موصل کی آزادی، داعش کی جعلی خلافت کا خاتمہ

تحریر: ثاقب اکبر

دسمبر 2016ء کے آخر میں تکفیری دہشت گردوں کو حلب میں عبرت ناک شکست ہوئی اور اب جون 2017ء کے آخر میں اس سے بھی بڑی شکست کا سامنا انہیں موصل میں کرنا پڑا ہے۔ موصل عراق میں بغداد کے بعد دوسرا بڑا شہر ہے، جہاں کی نوری مسجد میں داعش کے جعلی خلیفہ ابو بکر البغدادی نے 2014ء میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی عراق کا ایک تہائی حصہ مرکزی حکومت کے ہاتھ سے نکل کر داعش کے ہاتھ چلا گیا۔ شام کا بڑا علاقہ بھی داعش اور دیگر تکفیری گروہوں کے قبضے میں جا چکا تھا۔ چنانچہ داعش ’’دولت اسلامیہ عراق و شام‘‘ کا مخفف ہے۔ شام میں داعش کو پے در پے شکستوں کا سامنا تھا، اس کے بعد 9 ماہ پہلے عراقی مسلح افواج نے عوامی رضا کار فورس جسے الحشد الشعبی کہتے ہیں، کے ساتھ مل کر اپنے سپریم کمانڈر اور عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے حکم پر موصل کی آزادی کے لئے پیش رفت شروع کی، جو بالآخر عظیم کامیابی پر منتج ہوئی۔ اس موقع پر عراقی وزیراعظم نے ملک میں داعش کی نام نہاد حکومت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم داعش کے تمام دہشت گردوں کو ہلاک یا گرفتارکر لیں گے۔ العراقیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ موصل کی قدیم النوری مسجد پر فوج کا کنٹرول اور اس تاریخی مسجد سے دہشت گردوں کی صفائی کا مطلب عراق سے داعش کی باطل حکومت کے خاتمے کا اعلان ہے۔


عراق کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ مسجد النوری کو آزاد کروانے کے آپریشن میں چھے سو سے زائد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ النوری مسجد وہی جگہ ہے، جہاں سے داعش کے سرغنہ ابو بکر البغدادی نے جون دو ہزار چودہ میں اپنی نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا۔ درایں اثناء عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اپنے معمول کے پروگرام کو روک کر قومی ترانے نشر کرکے موصل کی مکمل آزادی کی خبرکا خیر مقدم کیا۔ عراق کی وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ صوبہ نینوا کے صدر مقام موصل سے ہمیشہ کے لئے داعش کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ شہر موصل کا کوئی بھی علاقہ اب داعش دہشت گرد گروہ کے قبضے میں نہیں ہے اور اس دہشت گرد گروہ کی صفوں میں زبردست انتشار پیدا ہوچکا ہے اور وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ موصل کی آزادی کی خبروں کے ساتھ ساتھ شام میں اور عراق کے دیگر تمام علاقوں میں بھی داعش کی تیز رفتار پسپائی کی خبریں موصول ہو رہی ہیں اور داعش اپنے لئے ادھر ادھر پناہ گاہیں ڈھونڈ رہی ہے۔ شام کا دوسرا بڑا شہر حلب جو پہلے ہی سرکاری فوجوں کے قبضے میں آچکا ہے۔ العربیہ کے مطابق اب حلب کے پورے صوبے سے داعش نکل گئی ہے۔ داعش کو شام اور عراق کے بارڈر پر آسانی سے آمد و رفت کی جو سہولت میسر تھی، وہ بھی اب تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ اہم ترین سرحدی پوسٹوں پر دونوں طرف سرکاری دستے آپس میں مل چکے ہیں اور الحشد الشعبی نے اعلان کیا ہے کہ ہم شامی فوجوں کے ساتھ مل کر شام میں بھی داعش کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بعض سرحدی مقامات پر عراق میں داعشی تکفیری دہشت گردوں کی عراق میں نفوذ کی کوششیں الحشد الشعبی نے ناکام بنا دی ہیں۔

اس وقت جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق تکفیری گروہ داعش خود موصل میں اپنی شکست کو قبول کر رہا ہے، مختلف ممالک اور مزاحمتی تحریکوں کی طرف سے عراقی حکومت اور عوام کو مبارکباد کے پیغامات دیئے جا رہے ہیں۔ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے ایک ٹویٹ میں موصل کی آزادی پر عراق کی حکومت اور عوام کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں عراق کے روحانی راہنما آیت اللہ سیستانی کو بھی مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ اس کامیابی نے ایک بار پھر دینی مرجعیت کے مقام کو دنیا کے سامنے واضح کر دیا ہے۔ قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی نے بھی اپنے پیغام میں عراق کی حکومت اور عوام کو موصل کی آزادی پر پیغام تہنیت دیا ہے۔ یمن میں صنعاء کی حکومت کے ترجمان محمد عبدالسلام نے بھی عراق کی حکومت اور عوام کو مباکباد کا پیغام دیا ہے۔ اس کامیابی پر عراق کی پارلیمینٹ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے بہت گہرا تبصرہ کیا ہے۔ بروجردی نے موصل کی آزادی کو عراق کی تقسیم کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سازشوں کی ناکامی قرار دیا ہے۔ علاء الدین بروجردی نے کہا کہ علاقے میں امریکی پالیسیوں کا ایک اصلی محور صہیونی حکومت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکیوں کو سب سے زیادہ تشوش عراق اور شام میں مزاحمتی محاذ کی کامیابیوں اور داعش کی پے در پے شکست سے ہے۔

دریں اثناء عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے اپنے ایک بیان میں عراق کے روحانی راہنما آیت اللہ سیستانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کی فوج کے لئے مسلسل حمایت کی وجہ سے موصل کی آزادی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مرجعیت کے خصوصی کردار نے ملک کے دفاع کے لئے بہت بڑی خدمت کی ہے اور ان کے فتوے کی وجہ سے ملک اور عراقی قوم کو اور اس ملک کے مقدس مقامات کو نجات ملی ہے۔ یاد رہے کہ آیت اللہ سیستانی نے موصل پر داعش کے قبضے کے بعد داعش کے خلاف جہاد کو واجب کفائی قرار دیا تھا اور عوام سے اپیل کی تھی کہ ایک رضا کار فورس کی تشکیل کے لئے اپنے نام لکھوائیں، جس کے بعد تقریباً دو ملین عراقیوں نے اپنے نام لکھوائے تھے۔ اب جبکہ بچے کھچے داعشی چاروں طرف سے الحشد الشعبی کے محاصرے میں ہیں اور کسی بھی وقت ان کے خاتمے کی خبر آیا چاہتی ہے۔ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اپنے قارئین کو یاد دلائیں کہ ہم نے اپنے 16 جون 2014ء کے کالم ’’عراق حقیقی انقلاب کی طرف گامزن ہے‘‘ میں اس عظیم فتح کی نوید سنا دی تھی اور یہ نوید ٹھوس دلائل پر مبنی تھی۔ آیئے قندمکرر کے طور پر اس کا کچھ حصہ اپنا ایمان تازہ کرنے کے لے پڑھتے ہیں۔ ’’اے عراقیو! اٹھ کھڑے ہو اور رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کر دو۔ اس سرزمین پر داعش کے لئے کوئی جگہ نہیں، ہم پوری طاقت سے دشمن کو کچل کر رکھ دیں گے۔ عراق کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے۔ عراق میں سنی اور شیعہ کے مابین کوئی فرق نہیں۔‘‘ یہ عراق کے منتخب وزیراعظم نوری المالکی کی آواز ہے، جو عراقی ٹیلی ویژن پر جمعہ(14 جون 2014) کی دوپہر کو نشر کی گئی۔

امریکہ کی بنائی گئی فوج سے جو توقع تھی، وہ اس نے پوری کر دی۔ اب عراق حقیقی انقلابی اور عوامی فوج کی تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ امریکی جنرل پٹریاس نے سابق سفاک عراقی ڈکٹیٹر کی بعث پارٹی کے 70 ہزار افراد کو تربیت دے کر جو فوج تشکیل دی تھی، اس کی قیادت نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کو جس طرح سے داعش کے درندوں کے حوالے کیا، ان سے عراقی حکومت پر سارے حقائق روشن ہوگئے۔ جب جرنیل ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو سپاہی یا اسیر ہو جاتے ہیں یا گاجر مولی کی طرح کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ داعش سے دوسری صورت حال ہی کی توقع کی جا سکتی تھی۔ بچے کھچے سپاہیوں کا کہنا ہے کہ ہم اپنی ہائی کمان سے مدد طلب کرتے رہے لیکن ہمیں مدد فراہم نہ کی گئی۔ اس وقت سیاسی اور مذہبی راہنماؤں کی اپیل پر عراقی سنی شیعہ عوام باہر نکل آئے ہیں اور دہشت گردوں کے چنگل سے اپنے ملک کا چپہ چپہ چھڑانے اور محفوظ رکھنے کے لئے ہر طرح کی قربانیاں دینے کے لئے کمربستہ ہوچکے ہیں۔ اس وقت تک 15 لاکھ سے زیادہ عراقی عوام رضا کارانہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف جنگ آزمائی کے لئے اپنا نام لکھوا چکے ہیں، جبکہ ذمے دار حکام کا یہ کہنا ہے کہ مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں عوام، رضاکارانہ طور پر اپنا نام لکھوانے کے لئے قطاروں میں لگے ہوئے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے یہ تعداد 15 لاکھ سے بڑھ کر 25 لاکھ ہو جائے گی۔ اس کے لئے حکومت نے بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔

دوسری طرف مختلف شہروں کے عوام نے مالی امداد کے لئے بھی عطیات جمع کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ شیعہ سنی عوام بڑی تعداد میں عطیات تکفیری داعشیوں اور بعثیوں کے خلاف امداد کے طور پر جمع کروا رہے ہیں۔ یہ رقم اب تک سینکڑوں ارب دینار تک جا پہنچی ہے۔ عراق کی قومی سلامتی کے مشیر نے کہا ہے کہ عراقی وزیراعظم نے دہشت گردوں کے خلاف عوامی رضاکار فورس تشکیل دینے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عراق کی قومی سلامتی کے مشیر ’’فالح الفیاض‘‘ نے کہا ہے کہ عراقی وزیراعظم نوری مالکی نے دہشت گرد گروہ داعش سے مقابلے کے لئے باقاعدہ عوامی رضاکار فورس تشکیل دینے کا حکم جاری کیا ہے۔ ایک طرف شیعہ راہنما آیت اللہ العظمٰی سید علی سیستانی نے جہاد دفاعی کا حکم جاری کیا ہے، جسے واجب کفائی قرار دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف معروف اہل سنت عالم دین مفتی امینی نے کہا ہے کہ داعش کے اس گروہ کا اہل سنت والجماعت سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی فوج کہے گی ہم عمامہ اتار کر فوجی کی وردی پہن کر ان دشمنان ملک و ملت سے جہاد کریں گے۔ یاد رہے کہ پہلے ہی 11 اہل سنت علماء کو موصل میں داعشی دہشت گرد اپنی بیعت نہ کرنے پر سفاکانہ طریقے سے قتل کرچکے ہیں، جن میں موصل کی سنی جامع مسجد کے امام بھی شامل ہیں۔

آج یہ بات عراقی قیادت پر واضح ہوگئی ہے کہ 1979ء میں انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے ساتھ ہی امام خمینیؒ نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (Islamic Revolutionry Gaurds Force) کیوں قائم کی تھی۔ امام خمینی جانتے تھے کہ فوج تو شاہی حکومت نے اپنے مقاصد کے لئے قائم کر رکھی تھی اور یہ وہی فوج تھی جس نے شاہ کے حکم پر کئی دہائیاں عوام پر ستم ڈھائے تھے۔ یہ فوج کامل تصفیہ کے بغیر ایک اسلامی انقلابی حکومت کے نہ فقط کسی کام کی نہیں بلکہ اس کے لئے الٹا خطرے کا سبب ہوسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ہی نے ایران کی اسلامی حکومت کا تحفظ کیا ہے اور ساتھ ساتھ فوج کو بھی تعمیر نو کی گئی اور اسے نئے خطوط پر استوار کیا گیا۔ ظالم اور خونی جرنیلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا، وگرنہ یہ فوج 8 سالہ جنگ کو بہت پہلے ہی ہار چکی ہوتی۔ اس جنگ کے دوران ایک روز انقلاب اسلامی کی رضا کار فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بی بی سی نے کہا تھا ’’سپاہ پاسداران اپنی تربیت کی کمی کو اپنے جذبۂ شہادت سے پورا کر رہے ہیں۔‘‘ آج عراق بھی اسی منظر سے گزر رہا ہے۔ عراق کی تشکیل نو ہو رہی ہے۔ امریکہ کی بنائی ہوئی فوج کی جگہ عوامی رضا کار میدان میں آچکے ہیں۔ یہی رضا کار اب داعش کے درندوں سے مقابلے کے لئے روانہ کئے جا رہے ہیں۔ فوج کے اندر چھپے ہوئے بعثی عناصر پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ گویا پورا عراق ایک بھرپور انقلابی صورت حال سے دوچار ہے اور وہ دن دور نہیں جب ایک طاقتور انقلابی اور مستحکم حکومت عراق میں ظہور پذیر ہوگی، جسے پورے عراق کے تمام مذہبی اور علاقائی گروہوں کی حمایت حاصل ہوگی۔