پاکستان کیخلاف امریکہ کہاں تک جائیگا؟

تحریر: ثاقب اکبر

یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب امریکہ نے پاکستان کے خلاف قدم بہ قدم اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ فی الحال اب تک کا آخری قدم یہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی سکیورٹی امداد روک دی ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ کے محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اس کی تمام سکیورٹی امداد روک رہی ہے۔ محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ جب تک اسلام آباد حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کرتا، پاکستان کی امداد کا سلسلہ منجمد رہے گا۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ امداد 1.1 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی ہے، جو سکیورٹی امور میں تعاون کے لئے دی جانا تھی۔ اس سے پہلے کولیشن سپورٹ فنڈ کے 255 ملین امریکی ڈالر کی امداد روکی جا چکی ہے۔ ایک نئے اقدام کے طور پر امریکہ نے پاکستان کا نام خصوصی واچ لسٹ میں بھی ڈال دیا ہے، جس کے مطابق امریکہ کے نزدیک پاکستان مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیاں کرنے والے ممالک کی خصوصی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری لسٹ کے مطابق بین الاقوامی مذہبی آزادی 1998ء کے قانون کے تحت بنائی جانے والی لسٹ کو دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے، جس میں وہ ممالک شامل ہیں، جہاں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ ان ممالک میں برما، چین، ایران، شمالی کوریا، سوڈان اور سعودی عرب وغیرہ بھی شامل ہیں۔ امریکی صدر نے ایک اور ٹویٹ میں 2018ء کے آغاز میں لکھا کہ امریکہ نے پندرہ سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر بطور امداد دے کر بے وقوفی کی، انہوں نے ہمیں سوائے جھوٹ اور دھوکے کچھ نہیں دیا۔ وہ ہمارے راہنماؤں کو بے وقوف سمجھتے رہے۔ وہ ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں، جن کا ہم افغانستان میں تعاقب کر رہے ہیں۔


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو کچھ اس ٹویٹ میں کہا ہے، اس میں کچھ الفاظ تو نئے ہیں، لیکن مجموعی طور پر وہ پاکستان کے خلاف یہی الزامات پہلے بھی لگا چکے ہیں، جب انہوں نے جنوبی ایشیاء کے بارے میں امریکہ کی نئی حکمت عملی بیان کرتے ہوئے پہلا خطاب کیا تھا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ قدم بہ قدم پاکستان کے خلاف اپنے طے شدہ منصوبے کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔ سو سوالوں کا ایک سوال یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف امریکہ کہاں تک جائے گا؟ اس سلسلے میں مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے سے پہلے یہ بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ 4 جنوری 2018ء کو وزیر دفاع خرم دستگیر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خود بھی اس حوالے سے کہا کہ امریکہ کوئی غیر معمولی حرکت نہ کر دے، اس کا ہمیں خدشہ ہے، تاہم امریکی ردعمل کے لئے ہم مکمل تیار ہیں۔ مختلف تجزیہ کار اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے خلاف کیا کیا اقدامات کرسکتا ہے، تاہم امریکہ نے خود جو کچھ کہہ رکھا ہے، اس کے مطابق وہ پاکستان کے اندر نئی فوجی مداخلت کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ مداخلت ڈرونز کے حملوں میں اضافے کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے، جیسا کہ امریکہ خود اس کا عندیہ دے چکا ہے۔ اس کے بارے میں ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ کیا یہ ڈرون حملے غیر بندوبستی قبائلی علاقوں تک محدود رہیں گے یا پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی کئے جاسکتے ہیں۔ ریکارڈ کے طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ امریکہ پہلے بھی پاکستان کے غیر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرچکا ہے۔ چنانچہ خیبر پختونخوا کے علاوہ بلوچستان میں بھی امریکی ڈرونز نے متعدد حملے کئے ہیں۔ 2016ء مئی میں صوبہ بلوچستان ضلع نوشکی میں بھی ایک ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور اختر ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے پر پاکستان نے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

پاکستان ڈرون حملوں کے خلاف کئی مرتبہ امریکہ سے احتجاج کرچکا ہے۔ پاکستان کے مطابق امریکی ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت، جغرافیائی خود مختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں، جو تمام رکن ممالک کی سرحدی خود مختاری کی ضمانت دیتا ہے۔ یکم جنوری 2018ء کو جاری ہونے والے امریکی صدر کے ٹویٹ کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے بھی پاکستانی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر کو طلب کرکے امریکی صدر کے ٹویٹ پر شدید احتجاج کیا۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ میں امریکی سفیر کو طلب کرکے کسی مسئلے پر احتجاج کیا جائے۔ کیا امریکہ کی پاکستان کے خلاف کارروائیاں ڈرون حملوں تک محدود رہیں گی یا امریکہ کوئی اور اقدام بھی کرسکتا ہے، اس سلسلے میں گذشتہ دنوں پاکستان کی سینیٹ کے بعض اراکین نے اس احتمال کا اظہار کیا تھا کہ امریکہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف کوئی ایسی ہی کارروائی کرسکتا ہے، جیسی اس نے ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف کی تھی۔ یاد رہے کہ اسامہ بن لادن کے سر کی قیمت امریکہ نے 2.5 کروڑ امریکی ڈالر مقرر کر رکھی تھی، جبکہ حافظ سعید کے سر کی قیمت 1 کروڑ امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں جماعت الدعوۃ کے خلاف جو مالیاتی فیصلے کئے ہیں، ان کا ایک مقصد امریکہ ہی کو مطمئن کرنا ہے۔ علاوہ ازیں امریکہ پاکستان کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں بھی عائد کرسکتا ہے۔ چنانچہ ایک خبر کے مطابق پاکستان کو فوجی ساز و سامان کی ترسیل پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ پاکستان اپنے اسلحہ جات کی مرمت اور پرزوں کی فراہمی کے لئے امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

امریکہ کی آشیر باد پر بھارت بھی پاکستان کے خلاف کوئی انہونی کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں خود بھارتی سیاسی اور عسکری قیادت پاکستان کو کئی طرح کی دھمکیاں دے چکی ہے۔ بھارت پہلے ہی دعویٰ کرچکا ہے کہ اس نے پاکستانی کشمیر میں اسٹریٹیجیکل اسٹرائیک کی ہے۔ وہ آئندہ بھی ایسی اسٹرائکس کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ پاکستان نے اگرچہ ماضی میں ایسی کسی کارروائی کی نفی کی ہے، تاہم بھارت مستقبل میں اس طرح کا کوئی اقدام کرسکتا ہے بلکہ بعض فوجی مبصرین کی رائے یہ ہے کہ وہ اس سے وسیع تر اقدام سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ یقینی طور پر اسے ایسے کسی اقدام میں امریکہ کی حمایت حاصل ہوگی۔ پاکستان کی شمال مغربی سرحد بھی پہلے سے زیادہ غیر محفوظ دکھائی دیتی ہے، جہاں دوسری طرف افغانستان میں داعش کا اثرونفوذ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ امریکہ مشرق وسطٰی میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مدد سے کارروائیاں کرتا چلا آیا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے اپنے تجربات کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ اپنی یا نیٹو کی بھاری بھر کم فوج رکھنے کے بجائے دہشت گرد گروہوں سے کام لے۔ یہ طریق کار سستا بھی ہے اور دام ہم رنگ زمین بھی ہے، کیونکہ ان تمام دہشت گردوں کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور وہ اسلامی خلافت کے احیاء کے لئے نبرد آزما ہیں۔ اس طرح جنگ بظاہر مسلمان مسلمان کے مابین دکھائی دیتی ہے اور امریکہ خود دہشت گردی کو روکنے کے عنوان سے اپنا کردار ادا کرتا رہتا ہے۔ پاکستان کے پاس اس ساری صورت حال میں کیا آپشنز ہیں اور وہ کس طرح سے امریکہ کے جارحانہ منصوبوں کا راستہ روک سکتا ہے۔ اس حوالے سے بہت سی باتیں سامنے آچکی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

بشکریہ اسلام ٹائمز