امریکہ کو پاکستان کے حوالے سے جلدی کیا ہے؟1

تحریر: ثاقب اکبر

ڈونلڈ ٹرمپ عالمی سطح پر امریکہ کے حوالے سے ”جلدی“ کی علامت بن گئے ہیں۔ مشرق وسطٰی میں امریکی اقدامات، بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ، شمالی کوریا کو تباہ کرنے کی دھمکی اور جنوبی ایشیا کے بارے میں نئی پالیسی کے بعض اہم نکات اسی امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ جلدی میں ہے، لیکن یہ جلدی پاکستان کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی سر چڑھ کر بولنے لگی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کے بارے میں پالیسی کے بارے میں بعض ماہرین کی رائے یہ ہے کہ وہ جوہری طور پر تو وہی ہے، جو باراک اوباما کے دور میں تھی، البتہ موجودہ امریکی صدر اور دیگر راہنماﺅں کا لہجہ قدرے بدلا ہوا ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے، لیکن امریکہ کی نئی اعلان شدہ حکمت عملی میں کچھ امور اضافی بھی ہیں۔ لہجے کے حوالے سے بھی ایک مثال قابل غور ہے۔ ہمارے ہاں لاہور اور بعض دیگر شہروں میں بہت قریبی دوست اظہار محبت کے لئے بھی گالیوں کا استعمال کرتے ہیں، بلکہ کہا جاتا ہے کہ جو دوست آپس میں زیادہ بے تکلف ہوتے ہیں، وہ زیادہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ غصے کے موقع پر بھی گالیاں یہی دی جاتی ہیں، صرف لہجہ بدلا ہوا ہوتا ہے۔ امریکہ چند ہفتوں بلکہ دنوں سے پاکستان کے بارے میں تند تر رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امریکہ کو ان چند ہفتوں میں عالمی سطح پر کئی محاذوں پر خفت اٹھانا پڑی ہے۔ شام کی جنگ امریکی منشاء کے خلاف ختم ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ ساری دنیا یہ حقیقت جان چکی ہے کہ شام میں داعش کو شکست امریکہ نے نہیں دی بلکہ شامی افواج نے روس، ایران اور حزب اللہ جیسے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اسے شکست دی ہے، بلکہ امریکہ نے داعش کو جس طرح وسائل فراہم کئے، کمک مہیا کی اور آخرکار اس کے اہم کمانڈروں کو وہاں سے نکالا اس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ شام میں امریکہ کا اصلی کردار کیا تھا۔

یہی حال عراق میں بھی ہوا۔ وہاں بھی داعش کی شکست میں امریکہ کا کردار اہم نہیں رہا بلکہ ایران کا کردار نمایاں رہا۔ اس کے بعد کردستان کی علیحدگی کا منصوبہ بھی ناکام ہوگیا اور بغداد حکومت زیادہ طاقت کے ساتھ ابھر کر سامنے آئی ہے۔ یہاں تک کہ اب شام کے بعد عراق سے بھی امریکی افواج کے نکلنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ آخری معاملہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کا سامنے آیا، جس کے خلاف پوری دنیا ہم آواز ہوگئی۔ امریکہ کے یورپی اتحادی بھی اس کے سامنے آکھڑے ہوئے۔ صدر ٹرمپ کی کھلے عام دھمکیوں کے باوجود اسرائیل کے علاوہ صرف سات ایسے ملکوں نے امریکہ کا ساتھ دیا جن کی عالمی سیاست میں کوئی اہمیت نہیں۔ امریکہ جسے زعم ہے کہ وہ بلاشرکت غیرے اب دنیا کا مالک و مختار ہے، اسے اپنی عالمی دھاک کو برقرار رکھنے کا مسئلہ درپیش ہے۔ اس کا احساس ان چار بنیادی نکات میں بھی جھلکتا ہے، جو امریکہ کی نئی حکمت عملی میں بیان کئے گئے ہیں۔ انہیں صدر ٹرمپ کے چار ستون قرار دیا جاتا ہے۔ ان میں امریکی سرزمین کا دفاع، امریکی خوشحالی کا فروغ، طاقت کے ذریعے امن کا مظاہرہ اور امریکی اثرات میں اضافہ شامل ہے۔ پاکستان کے بارے میں امریکی راہنماﺅں کے بیانات میں یہی ستون جھلکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کی وضاحت امریکی پالیسی میں مختلف پہلوﺅں سے دکھائی دیتی ہے، مثلاً چین اور روس کو صدر ٹرمپ نے امریکہ کے معاشی غلبے میں حائل ممالک قرار دیا ہے، جبکہ پالیسی ڈاکومنٹ میں جنوبی ایشیا میں بھارت کو قائدانہ کردار سونپنے کا ذکر موجود ہے۔

اس دستاویز میں چھ جگہ بھارت کا براہ راست ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی جگہ یہ کہا گیا ہے کہ ہم انڈیا کا اہم عالمی قوت کے طور پر ابھرنے اور اپنے اہم سٹرٹیجک اور دفاعی شراکت دار کے طور پر خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم جاپان، آسٹریلیا اور انڈیا کے ساتھ چہار رخی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ مزید یہ کہ امریکہ کے بڑے دفاعی پارٹنر انڈیا کے ساتھ اپنے دفاعی اور سکیورٹی کے تعاون میں توسیع لائیں گے اور ہم علاقے میں انڈیا کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ہے کہ ہم انڈیا کے ساتھ اپنی اسٹرٹیجک شراکت داری کو مضبوط کریں گے اور بحر ہند کے ساتھ وسیع تر علاقے میں انڈیا کی سربراہی کی حمایت کریں گے۔ اسی طرح دیگر پہلوﺅں سے بھی اس دستاویز میں بھارت کا ذکر آیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے 22 اگست 2017ء کو جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنی پہلی تقریر میں افغانستان کی ترقی میں بھارت کے کردار کی بھی تعریف کی اور ان پر زور دیا کہ وہ اقتصادی اور مالی طور پر بھی افغانستان کی مدد کریں۔ دوسری طرف پاکستان کے خلاف صدر ٹرمپ ہوں یا نائب صدر مائیک پینس یا وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن ان کے لہجے میں جارحیت واضح طور پر جھلکتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی تقریر میں پاکستان کے حوالے سے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ جوہری ہتھیار یا ان کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ انہوں نے کہا کہ 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں کام کر رہی ہیں، جو کہ دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سے شراکت داری پاکستان کے لئے بہت سود مند ثابت ہوگی، لیکن اگر مسلسل وہ دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنے ملک سے ان تمام شرانگیزوں کا خاتمہ کرے، جو وہاں پناہ لیتے اور امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں، لیکن وہ دوسری جانب انہی دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں، جو ہمارے دشمن ہیں۔

19 دسمبر2017ء کو امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کو ہدف تنقید بنایا ہے اور پاکستان سے ڈومور کا تقاضا کیا ہے۔ وائٹ ہاﺅس سے 68 صفحات پر مشتمل قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی جاری کی گئی ہے۔ اس میں پاکستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہم پاکستان پر اس کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جاری کوششوں میں تیزی لانے کے لئے دباﺅ ڈالیں گے، کیونکہ کسی بھی ملک کی شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے لئے حمایت کے بعد کوئی بھی شراکت باقی نہیں رہ سکتی۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم ایک مستحکم اور خود مختار افغانستان چاہتے ہیں اور ایک ایسا پاکستان جو اسے غیر مستحکم کرنے میں ملوث نہ ہو۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ پاکستان مسلسل اس بات کا ثبوت دیتا رہے کہ وہ اپنے جوہری اثاثوں کا محافظ ہے۔ اس دستاویز اور امریکی راہنماﺅں کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کے لئے انۃوں نے ان دو نکات کو بنیاد بنایا ہے:
1۔ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔
2۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کے غیر محفوظ ہاتھوں میں جانے کا خطرہ موجود ہے۔
علاوہ ازیں امریکہ سی پیک پر بھی اپنے تحفظات کا مختلف مواقع پر اظہار کر چکا ہے۔ اس ساری صورت حال کا پاکستان کے دفاعی اداروں کو پوری طرح اندازہ ہے۔ حکومت پاکستان کے متعلقہ حلقے بھی معاملے کی سنگینی کو جانتے ہیں۔ وہ اس سلسلے میں کیا حکمت عملی بنا رہے ہیں، ان کے پاس کیا متبادل راستے موجود ہیں، پاکستان کے اندر اور باہر سے کس طرح کے خطرات اس ملک کو درپیش ہیں، ان سوالات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔