اسرائیل اور ہندوستان کا گٹھ جوڑ

تحریر: سید اسد عباس

کانگریسی راہنما اور ہندوستانیوں کے باپو مہاتما گاندھی اگرچہ یہودیوں کے مقدمے کو درست جانتے تھے، تاہم وہ فلسطین میں مذہبی بنیادوں پر ایک یہودی ریاست کی تشکیل کے خلاف تھے۔ اسی لئے ہندوستان نے 1947ء کے تقسیم فلسطین کے منصوبے اور اس کے بعد 1949ء میں اسرائیل کو اقوام متحدہ کی رکنیت دینے کے خلاف ووٹ دیا۔ ہندوستان نے 1950ء میں اسرائیل کے وجود کو قبول کیا، جواہر لال نہرو نے 1953ء میں بمبئی میں یہ کہہ کر اسرائیلی کونسل خانہ کھولنے کے احکامات دیئے کہ ہم بہت پہلے اسرائیل کے وجود کو، جو ایک حقیقت ہے قبول کرچکے ہوتے، تاہم ہم نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ اس سے ہمارے عرب دوستوں کے جذبات مجروح ہوسکتے تھے۔ جب عربوں نے دھیرے دھیرے اسرائیل کے وجود کو قبول کرنا شروع کیا تو ہندوستان کے لئے کوئی رکاوٹ باقی نہ رہی۔ 1992ء میں ہندوستان نے تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ کھولا، یہ ہندوستان کے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات کا آغاز تھا۔ 1997ء میں اسرائیلی صدر ایزر وائزمین نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ اس کے بعد 2003ء میں اسرائیلی وزیراعظم ایرئیل شیرون نے ہندوستان یاترا کی۔ وزرائے خارجہ، دفاعی وزراء اور دیگر اہم عہدوں کی حامل شخصیات نے دونوں ممالک کے دوطرفہ دورے کئے، تاہم نریندر مودی بھارتی کے پہلے وزیراعظم تھے، جنھوں نے جولائی 2017ء میں اسرائیل کا دورہ کیا۔ اس اعلٰی سطحی دورے کے بعد اب 2018ء کے آغاز میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایک اعلٰی سطحی تجارتی اور سفارتی وفد کے ہمراہ ہندوستان کے 6 روزہ دورے پر ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم کے وفد میں 130 افراد شامل ہیں، جن میں زیادہ تر کاروباری اور دفاع کے شعبے سے متعلق شخصیات ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سائبر سکیورٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، ایئر ٹرانسپورٹ، فلم پروڈکشن، تیل اور گیس سمیت 9 معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف، جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد کے حق میں ہندوستان کا ووٹ نیز گذشتہ برس مارچ میں بھارت کی جانب سے ٹینک شکن میزائلوں کی خریداری سے متعلق 500 ملین ڈالر کے معاہدے کی منسوخی کے باوجود اس سطح کا دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور دوطرفہ تعلقات کی گہرائی کو بیان کرتا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے قریبی روابط میں امریکہ کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی، دفاعی اور سفارتی تعلقات کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں ممالک کا باہمی تجارتی حجم روز افزوں ترقی کر رہا ہے، 2015ء میں بھارت نے 2 بلین ڈالر کی اشیاء اسرائیل سے درآمد کیں اور 2.3 بلین کی اشیاء بھارت سے اسرائیل برآمد کی گئیں۔ ان اشیاء میں ملبوسات، مشینری، گاڑیاں، برقی آلات، کیمیائی مواد، پلاسٹک اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ دونوں ممالک کا باہمی تجارت کے حجم کو 10 بلین ڈالر سالانہ تک بڑھانے کا ارادہ ہے۔ باہمی تجارت کے علاوہ دفاعی شعبہ میں اسرائیل روس کے بعد بھارت کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے۔ صرف 2016ء میں بھارت نے اس شعبے میں اسرائیل کے ساتھ 600 ملین ڈالر کا کاروبار کیا۔

1996ء میں بھارت نے اسرائیل سے 32 ڈرون، سمولیٹر اور دیگر آلات خریدے۔ اس وقت سے اسرائیل اور بھارت کے درمیان فضائی شعبے میں تعاون جاری ہے۔ 1997ء میں ہندوستان نے اسرائیل سے باراک1 میزائل کی خریداری کا معاہدہ کیا۔ ایک اطلاع کے مطابق 2000ء میں اسرائیلی آبدوزوں نے بحر ہند کے پانیوں میں وار ہیڈ لے جانے والے کروز میزائلوں کا تجربہ کیا۔ 2003ء میں ہندوستان نے روسی ساختہ ٹرانسپورٹ طیاروں کے لئے تین راڈار سسٹم خریدے۔ 2005ء میں ہندوستان نے اسرائیل سے 220 ملین ڈالر کے پچاس ڈرون خریدے، اسی طرح ہندوستان اسرائیلی ڈرون کی جدید ٹیکنالوجی کی خریداری میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔2007ء میں اسرائیلی ایرو سپیس انڈسٹری لمیٹڈ نے ہندوستان کے ساتھ 2.5 بلین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے، جس کے تحت اسرائیل ہندوستان کے لئے ایئر ڈیفنس سسٹم تیار کرے گا۔ یہ اسرائیلی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ اسی طرح اسرائیل ہندوستانی بحریہ اور فضائیہ کے لئے باراک 8 میزائل بھی تیار کر رہا ہے۔ 2011ء میں ہندوستان نے اسرائیل کی ایک کمپنی سے اینٹی ٹینک میزائل اور اس سے متعلقہ ٹیکنالوجی کی خریداری کا معاہدہ کیا۔ 2017ء میں دونوں ممالک نے دفاعی شعبے میں 2 بلین امریکی ڈالر کا معاہدہ کیا۔

ہندوستانی خفیہ ایجنسی را اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے مابین روابط ہندوستان اور اسرائیل کے باقاعدہ سفارتی تعلقات سے قدیم ہیں۔ را کے قیام کے وقت سے ہی ہندوستانی وزیراعظم اندرا گاندھی نے ان تعلقات کا آغاز کیا۔ یہ دونوں ادارے اپنے مشترکہ مفادات کے لئے مل کر سرگرم عمل ہیں۔ افغانستان اور مقبوضہ کشمیر میں دونوں ممالک اور ان کے دفاعی اداروں کے روابط اب کسی سے پنہاں نہیں رہے۔ تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے میں بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ منظر عام پر آچکا ہے۔ فلسطینی تحریک کو کچلنے کے حوالے سے اسرائیلی تجربات، ڈیموگرافک تبدیلی اور مشترکہ ہتھیاروں نیز آلات کا استعمال اس کہانی پر سے پردہ اٹھاتا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور ایر سپیس کے شعبوں میں بھی دونوں ممالک کے روابط میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ تحقیق اور ترقی کے شعبے میں تعاون کے لئے متعدد مشترکہ فنڈز قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے سائنس دان ایک دوسرے کی صلاحیات اور تحقیقات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، بائیو ٹیکنالوجی، الیکٹرو آپٹکس، لیزر ٹیکنالوجی، پانی کی صفائی جیسے شعبوں میں تعاون جاری ہے، اسی طرح ایرو سپیس کے شعبے میں بھی دونوں ممالک نے متعدد پروجیکٹس پر کام کیا ہے، جس میں اسرائیلی ایرو سپیس کے ادارے کی جانب سے بنائے گئے سیارچے ہندوستانی ایرو سپیس اسٹیشنز سے لانچ کئے گئے ہیں، جن میں ٹیکسار اور ریسات 2 قابل ذکر ہیں۔ یہ دونوں سیٹلائٹس ان دونوں ممالک کو دفاعی کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں بہتر سرویلنس کے لئے ممدو معاون ہیں۔

نیتن یاہو کا حالیہ دورہ یقیناً ان دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید وسعت دے گا۔ ہندوستان اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات یقیناً خطے کے ممالک بالخصوص پاکستان، ایران، افغانستان، چین اور روس کے لئے توجہ طلب ہیں۔ اسرائیل کی گذشتہ نصف صدی سے زائد پر محیط تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اس ریاست کے کسی بھی خطے میں بڑھتے ہوئے قدموں کو غیر اہم تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اس اکائی کے پیچھے موجود صہیونی لابی نے جس طرح سے مسئلہ فلسطین کی حیثیت کو بدلا اور ایک ایک کرکے اپنے دشمنوں سے چھٹکارا حاصل کیا، جدید انسانی تاریخ میں اس طرح کے اقدامات کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ بہت سی مسلم و غیر مسلم ریاستیں اسرائیل کے ان تجربات اور اس کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں اس بات سے چشم پوشی ممکن نہیں ہے کہ ان دونوں ممالک کے باہمی روابط اور ایک دوسرے پر انحصار کے خطے پر کیا ممکنہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ پاکستان اور ایران جو ان دونوں ریاستوں کے براہ راست دشمن ہیں، کو ان حالات میں زیادہ ہوش مندی اور سرعت کے ساتھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس گٹھ جوڑ کے دوررس اثرات جو یقیناً سب سے پہلے انہی دو ممالک میں ظاہر ہوسکتے ہیں، سے نبرد آزما ہوا جا سکے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز