ایران ترکی روابط میں نیا ابھار

ثاقب اکبر

ایران اور ترکی کے مابین تاریخی طور پر اتار چڑھاﺅ آتا رہا ہے۔ تاہم جدید تاریخ میں 22اپریل1926 کو ایران اور ترکی کے مابین دوستی کا پہلا معاہدہ ہوا، اس پر تہران میں دستخط کیے گئے۔دوستی،غیر جانبداری اور ایک دوسرے کے خلاف عدم جارحیت اس معاہدے کے اصول قرار پائے۔ اس معاہدے میں طے پایا کہ دونوں ملکوں میں موجود ایسے عناصر کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جاسکے گی جو حکومتوں کے خلاف مصروف عمل ہوں اور امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہوں۔ دونوں ملکوں کو اس وقت بھی داخلی طور پر کرد اقلیتوں سے مسائل درپیش تھے۔ 2جولائی 1934کو رضا شاہ پہلوی نے مصطفی کمال اتاترک کی دعوت پر ترکی کا دورہ کیا،فوجی سربراہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ انھوں نے ترکی کے مختلف علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اسی دوران میں وہ مصطفی کمال کے جدید ریفارمز سے بہت متاثر ہوئے۔ کہا جاسکتا ہے کہ ایران کو ایک سیکولر ریاست بنانے کا فیصلہ ایرانی بادشاہ نے اسی دورے کے دوران میں کیا۔ اگست 1955میں سینٹو کا معاہدہ عمل میں آیا جس میں ایران ،ترکی ،عراق ،پاکستان اور برطانیہ شامل تھے۔ اس معاہدے کو برطانوی سرپرستی میں ایک فوجی معاہدہ سمجھا جاتا ہے۔ بہرحال پہلی مرتبہ پاکستان بھی علاقے کے ان ممالک کے ساتھ ایک اتحاد میں شریک ہو گیا۔ یہ معاہدہ اس امر کی بھی غمازی کرتا ہے کہ اس کے رکن ممالک سوویت اشتراکیت کے مقابلے میں یکسو ہو گئے تھے۔ جولائی1964میں ترقی کے لیے ایک علاقائی تعاون کے عنوان سے ایران،ترکی اور پاکستان کے مابین ایک نیا معاہدہ طے پایا جسے آرسی ڈی (Reginal Cooperation for Development) کہتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت جنرل ایوب خان کی حکومت تھی۔ تینوں ملکوں کے مابین دوستی کا یہ سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔

1979میں ایران میں انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران اور ترکی کے مابین تعلقات سرد مہری کا شکار ہو گئے۔ اس کی کئی ایک بنیادی وجوہات تھیں۔ ایک تو ایران اور مغرب کے مابین اس انقلاب کے بعد تعلقات بہت کشیدہ ہو گئے تھے۔ امریکہ اور ایران کے سفارتی تعلقات ختم ہو گئے۔ ایران پر امریکہ نے اقتصادی اور فوجی پابندیاں عائد کردیں۔ ایران نے شاہ کے دور میں اسرائیل سے قائم سفارتی تعلقات ختم کرکے اس کے سفارت خانے کی عمارت فلسطین کی الفتح تنظیم کے حوالے کردی جب کہ ترکی ایک عرصے سے یورپی یونین کی رکنیت کے لیے تگ و دو کررہا تھا۔ ترکی امریکی قیادت میں قائم فوجی اتحاد ناٹو کا بھی رکن تھا۔ اس کے اسرائیل سے بھی سفارتی، اقتصادی اور فوجی تعلقات قائم تھے۔ ایسے میں ترکی اور ایران کے پہلے سے تعلقات قائم نہ رہ سکتے تھے۔ بعد ازاں مشرق وسطی میں اسلامی بیداری یا عرب بہار شروع ہوئی تو کئی مقامات پر ایران اور ترکی مخالف کیمپ میں دکھائی دیے۔

شام کے مسئلے میں ترکی اور ایران ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں۔ ایران بشارالاسد کی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے جب کہ ترکی مخالف گروپوں کو ہر طرح کی مدد فراہم کرتارہا ہے جو بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے نبردآزما ہیں۔ شام کے قضیے میں امریکہ اور علاقے کے عرب ممالک تو روز اول سے بشار مخالف گروہوں کے پشت پناہ ہیں البتہ روس بھی بعد میں ایران کی کوششوں سے اس معرکے میں شامل ہو گیا۔ روس کی شمولیت نے شامی مسئلے کی کایا پلٹنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ روس کے آنے سے ترکی اور روس کے مابین تلخی پیدا ہو گئی۔ یہ تلخی اس وقت اپنے عروج کو پہنچ گئی جب ترکی نے ایک روسی طیارہ مار گرایا۔ اس کے بعد روس نے سخت ردعمل کیا اور ترکی پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کردیں۔ بالآخر ترکی اور روس کے مابین یہ مختصر سرد جنگ ختم ہو گئی۔ شام کے مسئلے میں ایران ، روس اور ترکی نے کئی ایک مشترکہ نشستیں منعقد کیں جن میں شامی حکومت کے نمائندے اور اپوزیشن کے نمائندے شریک ہوئے۔ یہ پیش رفت ظاہر کررہی تھی کہ شام کے داخلی معاملات میں امریکی طرز عمل سے ترکی کو کچھ شکایات پیدا ہو گئی ہیں۔ یہ شکایات اس وقت طشت ازبام ہوگئیں جب امریکہ نے شامی کردوں اور بعض عرب جنگجوﺅں پر مشتمل حکومت مخالف ایک نیا گروہ تشکیل دیا۔ ترکی نے اس پر شدید اعتراض کیا، ترکی سمجھتا ہے کہ شام میں کردوں کو اسلحہ اور طاقت فراہم کرنے سے ترک علاقوں میں کردوں کو بھی شہہ ملے گئی جو پہلے ہی مرکزی حکومت کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ ابھی شام کا مسئلہ جاری تھا کہ عراقی کردستان کا مسئلہ زیادہ طاقت سے اٹھ کھڑا ہوا اور عراق کے نیم خود مختار کرد علاقوں میں کرد راہنما بارزانی نے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کی تاریخ کا اعلان کردیا۔

دوسری طرف جوں جوں وقت گزر رہا ہے یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کا امکان کم ہوتا جارہاہے۔ ماضی قریب میں فرانس کے ایک سابق صدر جو یورپی یونین کے سربراہ تھے،نے واضح طور پر کہا کہ یورپی یونین ایک کرسچین اتحاد ہے اس میں ترکی کو رکنیت نہیں دی جاسکتی۔ ترکی کے سابق وزیراعظم اربکان، جنھیں رجب طیب اردغان کا سیاسی استاد بھی کہا جاسکتا ہے، نے یورپی یونین کے متبادل کے طور پر بڑے اسلامی ممالک کے اقتصادی اتحاد کے قیام کے لیے تگ و دو شروع کردی تھی۔ آج پھر ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے راستے میں نئی مشکلات حائل ہو گئی ہیں۔چنانچہ جرمن چانسلر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اکتوبر میں یورپی یونین کے اجلاس میں دیگر اراکین سے مشورہ کریں گی اور وہ اس بات پرزور دیں گی کہ ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت نہ دی جائے جب کہ اشپیگل ویکلی سے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ترک صدر اردغان نے کہا ہے کہ اگرچہ یورپی یونین سے مذاکرات جاری رہیں گے تاہم اب ہمیں یورپی یونین کی رکنیت کی ضرورت نہیں رہی۔

اسلامی دنیا اور خصوصاً مشرق وسطی کے مسائل میں پیش آنے والی متعدد تبدیلیوں نے ایران اور ترکی کو مزیدقریب کردیا ہے۔قطر میں پیش آنے والے حالیہ واقعات بھی ان تبدیلیوں کا حصہ ہیں جو ایران اور ترکی کو ایک دوسرے سے قریب کررہی ہیں۔ روایتی طور پر قطر اور ترکی مصر کی اخوانی حکومت کی حمایت کرتے رہے ہیں جب کہ قطر خلیج تعاون کونسل کے بنیادی اراکین میں بھی شامل ہے جو ایران کے خلاف خلیج کی عرب ریاستوں کا اتحاد سمجھا جاتا ہے اور جو ایران ،عراق آٹھ سالہ جنگ کے دوران میں عراق کی صدام حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔جب سعودی عرب کی قیادت میں چند عرب ممالک نے قطر پر پابندیاں عائد کردیں، قطر کے لیے یہ سخت مشکلات کے دن تھے۔ ان دنوں میں ایران اور ترکی نے قطر کی مدد کی۔ ترکی کے لیے قطر تک زمینی رسائی ایران کے راستے ہی ممکن تھی جس کی ایران نے اجازت دے دی۔ اس طرح ترکی کا قطر کے لیے سامان زمینی راستے سے ہوتا ہوا اب ایرانی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے جہاں سے اسے قطر بھجوایا جاتا ہے۔یوں خطے کے ایک اور اہم مسئلے نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب ترکردیاہے۔

اس وقت ایران اور ترکی کے مابین روابط ایک نئی بلندیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کردار عراقی کردستان میں منعقد ہونے والا ریفرنڈم ہے جس نے علاقے کے تمام ممالک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کردعراق،شام،ایران اور ترکی میں بستے ہیں۔ سب سے زیادہ کردوں کی تعداد ترکی میں ہے اور تاریخی طور پر سب سے زیادہ مشکلات بھی کردوں سے ترکی ہی کو رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔ اگر عراق کردستان کے نام پر تقسیم ہو جاتا ہے تو علاقے کے تمام ممالک کی تقسیم کی طرف اسے ایک مرحلہ سمجھا جائے گا۔ لہٰذا ایران اور ترکی کی حساسیت اس مسئلے میں قابل فہم ہے۔ ایران اور ترکی کی فوجی سطح پر باہمی پیش رفت کو اس تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس ضمن میں یہ مسئلہ بھی قابل ذکر ہے کہ دنیا میں اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس نے علانیہ طور پر عراقی کردستان کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کی حمایت کی ہے جس پر ترک صدر اسرائیل سے احتجاج بھی کر چکے ہیں۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ کردستان کے مسئلے میں ترکی اور اسرائیل کے مابین تعلقات میں بھی ایک دراڑ پیدا کردی ہے۔ترکی اور ایران کی سیاسی اور فوجی قیادت کے مابین روابط ان دنوں بہت فعال ہو چکے ہیں۔ ترکی کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل حلوصی آکار نے 2اکتوبر2017کو ایران کا دورہ کیاہے۔ اس دورے میں ان کی ایرانی صدر ڈاکٹر روحانی، آرمی چیف جنرل محمد باقری اور دیگر راہنماﺅں سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔ اس سے پہلے جنرل باقری انقرہ کا دورہ کر چکے ہیں۔ ایرانی صدر ڈاکٹر روحانی نے بھی حال ہی میں ترکی کا دورہ کیا ہے۔ ترک صدر بھی جلد تہران پہنچنے والے ہیں۔جنرل باقری نے اس موقع پر کہا کہ آج کے بعد سے ایران اور ترکی سرحدوں کی سلامتی کے لیے وسیع تر تربیتی تعاون کریں گے اور مشترکہ فوجی مشقیں بھی ہوں گی۔دونوں راہنماﺅں نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عراقی کردستان کے معاملے پر دونوں ملکوں کا موقف یکساں ہے، ہم عراق کی سالمیت اور وحدت کی حمایت کرتے ہیں اور علیحدگی کے لیے منعقدہ ریفرنڈم کوکسی صورت میں قبول نہیں کرتے۔

جنرل باقری نے مزید کہا کہ ہم نے دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے مابین تعاون، دیگر مسلمان ملکوں کے ساتھ تعاون اور میانمار کے مسلمانوں کی مدد کے موضوعات پر بات کی ہے اور ہم نے یہ بھی جائزہ لیا ہے کہ آئندہ اس طرح کے واقعات عالم اسلام میں پیش نہ آئیں۔جنرل حلوصی آکار نے اس موقع پر کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ سیاسی و اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے مابین فوجی تعاون میں بھی وسعت پیدا ہو۔ خصوصاً دہشت گردی سے مقابلے اور سرحدی سالمیت کے حوالے سے ہم نے اتفاق رائے کیا ہے۔ترک صدر رجب طیب اردغان نے اپنے آئندہ دورہ ایران کے مقاصد بیان کرتے ہوئے انقرہ میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ عراقی کردستان کی علیحدگی کے لیے منعقدہ ریفرنڈم ہمارے مذاکرات کا اہم ترین موضوع ہوگا۔انھوں نے کہا کہ وہ کامن اسٹرٹیجک کونسل کے اجلاس میں شریک ہوں گے اور اس دورے میں ایرانی رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کریں گے۔ ترک صدر کے اس آئندہ دورہ ایران کو گذشتہ تمام روابط کا حاصل سمجھا جارہا ہے اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے تعلقات بام عروج کی طرف سفر کریں گے۔

ایران اور ترکی کے بڑھتے ہوئے ان تعلقات کے پس منظر میں پاکستان کو بھی اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینا ہے اور طے کرنا ہے کہ وہ دنیا کی نئی صف بندی میں اپنے آپ کو کہاں اور کس طرح سے فٹ کرتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب نیمے دروں نیمے بروں سے کام نہیں چلے گا۔ پاکستان کو پاکستان کے مفاد میں اب نسبتاً جرات مندانہ خارجہ حکمت عملی اختیار کرنا ہی ہوگی۔

بشکریہ تجزیات ڈاٹ کام