافتی خبریں بڑی حکمت عملی سے ترتیب دی جاتی ہیں، آج بی بی سی کی لیڈنگ خبروں میں ایک خبر مردان میں بچی کے ساتھ زیادتی اور دوسری خبر معتدل اسلام کے ذریعے انتہا پسندی سے باہر آنے کے عنوان سے چل رہی ہے، جو کہ انڈونیشیا میں صوفی اسلام پر ہونے والی کانفرنس کی روئیداد پر مشتمل ہے۔ کسی بھی بچی سے زیادتی ظلم ہے اور ظلم کے خلاف بولنا ہماری ذمہ داری ہے، مگر تھوڑی دقت سے ملاحظہ کریں تو پتہ چلے گا کہ مظلوم بچی کا سہارا لیکر بڑی خوبصورتی سے مشرقی اور اسلامی اقدار کو زیر سوال لایا گیا ہے۔ اسی طرح معتدل اسلام کے نام پر بھی تابعدار لوگ پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ آپ بی بی سی کے طریقہ کار کو داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے، خبر کی سرخی اس طرح کہ ہوتی ہے، جس سے ایک ہیجان جنم لیتا ہے، جیسے چائنہ کو سیکس سکھانے والی۔۔۔ اس خبر کو تفصیل سے دیکھیں گے تو اس میں بظاہر چائنہ پر تنقید کی گئی ہے کہ وہاں پر سیکس کی خاطر خواہ تعلیم نہیں ہے، لیکن اس کا مخاطب ہر وہ معاشرہ ہے، جہاں یورپی تہذیب کے اس پہلو کی تقلید نہیں ہو رہی۔ مشہور مثال ہے کہ کہو بیٹی کو سناؤ بہو کو۔

عورت کے حقوق کے نام پر بے شمار ایسی رپورٹس مسلسل آپ کو مل جائیں گی، جن میں مشرقی عورت کو ایک مظلوم کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ کسی ایک بچی پر بھی تیزاب پھینکا جائے، یہ ظلم ہے اور اسلام قطعاً اس کی اجازت نہیں دیتا، لیکن اسے ایک ایسی خبر اور ایشو کے طور پر دنیا کو دکھانا، جیسے پاکستان میں تو بازاروں میں لوگ تیزاب لئے پھر رہے ہیں اور خواتین کو دیکھتے ہی ان پر پھینک دیتے ہیں، یہ تاثر دینا غلط ہے۔ اس سے بڑے مسائل موجود ہیں، ان پر کوئی خبر نہیں دی جاتی۔ اسی طرح گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی بچیوں سے متعلق رپورٹس دیکھیں اور وہ رپورٹس ملاحظہ کریں، جن میں غیر مسلموں کے ساتھ کسی برے سلوک کی بات ہے تو اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ شادی بچی کی مرضی سے ہی ہوسکتی ہے، مگر گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی خواتین کو رول ماڈل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، جو بعد میں پوری زندگی معاشرتی مسائل کا شکار رہتی ہیں، اکثر کو طلاق ہو جاتی ہے، کچھ خودکشی کر لیتی ہیں اور جو شوہر کے ساتھ رہتی ہیں، ان کی زندگی بھی کوئی آئیڈیل نہیں ہوتی۔

میرے خیال میں یورپی میڈیا پوری قوت کے ساتھ دنیا میں مغربی تہذیب کو برآمد کر رہا ہے، ان کے لئے ہر وہ چیز غیر تہذیب یافتہ ہے، جو یورپ کی فکر پر پوری نہیں اترتی۔ کھانے پینے سے لیکر بالوں کے سٹائل تک یورپی ہونے چاہیں۔ ہندوستان کا نظام تعلیم تشکیل دینے والے لارڈ میکالے نے کہا تھا، ہم ہندوستان میں ایک ایسی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں، جو رنگ و نسل کے اعتبار سے تو  ہندوستانی ہو، مگر فکر و عمل کے لحاظ سے برطانوی ہو۔ آج بی بی سی سمیت تمام میڈیا یہی کرنے میں لگا ہوا ہے اور ہم اس کی پیروی کر رہے ہیں، اگر یقین نہ آئے تو آج سے دس سال پہلے کے پی ٹی وی پر چلے کسی ڈرامہ کو نکال کر دیکھ لیں، جو اس وقت ہمیں دکھایا گیا تھا، آج ہم وہ کر رہے ہیں اور جب ہم وہ دیکھتے تھے تو سوچتے تھے، یہ صرف ٹی وی میں ہوسکتا ہے، ویسے ایسا کہاں؟ یاد رکھیے، جو آج ہمیں ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہے، دس سال بعد پورے ملک میں یہی کچھ ہو رہا ہوگا۔ امامؑ کے اس فرمان پر ختم کروں گا کہ برائی اس وقت تک ختم نہیں ہوتی، جب تک اس کو اسی راستے سے ختم نہ کیا جائے، جس سے وہ آئی تھی۔ ٹی وی کی برائی ٹی وی سے اور خبروں کی برائی خبروں سے ہی ختم ہوگی، مگر امت مسلمہ کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ فرقہ واریت سے بلند ہو کر اپنی مٹتی تہذیبی شناخت کے بارے میں کچھ سوچ لیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز