امریکی دباﺅ کے عوامل، اثرات اور حل


 

تحریر: سید اسد عباس

ہم نے گذشتہ پندرہ برس میں پاکستان کو 33 بلین ڈالر کی امداد دے کر بے وقوفی کی، انھوں نے ہمارے ساتھ ہمیشہ جھوٹ بولا اور ہمیں دھوکہ دیا اور ہمارے راہنماﺅں کو بے وقوف سمجھا۔ وہ ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتے ہیں، جنہیں ہم نے افغانستان میں شکار کر رہے ہیں، اب اور نہیں۔ یہ ہیں الفاظ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جو انھوں نے اپنے سال کے پہلے ٹویٹ میں تحریر کئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ذہنی مریض ہیں، خبطی ہیں، امریکی ان کی ٹوئیٹس سے پریشان ہیں، جتنے منہ اتنی باتیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ ٹرمپ کی یہ بات کوئی ذہنی ابال نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی بات ہے، جو امریکی اداروں کی جانب سے اکثر کی جاتی رہی ہے۔ امریکی سیاست اور امور مملکت سے آگاہ افراد جانتے ہیں کہ وہاں افراد کے آنے جانے سے اہم ملکی و بین الاقوامی پالیسیوں پر زیادہ اثر نہیں پڑتا بلکہ افراد کا آنا جانا پالیسیوں میں موجود شدت یا نرمی کے تاثر کو زائل کرنے کے لئے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ بش سینیئر اور بش جونیئر کے جارحانہ اقدامات کے مقابلے میں کلنٹن اور اوباما کی قدرے معتدل شخصیات کے ذریعے امریکہ کے جارحانہ تاثر کو مندمل کرنے کی کوشش کی گئی، جو کافی حد تک کامیاب بھی رہی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی صدر کا رویہ جارحانہ ہو یا مصالحانہ، پالیسیوں میں کوئی بہت بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آتی۔ میری نظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور مختلف ممالک کو دی جانے والی دھمکیوں کو اسی تناظر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

وہ ادارے جو دنیا کے امور کو چلانے اور وہاں امریکی مفادات کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، ان کے لئے ایک فرد کے مزاج کو سمجھنا اور اسے اپنے قومی مفاد میں استعمال کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ بش سینیئر کا دور ہو یا کلنٹن کا، بش جونیئر کا زمانہ ہو یا اوبامہ کا، امریکی ذمہ دار اور ادارے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ سابق پاکستانی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا بش کے اعلان You are with us or against us کے جواب میں افغان جنگ میں شریک ہونا، القاعدہ کے بہت سے اہم قائدین کو امریکہ کے حوالے کرنا، ڈرون حملوں کی اجازت، نیٹو سپلائی کے لئے اپنی سڑکوں، ذرائع رسل و رسائل کی فراہمی، بلیک واٹر کے اراکین کے ملک کے مختلف علاقوں میں ٹھکانے۔ یہ سب امریکہ کے ڈومور کے تقاضوں کا ہی جواب تھا۔ اس تعاون کے بدلے میں امریکہ کے دعوے کے مطابق اس نے ہمیں 33 بلین ڈالر دیئے۔ یہ 33 بلین ڈالر کلی طور پر مدد کے لئے نہ تھے۔ 2002ء سے 2017ء تک پاکستان کو 14.788بلین ڈالر یو ایس ایڈ کی ذریعے امداد کی مد میں دیئے گئے۔ 19.354 بلین ڈالر CSF کولیشن سپورٹ فنڈ کے ذیل میں دیئے گئے، جو ایک طرح سے سروس جارجز تھے۔ ایک تخمینے کے مطابق پاکستان کو اس جنگ میں شرکت کے سبب تقریباً 120 بلین ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا، جانی نقصان اس کے علاوہ ہے۔ امریکہ جو دنیا کے بہت سے ممالک کو فوجی شعبہ میں بھی تعاون فراہم کرتا ہے، اس نے پاکستان کو اس مد میں 255 ملین ڈالر کی فوجی امداد جو سال 2016ء کے لئے منظور کی گئی تھی، روک دی ہے۔ اسی طرح 2 بلین ڈالر جو کہ سال 2017ء میں ادا کئے جانے تھے، جن میں 900 ملین ڈالر CSF کے تحت ادا کرنا تھا، کی ادائیگی کو بھی روکا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کو مذہبی آزادیوں پر قدغن لگانے والے ممالک کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

نمبر گیم کے تناظر میں تو یہ ایک بڑی رقم ہے، جو کہ پاکستان کو موصول نہیں ہوگی، جس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہوسکتی ہے، تاہم اس مدد کے جواب میں جس طرح کا رویہ امریکہ نے اختیار کر رکھا تھا یا جس انداز سے امریکی قیادت پاکستان کو ڈیل کر رہی تھی، اس سے نجات کے لئے یہ قربانی کچھ بھی نہیں ہے۔ جنرل (ر) عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ پاکستان چونکہ کوئی امیر ملک نہیں ہے، اس لئے اس کا زیادہ انحصار اسی کولیشن سپورٹ فنڈ پر تھا، تاہم خود امریکہ نے افغانستان میں اسی فنڈ کی مد میں 700 بلین ڈالر خرچ کئے، آج بھی وہ ناکام ہے اور 43 فیصد افغانستان پر ان کا کنٹرول نہیں ہے، جبکہ پاکستان 17 سے 18 بلین ڈالر میں اس جنگ میں کامیاب ہوا ہے۔ اس رقم میں سے بھی آٹھ یا نو بلین ڈالر ابھی تک واجب الادا ہیں۔ جنرل (ر) عبدالقیوم کے مطابق امریکہ کی یہ خفگی شاید پاکستان کے عدم تعاون سے زیادہ اس کے خطے میں مفادات کا تحفظ نہ ہونے پر ہے۔ گذشتہ دنوں سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے ایک نجی ٹی وی پر اسی سلسلے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کا امداد روکنا ہمارے لئے زحمت سے زیادہ رحمت کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 65ء کی جنگ کے بعد امریکہ نے جب ہماری امداد روکی تو ہم نے اپنی دفاعی پیداوار کا آغاز کیا، اسی طرح جب اسی کی دہائی میں ہم پر پابندیاں لگیں تو ہم نے ایٹم بمب بنایا، اب بھی پاکستان کے پاس بہت سے آپشنز موجود ہیں، تاہم امریکہ خطے میں ہماری حیثیت کو فراموش کر رہا ہے اور افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا پلندہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کسی صورت درست نہیں ہے۔

اسی پروگرام میں ایک اور دفاعی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے نے امریکی اوسان خطا کر دیئے ہیں۔ خطے کے معاشی نظام پر چین کی گرفت، روس، وسطی ایشاء کی ریاستوں کی معاشی منصوبوں میں شرکت امریکہ کے لئے معاشی اور سیاسی مفادات میں کمی کا پیش خیمہ ہے۔ جس سے اس کے خطے میں اقتدار اور واحد سپر پاور کی حیثیت کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ افغانستان میں مسائل کو بدستور قائم رکھنا چاہتا ہے، تاکہ اپنے قیام کو یقینی بنا سکے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی افغان پالیسی میں اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ امریکہ افغانستان میں موجود رہے گا۔ امداد کی معطلی، ڈو مور کا تقاضا پاکستان جیسے ملک پر دباﺅ قائم رکھنے اور اسے اپنے بلاک میں رکھنے کی ایک سعی لاحاصل ہے۔ بھارت کی امریکہ سے قربت اسرائیل، بھارت اور امریکہ کا گٹھ جوڑ حالات کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ دنیا میں جنگی دھندے کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ عراق اور شام کے بڑے محاذ پر بڑی شکست کے بعد دنیا کے کسی اور خطے میں ایک طویل جنگ کو چھیڑا جائے۔ داعش کی افغانستان میں تشکیل اور بقول سابق افغان صدر حامد کرزئی امریکی سرپرستی میں ان کا پھلنا پھولنا نئی جنگ کے میدان اور حدود اربعہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ عراق اور شام کی مانند اگر افغانستان میں بھی داعش کی طرح کوئی گروہ قوت و طاقت پکڑتا ہے تو اس کی کارروائیوں کے اثرات خطے کے ہمسایہ ممالک، یہاں کی معاشی سرگرمیوں اور ترقی پر یقینا پڑیں گے۔ امریکہ اس خطے کی اہمیت کے مدنظر یہاں سے انخلاء کے ارادے کو ترک کر چکا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ یہاں اپنی موجودگی کو بدستور قائم رکھے۔ اس سلسلے میں اسے ہندوستان اور افغانستان میں موجود بعض عناصر کی مدد بھی حاصل ہے۔ پاکستان سے وہ چاہتا ہے کہ اگر وہ اپنے معاشی مسائل سے نکلنا چاہتا ہے تو چین و روس کے بجائے ہمارا ساتھ دے۔

مگر اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔ پاکستان نے بھی امریکہ سے اتحاد کے اپنے نصف صدی سے زائد کے تجربہ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ شام اور عراق کے قضیہ میں روس اور چین کے فعال کردار اور دہشت گردی کی بیخ کنی میں ان ممالک کی سنجیدگی نے عالمی منظر نامے میں ان کے کردار کو واضح کر دیا ہے، اس پر امریکی ذمہ داران کا پاکستان کے بارے تحکمانہ رویہ امریکہ کے مسائل کو گھٹانے کے بجائے بڑھائے گا۔ اسی بات کا اظہار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود نے بھی کیا کہ پاکستان کو یہ بات سمجھ جانا چاہیے کہ امریکی امداد اب ماضی کا قصہ ہے۔ اب اسے اپنے وسائل خود سے تخلیق کرنے پر دھیان دینا ہوگا۔ امریکی دھمکیوں اور کولیشن فنڈ کو روکے جانے کے بعد مختلف شعبہ جات بالخصوص عسکری میدان میں خود انحصاری کی منزل کو پانا ایک کٹھن تاہم ناگزیر ضرورت ہے، جس کو نہایت دانشمندی اور حوصلے کے ساتھ پورا کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال ہمیشہ کی طرح آج بھی پاکستان خطے میں ایک نہایت مضبوط حیثیت کا حامل ملک ہے، ہمارا داخلی اتحاد، استقلال اور مضبوط جمہوری ادارے عالمی سطح پر پاکستان کی ایک مقتدر ریاست کی حیثیت سے پیشرفت کو موثر طریقے سے رو بہ عمل لاسکتے ہیں۔ امریکی احکامات پر من و عن عمل کے بجائے آج اختیار کی جانے والی روش یقیناً امریکی اداروں کے لئے ایک واضح پیغام ہے۔ امریکی یقیناً نہیں پسند کریں گے کہ خطے کا ایک اہم اتحادی یوں آسانی سے ان کے ہاتھ سے نکل جائے، تاہم اگر انہوں نے اپنی اس تحکمانہ روش کو برقرار رکھا تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان اس کا اتحادی نہیں رہ پائے گا۔ امریکہ کو یہ باور کر لینا چاہیے کہ اسے اب خطے میں پولیس مین کا کردار ترک کرنا ہوگا، اسے یہ بھی جان لینا چاہیے کہ بھارت یقیناً خطے میں ابھرتی ہوئی ایک طاقت ہے، تاہم چین، روس، ایران وسطی ایشیاء کی ریاستوں میں مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں، جس کا اندازہ یقیناً بھارت کو بھی ہوگا۔

بشکریہ اسلام ٹائمز