ملی یکجہتی کونسل، ایک ایمان افروز نشست

تحریر: ثاقب اکبر

ملی یکجہتی کونسل جو کئی برسوں سے پاکستان میں مسلمانوں کے مابین اتفاق و اتحاد اور اسلامی اقدار کے احیاء کے لئے کوشاں ہے، میں مجھے بھی قاضی حسین احمد مرحوم کے ساتھ اور ان کے بعد بھی مسلسل کچھ کردار ادا کرنے کی توفیق میسر ہے۔ قائدین کی تقریریں سننے اور ان کی باہمی گفتگو میں شریک ہونے کی سعادت بھی حاصل ہوتی رہتی ہے۔ ان میں سے کئی ایک مواقع کو تاریخی اور تاریخ ساز قرار دیا جاسکتا ہے۔ البتہ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ عید کے دوسرے روز 27 جون بروز منگل جماعت اسلامی کے مرکز لاہور میں جو ہنگامی نشست منعقد ہوئی، وہ ہر لحاظ سے ایمان افروز تھی۔ یہ نشست جو ہنگامی تو تھی ہی اور فقط ایک دن کے نوٹس پر طلب کی گئی تھی، عید کے دوسرے دن منعقد ہو رہی تھی، جو یقینی طور پر سال بھر کے مصروف ترین دنوں میں سے سمجھا جاتا ہے اور عام طور پر بہت سے لوگ ان دنوں کو اپنے اہل خانہ کے لئے مختص کرتے ہیں۔ دلوں میں ایمان کی مضبوطی ہی ہو تو امت کے کسی عظیم کام کے لئے لوگ ان دنوں میں گھر سے باہر نکلتے ہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے روحانی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ملی یکجہتی کونسل کے قائدین میں سے جس کے لئے بھی کچھ گنجائش تھی، اس نے اس میں شرکت کے لئے اپنے آپ کو مسئول جانا اور بعض قائدین دور دراز کا سفر کرکے اس میں شریک ہوئے۔



ویسے تو کونسل میں چھوٹی بڑی کم و بیش دو درجن سے زیادہ جماعتیں موجود ہیں۔ تاہم باقاعدہ اجلاسوں میں بھی بعض نمائندگان کسی نہ کسی وجہ سے شریک نہیں ہو پاتے، کیونکہ عموماً قائدین کے اپنے پروگرام پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں اور اس وسیع حلقے میں بڑے پیمانے پر کسی میٹنگ کے لئے ایک تاریخ پر ہم آہنگی پیدا کرنا کارے دارد کا مصداق ہوتا ہے۔ بہرحال لاہور کی اس ہنگامی نشست میں 18 جماعتوں کے قائدین اور نمائندگان شریک تھے اور اسے ہر لحاظ سے ایک بھرپور، اثر آفریں اور بامقصد اجلاس کہا جاسکتا ہے۔ یہ اجلاس ملک میں رمضان المبارک میں ہونے والے دہشت گردی کے ہولناک واقعات اور سانحات پر غور و فکر کرنے اور اس سلسلے میں ملی یکجہتی کونسل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے منعقد ہوا۔ اس میں کوئٹہ، کراچی، پارا چنار اور بعض دیگر مقامات پر دہشت گردی کے غم ناک واقعات کے علاوہ سانحہ بہاولپور بھی زیر بحث آیا۔ اس کی صدارت کونسل کے سیکرٹری جنرل جناب لیاقت بلوچ نے کی۔ اجلاس میں خاص طور پر پارا چنار کا موضوع زیر بحث رہا۔ اس واقعہ پر حکومت کی بے حسی کا سب نے ذکر کیا اور اس کی مذمت کی۔ پارا چنار کے مظلوم عوام جس طرح سے اپنے مطالبات کے حق میں استقامت کے ساتھ اور پرامن طریقے سے دھرنا دیئے بیٹھے تھے، اسے سب نے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان مظلوم لوگوں اور غمزدہ گھرانوں کے لئے جس انداز سے قائدین نے دکھ اور درد کا اظہار کیا، وہ لائق قدر ہے۔ ان کا پرسوز لہجہ ہی زخموں پر مرہم کا کام دے رہا تھا۔

جناب لیاقت بلوچ
جناب لیاقت بلوچ نے عالمی اور مقامی حالات کے تناظر میں اجلاس کے موضوع پر روشنی ڈالی، انہوں نے قطر کے سفارتی بحران پر بھی عالم اسلام میں پھیلے ہوئے اضطراب کا ذکر کیا۔ ہنگو، پارا چنار اور کوئٹہ کے واقعات پر رنج و غم کا اظہار کیا۔ احمد پور شرقیہ کے حادثے پر اظہار افسوس کیا اور اس سلسلے میں ریاستی نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطٰی سے اٹھنے والی لہر اور فرقہ واریت کی ہوا کو روکنے میں ملی یکجہتی کونسل نے ہمیشہ فعال کردار ادا کیا ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر حملے کی بھی انہوں نے مذمت کی اور شہادتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایک ہنگامی اجلاس کے لئے مختصر سے نوٹس پر تشریف لانے والے ملی یکجہتی کونسل کے اکابرین کو خوش آمدید کہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کے مقاصد بیان کرنے کے بعد انہوں نے تمام تنظیموں کے قائدین اور نمائندگان کو یکے بعد دیگرے اظہار خیال کی دعوت دی۔ عمدگی سے سارے اجلاس کو چلایا اور آخر میں میٹنگ کے نتائج اور مشترکہ نکات پڑھ کر سنائے، جس کی تمام حاضرین نے تائید کی۔ اجلاس کے بعد انہوں نے یہی نکات تمام قائدین کی موجودگی میں پریس کے نمائندگان کے سامنے پیش کئے۔ قائدین نے جو گفتگو کی، ہم ذیل میں اس کے اہم نکات قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

جناب ناصر شیرازی
مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جناب ناصر شیرازی نے پارا چنار کی صورت حال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے حالات کی وجہ سے پارا چنار پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کرم ایجنسی پڑھے لکھے لوگوں کا علاقہ ہے، جہاں تعلیم یافتہ افراد کا تناسب 76% ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واحد ایجنسی ہے، جہاں فوج کو کبھی آپریشن کی ضرورت نہیں پڑی بلکہ قبائلی علاقہ ہونے کے باوجود کبھی فوج کو اس کے دفاع کی بھی ضرورت نہیں پڑی۔ انہوں نے کہا کہ جمعۃ الوداع کے موقع پر ہونے والا واقعہ رواں سال میں کرم ایجنسی میں دہشت گردی کا پانچواں بڑا واقعہ ہے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے اس واقعے پر نہ فقط یہ کہ ہمدردی کا کوئی اظہار نہیں ہوا بلکہ کوئی بیان تک نہیں آیا اور کسی حکومتی اہلکار نے ابھی تک وہاں جانے کی زحمت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پارا چنار میں نہ کوئی فرقہ واریت ہے اور نہ کوئی مسلکی اختلاف۔ لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے دورے کی خبر آئی ہے، جو خوش آئند ہے۔

جناب خرم نواز گنڈا پور
پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل جناب خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ حکمرانوں نے اپنے مفادات کی خاطر عوام کو طبقات میں تقسیم کر رکھا ہے۔ انہوں نے ماڈل ٹاؤن سانحہ کو ایک ٹیسٹ کیس قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے ماڈل ٹاؤن میں انسانیت کا قتل عام کیا ہے۔ اس سانحہ کے حوالے سے عدالت میں 243 پیشیاں ہوچکی ہیں اور 126 افسران کو عدالت نے طلب کیا ہے لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی سازش ہے کہ ایک ایک گروہ کو الگ الگ ٹارگٹ کیا جائے، تاکہ عوام کی آواز میں یکجہتی اور اتحاد پیدا نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کا ایک وفد تشکیل دیا جانا چاہیے، تاکہ ہم پارا چنار جا کر وہاں کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کرسکیں۔ اس طرح سے شرپسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ انہوں نے کرم ایجنسی کی جغرافیائی اہمیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس کے قریب ہی داعش نے تورا بورا کے پہاڑی سلسلے میں اپنا مرکز قائم کیا ہے۔ اس مرکز کو مستقبل میں پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، اس لئے کرم ایجنسی اور وہاں کے عوام کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ہمیں ان کی مدد کرنا چاہیے۔

حافظ عبدالرحمن مکی
جماعت الدعوۃ کے نائب امیر پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سانحہ پارا چنار کے مظلوموں کو فراموش کرنے کی کوشش کی، خدا نے سانحہ بہاولپور کے ذریعے خون کے آنسو رلا دیا۔ اگر مظلوموں پر ہونے والے مظالم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں گے تو اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں پائیں گے۔ ہمیں ایران سے توقع ہے کہ وہ امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے کردار ادا کرے گا، سعودی عرب کے علماء کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے حکمرانوں کو اس کا احساس دلائیں۔ حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا کہ ہم داعش پر لعنت بھیجتے ہیں، یہ نہ صرف مسلمانوں کے دشمن ہیں بلکہ اسلام کے بھی دشمن ہیں۔ انہوں نے سوائے مسلمانوں کے قتل و عام کے کچھ نہیں کیا۔ یہ یہود و نصاریٰ کے دوست ہیں۔
حافظ کاظم رضا
اسلامی تحریک پاکستان کے راہنما حافظ کاظم رضا نے کہا کہ عید کے ایام میں تمام قائدین کا اس اجلاس میں آنا، ان کے دلوں میں موجود انسانی ہمدردی کے جذبے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی ہمیں مل کر مذمت کرنا چاہیے۔ اب ظلم و ستم کی انتہا ہوچکی ہے۔ حکومت کی طرف سے خیر کی توقع بے وقوفی ہے۔ ہمیں ٹھوس موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔

پیر ہارون علی گیلانی
ہدیۃ الہادی پاکستان کے سربراہ پیر سید ہارون علی گیلانی نے پارا چنار کے واقعے پر نہایت دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور وہاں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں المناک واقعات رونما ہوچکے ہیں، فقط مذمتی قرارداد اس کے لئے کافی نہیں۔ خیبر پختونخوا میں مشائخ کے مزارات کی بھی بے حرمتی کی گئی ہے۔ ماڈل ٹاؤن کے سانحہ پر بھی انہوں نے دکھ کا اظہار کیا کہ جس میں ابھی تک مظلوموں کی داد رسی نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے ایک اجلاس میں مشترکہ طور پر تحریک چلانے کی بات ہوئی تھی، ہمیں اسی فیصلے پر واپس آنا ہوگا۔ تمام مکاتب فکر کو چن چن کر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ ہم دشمن کی اجتماعی سازش کو سمجھ نہیں پا رہے۔ بلوچستان کا معاملہ انتہائی حساس صورت اختیار کرچکا ہے۔ ہمیں نظام مصطفٰی کے لئے تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔
مولانا عبدالمالک
جمعیت اتحاد العلماء کے امیر مولانا عبدالمالک نے کہا کہ کونسل کی تمام قراردادوں پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔ اسلام کے نفاذ کو ملک میں یقینی بنانے کے لئے تحریک چلانا چاہیے۔ اسلام سے دوری کی بنا پر ہمیں یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ ہمیں دشمنان اسلام کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا چاہیے اور تحریک نظام مصطفٰی کو فعال کرنا چاہیے۔

حافظ ابتسام الٰہی ظہیر
جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلٰی علامہ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کا پلیٹ فارم ایک نعمت سے کم نہیں۔ ہمارا موقف ہمیشہ ٹھوس اور مضبوط رہا ہے۔ پارا چنار کا واقعہ کسی فرقے کے ساتھ زیادتی کا واقعہ نہیں بلکہ یہ پوری امت پر حملہ ہے۔ مسالک کے اختلاف کی بنا پر انسانی حقوق کی پامالی نہیں کی جاسکتی۔ ہمیں ہر طرح کی تفریق ختم کرکے مظلوم انسانیت کا ساتھ دینا چاہیے۔ تمام مسالک کا درد مشترک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلامی ممالک میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کے لئے ہم نے خود ہی راستے ہموار کئے ہیں، ہمیں اپنا سیاسی فیصلہ درست طریقے سے کرنا ہوگا۔ پارا چنار کے واقعہ پر ہمیں یہ پیغام دینا چاہیے اور ثابت کرنا چاہیے کہ یہ شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ساری امت کا مسئلہ ہے۔ اہل تشیع کے ساتھ ہونے والا ظلم و جبر بہت زیادہ قابل مذمت ہے۔ ہم اس ظلم و بربریت کے خلاف ملت جعفریہ کے ساتھ ہیں۔ پارا چنار کا واقعہ صرف اہل تشیع کے خلاف نہیں ہوا، یہ امت مسلمہ کے قلب پر حملہ ہے۔

علامہ ضیاء اللہ بخاری
متحدہ جمعیت اہل حدیث کے سربراہ علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ میں دینی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے امت کا کام اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دینی قیادت کو اسلامی ممالک کا دورہ کرنا چاہیے، تاکہ وہاں پر موجود مسائل کو حل کرنے میں ہم اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ہمیں پاکستان کو مضبوط کرکے دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنے معاملات کو حل کریں۔ انہوں نے سید صلاح الدین کو امریکہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دینے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ داعش مسلمانوں کو بغیر کسی تفریق کے قتل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں حافظ عبدالرحمن مکی کی اس بات کی تائید کرتا ہوں کہ سعودی علماء اپنے حکمرانوں کو سمجھائیں کہ وہ امت کے مفاد میں حالات میں بہتری لانے کے لئے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چاہیے اور قطر کے معاملے کو بھی حل کرنا چاہیے۔
پیر سید حبیب عرفانی
تحریک فیضان اولیاء کے صوبہ پنجاب کے صدر پیر سید محمد حبیب عرفانی نے کہا کہ پاراچنار کے سانحے کا اگر واقعی ہمیں دکھ ہے تو اس کو آج ثابت کریں۔ عملی اقدام کے ذریعے کریں اور اس ہال میں موجود تمام مسالک کے علماء اسی وقت باہر نکلیں اور منصورہ کے باہر پارا چنار کے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کے لئے صرف پندرہ منٹ کا مظاہرہ کریں، تاکہ لوگوں میں یہ پیغام جائے کہ ملی یکجہتی کونسل میں شریک لوگوں کا قول و فعل ایک ہے۔

حافظ عاکف سعید
تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ حافظ عاکف سعید نے اس ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارا چنار، کوئٹہ اور دیگر مقامات پر ہونے والے واقعات کے حوالے سے کہا کہ یہ صدمات ہمارے لئے تکلیف دہ اور ناقابل برداشت ہیں۔ پاکستان اللہ کی غیبی تائید اور رسول اللہؐ کے فیضان سے بنا تھا، لیکن شریعت کا نظام نافذ نہ ہونے کی وجہ سے پورا پاکستان اللہ کے عتاب میں ہے۔ قائداعظم ملک میں خلافت راشدہ کا نظام نافذ کرنا چاہتے تھے، لیکن بعد میں آنے والوں نے ان کے نظریات اور تحریک پاکستان کے شہداء کے خون سے غداری کی۔ ملک میں آج بھی انگریز کا قانون چل رہا ہے۔ انہوں نے بھی پارا چنار اور دیگر مقامات پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر افسوس اور دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے مابین معاملات کو حل کروانے میں ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
حافظ عبدالغفار روپڑی
جماعت اہل حدیث کے سربراہ مولانا حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہا کہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش نے مسلمانوں کا روپ اختیار کر رکھا ہے اور یہ را اور موساد کی آلہ کار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات پر رونا آتا ہے، مسلمانوں کو فرقوں سے نکل کر اسلام کی طرف آنا چاہیے۔ ان سانحات پر ہمیں بہت دکھ اور افسوس ہے۔ ملی یکجہتی کونسل کا کردار قابل تحسین ہے۔ مسلمان ممالک کی دوریاں ختم ہونا چاہئیں اور ہمیں ایک امت کی نظر سے مسائل کو دیکھنا چاہیے۔ فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر اسلام کی آواز کو بلند کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
جماعت اسلامی کے نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن قوتوں کا اصل ہدف دین اسلام اور دین دار طبقہ ہے۔ قومی یکجہتی کے پیغام کو نئی نسل میں منتقل کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر کمپین چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی یا قدرتی آفات کے متاثرین جس بھی صوبہ اور مقام سے ہوں، یکساں حکومتی امداد کا ایک میکانیزم بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور قطر تنازعہ میں ہماری طرف سے یکساں قومی موقف جانا چاہیے اور اس تنازعہ میں ملی یکجہتی کونسل کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر فرید پراچہ نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا یہ بیان قابل توجہ ہے کہ امریکہ اور بھارت کو ایک ہی طرح کی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ انہوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا کے کردار پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ میڈیا کو بھی یکجہتی کے لئے متحرک کیا جانا چاہیے اور اپنے تمام امور کے لئے موثر حکمت عملی اپنانا چاہیے۔
پیر غلام رسول اویسی
تحریک اویسیہ پاکستان کے سربراہ پیر غلام رسول اویسی نے کہا کہ گزرے ہوئے واقعات سے سبق سیکھ کر ہمیں آئندہ کے لئے لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ دینی جماعتوں نے ایسے مسائل میں ہمیشہ فعال کردار ادا کیا ہے۔ البتہ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ دشمن ہمیں اکیلا اکیلا کرکے مارنا چاہتا ہے۔ ملک میں مسجدیں اور امام بارگاہیں محفوظ نہیں ہیں۔ اس کے لئے ہمیں متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے اور عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔

جناب لعل مہدی خان
امامیہ آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل لعل مہدی خان نے کہا کہ ہمیں تحریک نظام مصطفٰی برپا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کا ایک وفد پارا چنار جانا چاہیے اور وہاں کے مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہیے۔ انہوں نے ایسے مسائل میں ملی یکجہتی کونسل کے کردار کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
ڈاکٹر سید محمد نجفی
وفاق المدارس شیعہ کے راہنما ڈاکٹر سید محمد نجفی نے کہا کہ ایسے مسائل پر ہمیں مسلمان اور پاکستانی بن کر سوچنا چاہیے۔ دیگر ممالک کے حالات کو سامنے رکھ کر اپنے معاملات کو طے نہ کیا جائے بلکہ اپنے حالات کی روشنی میں لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
جناب رضی شمسی
امامیہ آرگنائزیشن کے چیئرمین جناب رضی شمسی نے کہا کہ عوام دینی قیادت کی راہ تک رہے ہیں۔ ملی یکجہتی کونسل میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ عوام کی راہنمائی کرے۔ اخبارات سے بھی عوام کو آگاہی نہیں مل رہی، یکجہتی کا پیغام عام کرنا چاہیے۔ عوام کا شعور بیدار کرنے اور ان تک پیغام کی رسائی کے لیے خطباء جمعہ سے رابطہ کرنا چاہیے۔

راقم نے اس موقع پر اپنی مختصر گزارشات میں کہا کہ امریکہ پاکستان کے خلاف چارج شیٹ تیار کر رہا ہے، اسی لئے داعش کو تیار کیا گیا ہے۔ افغانستان میں امریکہ داعش کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر رہا بلکہ افغانستان کے طالبان کو نشانہ بنا رہا ہے، جو اس کے خلاف ہیں۔ داعش کو را اور موساد کا تعاون حاصل ہے۔ جناب حافظ سعید کی نظر بندی کے بعد حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے خلاف اقدامات امریکہ کی مستقبل کی حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہمیں پاکستان کے استحکام اور سالمیت کے لئے لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے۔
قائدین کے ان اظہارات سے ہمارے اس ثاثر کی تائید ہوتی ہے کہ عید کے دوسرے روز 27 جون بروز منگل جماعت اسلامی کے مرکز لاہور میں جو ہنگامی نشست منعقد ہوئی، وہ ہر لحاظ سے ایمان افروز تھی۔ ملی یکجہتی کونسل اسلامیان پاکستان کے جذبات کی نمائندہ اور احساسات کی ترجمان ہے۔ عید کے دوسرے روز اپنی تمام تر ذاتی، جماعتی اور قومی مصروفیات کو ترک کرکے قائدین کا بڑی تعداد میں پارا چنار اور دیگر سانحات کے مظلوموں کے لئے ایک ہنگامی اجلاس میں اکٹھا ہو جانا اس امر کی بھی حکایت کرتا ہے کہ ان کے دلوں میں ان مظلوموں کے لئے کس قدر درد موجود ہے، نیز یہ کہ ملی یکجہتی کونسل کی اہمیت کا احساس ان کے دلوں میں کتنا گہرا ہے اور وہ اتحاد امت کے اس پلیٹ فارم کو کس درجہ اہمیت دیتے ہیں اور ان کی وابستگی مرحوم قاضی حسین احمد کے نظریہ ’’درد مشترک اور قدر مشترک‘‘ سے کتنی مستحکم ہے۔